تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آہ !باغ بیرون موچی دروازہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 10 جمادی الاول 1436هـ - 1 مارچ 2015م KSA 15:17 - GMT 12:17
آہ !باغ بیرون موچی دروازہ

ایک دور تھا کہ یہ کہاوت زبان زد عام تھی کہ سیاسی تغیر و تبدل کے حوالے سے پاکستان کا دل پنجاب ہے، پنجاب کا دل لاہور ہے اور لاہور کا دل موچی دروازہ ہے۔موچی دروازہ لاہور کے 12 دروازوں میں سے تہذیبی، تاریخی، علمی ، تمدنی ، مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے ایک ایسا علاقہ ہے جہاں اصولوں، وضعداریوں اور خالص لاہوری اقدار و روایات کی نشو ونما کا عمل صدیوں سے فروغ پذیر ہے ۔ فصیل کے اندر واقع پرانے لاہور میں موچی دروازہ کو و ہی مقام حاصل ہے جو انسانی وجود میں دل کو حاصل ہوتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس علاقے نے لا تعداد عہد ساز اور تاریخ ساز شخصیات کو جنم دیا ۔ شمس العلما مولانا محمد حسین آزاد نے بھی اپنی زندگی کے آخری ایام اسی علاقے میں بسر کئے۔ اردو زبان کے نامور شاعر ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر بھی اسی علاقہ کے گلی کوچوں میں پل بڑھ کرجوان ہوئے۔ شعر و ادب ، علم و ہنر اور سماج و سیاست کی دنیا کی کئی قد آور شخصیات اسی تاریخی علاقے کے تاریخی ماحول کی پروردہ ہیں۔

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ شہرلاہور کے بارہ دروازے ہیں۔ دروازوں کے اندر واقع لاہور آج بھی بنو عباس کے دور کے بغداد کی طرح عجیب رومانوی ، داستانوی اور طلسماتی روایات کا امین ہے۔ اگر پرانے لاہور کے بارہ دروازوں کے اندر واقع قدیمی شہر کو ایک شخصیت تصور کر لیا جائے تو یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ موچی دروازہ اس شخصیت کے خوبصورت اور حسین و جمیل سراپے میں ایک دلکش چہرے کی حیثیت رکھتا ہے۔اگر آپ اندرون موچی دروازہ سے باہر نکلیں تو آپ کو بائیں ہاتھ بر صغیر پاک و ہند کی سب سے قدیم اور تاریخی جلسہ گاہ ’’باغ بیرون موچی دروازہ‘‘ دکھائی دے گی۔ تحریک آزادی کے دوران برصغیر کا کونسا نامور اور قد آور لیڈر تھا جس نے اس جلسہ گاہ کے سٹیج سے آزادی اور انقلاب کا پیغام نہ دیا ہو۔ یہ جلسہ گاہ محض ایک جلسہ گاہ نہیں بلکہ آزادی، تبدیلی اور انقلاب کا ایک جیتا جاگتا استعارہ تھی۔

ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لعل نہرو، لالہ لاجپت رائے، نواب بہادریار جنگ،مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ظفر علی خان، علامہ مشرقی، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا ابوالحسنات،مولانا داؤد غزنوی، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور اردو زبان کے سب سے بڑے خطیب سید عطا اللہ شاہ بخاری نے قیام پاکستان سے قبل اس جلسہ گاہ میں متعدد مرتبہ زندہ دلان لاہور سے خطاب کیا۔ برصغیر میں یہ ایک عمومی تصوراور تاثر تھا کہ جس تحریک کا آغاز موچی دروازہ سے ہوتا ہے وہ کامیابی و کامرانی سے لازماً ہمکنار ہوتی ہے۔اس تاثر اور تصور کی بنیاد پر ہر بڑا لیڈر باغ بیرون موچی دروازہ کی جلسہ گاہ میں حاضری اور حضوری کو اپنے لئے جہاں ایک جانب اعزاز و افتخار کا باعث سمجھتا تھا وہاں دوسری جانب اسے اپنے مشن کی کامیابی و کامرانی کی ضمانت بھی گردانتا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد وہ کونسا بڑا لیڈر تھا جس نے اس جلسہ گاہ کا رخ نہیں کیا ؟مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح،چوہدری محمد علی،مولانا عبدالستار خان نیازی، حسین شہید سہروردی،آغا شورش کاشمیری ، میاں ممتاز خان دولتانہ،ذوالفقار علی بھٹو، سید مودودی ، جنرل ایوب خان،نوابزادہ نصر اللہ خان، شیخ مجیب الرحمن ،خواجہ رفیق شہید، مولوی فرید شہید، حبیب جالب ، مولانا عبد الحمید خان بھاشانی، مولانا شاہ احمد نورانی، علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید، نواب اکبر خان بگٹی، خان عبدالولی خان، پیر پگاڑا، محمد خان جونیجو، میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹونے بھی مختلف ادوار میں اپنے سیاسی و انتخابی پروگراموں کے لئے رائے عامہ ساز ی کی مہم کا آغاز یہیں سے کیا ۔ یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے پہلے منتخب جمہوری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور میں پنجاب کے گورنر ملک غلام مصطفی کھر نے موچی دروازہ کو سیاسی سرگرمیوں کے لئے ’’علاقہ ممنوعہ ‘‘بنانے کی ناکام کوشش کی۔ پہلے یہ ایک کھلا باغ ہوا کرتا تھا جس کے گرد و پیش کسی قسم کی کوئی چار دیواری اور آ ہنی جنگلہ نہیں تھا۔ کھر صاحب نے اپنے رنگین و سنگین عہد گورنری میں جہاں بہت سے سیاسی رہنماؤں کو نظر بند و پابند کیا وہاں انہوں نے موچی دروازہ باغ کے سیاسی تشخص کو بھی محدود کرنے کی کوشش کی ۔

پابندیوں ، نظر بندیوں ، جکڑ بندیوں کے اسی دور میں آغا شورش کاشمیریؒ نے موچی دروازے کا تشخص مجروح کرنے کی حکومتی کوشش کے خلاف بھرپور صدائے احتجاج بلند کی ۔ پابندیوں کے باوجود انہوں نے موچی دروازہ میں جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا۔ جلسے کے انعقاد کا یہ اعلان کسی دھماکے سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود کھر کو یہ چیلنج دیا کہ وہ موچی دروازہ باغ میں جلسے کا انعقاد کریں گے۔ جب آغا صاحب یہ چیلنج کر رہے تھے تو یہ جناب کھر کی عمر اور سیاست کا عہد شباب تھا۔ جادو کی طرح ان کی جوانی اور حکمرانی ہر سر پر چڑھ کر بولنے کی کوشش کیا کرتی تھی۔ انہوں نے بحیثیت گورنر دھمکی دی کہ’ اگر آغا شورش کاشمیری نے موچی دروازہ میں جلسہ کی کوشش کی تووہ سن لیں کہ حکومت ان پر ہاتھ ڈالنے سے دریغ نہیں کرے گی‘۔ اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تو آغا صاحب نے کھر صاحب کی دھمکی کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا : ’’کھر صاحب! آغا شورش کاشمیری نو بہار ایکٹریس کا دوپٹہ نہیں ہے کہ جس پر کوئی رنگ رنگیلا اور چھیل چھبیلا گورنر جب چاہے ہاتھ ڈال سکے، موچی دروازہ میں جلسہ ہو گا اور ضرور ہو گا‘‘۔۔۔ آخر ایسا ہی ہوا۔ جلسہ کے انعقاد کی شب آئی تمام تر حفاظتی اور حراستی انتظامات کے باوجود زندہ دلانِ لاہور جلوسوں اور ٹولیوں کی شکل میں اندرون شہر کی پیچ دار گلیوں میں سے ہوتے ہوئے پولیس کے حفاظتی دستے کو چکمہ اور غچہ دے کرباغ بیرون موچی دروازہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ آسماں کے ستاروں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ جلسہ ہوا اور کامیاب ہوا۔

1974ء میں خوف و ہراس کے اسی ماحول میں متحدہ حزب اختلاف نے بھی یہاں ایک جلسہ کیا۔ دفعہ 144 بدستور برقرار تھی۔ اصول اور نظریات کی بنیاد پر سیاست کرنے والے بے لوث سیاسی کارکن اپنے سر ہتھیلی پر لے کر جب باہر نکلتے ہیں تو ان کا جنون حکومتوں کی عائد کردہ دفعہ 144 ایسی دفعات کی 144 دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ نواب زادہ نصرا للہ خان اور پیر پگا رو جلسہ گاہ میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ سٹیج پر پہنچے تو جلسہ گاہ میں ہزاروں سیاسی کارکنوں نے پرجوش نعروں اور پرتپاک جذبوں سے ان کا والہانہ استقبال کیا ۔ اس جلسہ سے مختلف مقررین نے خطاب کیا ۔ نوابزادہ مائیک پر آئے تو ابتدائی رسمی اور تعارفی جملے ادا کرنے کے بعد انہوں نے کہا ’’اعلیٰ سطحی حکمران شخصیات نے اس جلسہ میں شامل ہونے سے روکنے کے لئے میرے ساتھ متعدد بارٹیلی فونی رابطے کئے، ان کا اصرار تھا کہ میں اس جلسہ میں شرکت نہ کروں ، میں نے ان کے نادر شاہی احکامات کو ماننے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا‘:

راستے روکے دیتے ہو ویرانوں کے
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند