تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دہشت گردی سے اسلاموفوبیا تک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 8 جمادی الاول 1436هـ - 27 فروری 2015م KSA 13:59 - GMT 10:59
دہشت گردی سے اسلاموفوبیا تک

معلوم نہیں کہ انگریزی دان طبقے نے ’’شیطان اور گہرے سمندر کے درمیان لٹکے ہوئے حالات‘‘ کا تصور کہاں سے لیا ہوگا مگر عہد حاضر میں دنیا کے دوسرے بڑے مذہب اسلام سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی واضع اکثریت اپنے آپ کو ’’دہشت گردی‘‘ اور ’’اسلاموفوبیا کے درمیان‘‘ محسوس کرتے ہوئے مذکورہ بالا حالات کی سنگینی کو بخوبی سمجھ سکتی ہوگی۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو امریکی صدر باراک اوباما کے یہ الفاظ بہت اچھے لگتے ہوں گے کہ ’’دہشت گرد عناصر مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتے‘‘ اور ’’متشدد انتہا پسندوں کا کسی بھی مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ ’’دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو مسلمانوں کے خلاف جنگ نہیں قرار دینا چاہئے‘‘اور ’’یہ بہت بڑا جھوٹ ہے کہ مغرب اسلام کے خلاف برسرپیکار ہے‘‘۔

مگر عالمی رائے عامہ کا ایک بہت بڑا حصہ شائد اس سے اتفاق نہیں کرتا اور ان بیانات کو سیاسی بیانات قرار دیتا ہے اور شائد اس نوعیت کے بیانات جاری کرنے والے خود بھی ان بیانات پر یقین نہیں رکھتے ہوں گے۔بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ بالا بیانات ایسے وقت اور سیاسی موسم میں جاری کئے جارہے ہیں جب عالمی دہشت گردی کو برسرعام اسلامی دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے اور ISIS (اسلامک سٹیٹ آف عراق و شام ) کو ’’اسلامی تحریک‘‘ کا درجہ دیا جاتا ہے اور اس تحریک کے خلاف مسلمانوں کے جذبات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ یعنی مسلمانوں کے قول اور فعل کے اندر تضاد کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اسی سیاسی موسم میں نیویارک ٹائمز کے روجر کوہان لکھتے ہیں کہ ’’ایک لمبے محاذ پر عراق اور شام، افغانستان اورپاکستان میں اور یمن میں بھی مغربی دنیا اسلامی دنیا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور مغرب کے خلاف شدید نفرت پالنے والوں کے خلاف اس جنگ میں ناکامی سمیٹ رہا ہے‘‘۔

روجر کوہان یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ کرنا غلط ہوگا کہ مغربی تہذیب کا اسلام سے کوئی تنازعہ نہیں ہے جب کہ کروڑوں مسلمان ان ملکوں میں اس دعویٰ کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ امریکہ کے سابق صدارتی امیدوار سینیٹر جان میکین کا کہنا ہے کہ ’’یہ سوچنا کہ ریڈیکل اسلام مغرب کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا ایک انتہائی بھیانک جھوٹ ہے جس پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔’’ایٹلانٹک‘‘ ماہوار نے اس معاملے میں شدید انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’اسلاموفوبیا‘‘ کی انتہائوں کو چھونے کی کوشش کی ہے اور مسلمانوں سے شدید نفرت کے تحریری مظاہرے کو ’’تحقیقی صحافت‘‘ کا نام دینے کی سعی فرمائی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جو عناصر سرمایہ داری نظام اور سوشلزم کے درمیان ’’سرد جنگ‘‘ سے لطف اندوز ہورہے تھے وہ ان دنوں اپنا سارا زور بیان ’’اسلاموفوبیا‘‘ کی صورت میں استعمال کررہے ہیں۔ ماہوار ’’ایٹلانٹک‘‘ کے GRAEME WOOD اس معاملے میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمانوں میں سے بیشتر ISIS کے خلاف ہوں گے مگر اس سے انکار بھی مشکل ہوگا کہ ISIS اسلام ہے اور اسلام ہی ISIS ہے۔ ووڈ صاحب سے پہلے ’’اسلاموفوبیا‘‘ کی اس نوعیت کی شدت دیکھنے کو نہیں ملتی تھی۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ لوگ جو ذہنی طور پر مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں وہ مسلمانوں کی بے گناہی کی کوئی دلیل بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں کسی ثبوت کو بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ پڑھے لکھے لوگوں کی اس نوعیت کی جہالت پہلے دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔ مہذب معاشروں نے تہذیب سے اس قدر ناراضگی کا مظاہرہ اس سے پہلے نہیں کیا ہوگا۔ آخری تجزیئے سے پتہ چلے گا کہ دہشت گردوں اور ’’اسلاموفوبیا‘‘ کے عارضے میں مبتلا لوگوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے اور جو معاشرے اسلامی سوشلزم اور ہندو سیکولرازم اور جمہوری آمریت کے باہمی تضاد سے خبردار نہیں ہوتے ان سے لبرل انتہا پسندی اور اسلامی دہشت گردی جیسی ناممکنات کو تسلیم کرنے کا اندیشہ بھی ہوسکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند