تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کاش ایسا ہو جائے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 11 جمادی الاول 1436هـ - 2 مارچ 2015م KSA 11:14 - GMT 08:14
کاش ایسا ہو جائے

ایک قومی اخبار میں اتوار کے روز شائع ہونے والی خبر پڑھی تو دل سے دعا نکلی کاش ایسا ہو جائے۔ خبر کے مطابق عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سعودی عرب کے نئے حکمران شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اہم مسلمان ممالک کے سربراہوں کو مشاورت کے لیے جدہ بلا لیا۔ اس سلسلے میں ترک صدر طیب اردگان آج جدہ پہنچ رہے ہیں، مصری صدر سیسی کل سعودی عرب جائیں گے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف کو سعودی رہنما نے ملاقات کے لیے 4 مارچ کو جدہ کے دورہ کی دعوت دی ہے۔ خبر دینے والے سینئیر صحافی اور اخبار کے ایڈیٹر نے لکھا کہ اس مشاورت کے نتیجے میں شاہ سلمان اسلامی سربراہ کانفرنس یا او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس بھی طلب کر سکتے ہیں۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ گزشتہ ایک صدی سے بالعموم اور پچھلی کچھ دہائیوں سے بالخصوص مسلمانوں کو جس ذلت اوررسوائی کا سامنا ہے اُس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ پچاس سے زیادہ مسلم ممالک، ڈیڑھ ارب سے زیادہ آبادی اور بیش بہا قدرتی وسائل اور دولت کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کاجو حال ہے اُس کی مثال کچھ ایسی ہی ہے جیسے ہمارے استحصالی نظام میں اُس طبقہ کی ہے جنہیں کمی کمین سمجھ کر ہر قسم کی زیادتی اور ظلم کا نہ صرف نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ ان کے لیے کوئی عزت نہیں۔ 9/11 کے بعد تو مسلمانوں کے لیے اتنے حالات خراب ہو گئے کہ نہ صرف دہشتگردی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کو جوڑ دیا گیا بلکہ دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے نام پر ایک کے بعد ایک مسلمان ملک کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ اسلامی دنیا کے درمیان ایکا نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف اس جنگ میں مسلمانوں کو ہی استعمال کیا گیا۔ امریکا نے اسامہ بن لادن کے بہانے افغانستان کو تباہ و برباد کیا، وہاں لاکھوں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگا۔ اس کے بعد عراق کو صدام حسین کی آمریت سے آزادی دلانے اور جوہری ہتھیار رکھنے کے جھوٹ کی بنیاد پر، تباہ و برباد کر دیا اور وہاں بھی لاکھوں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ کر امریکا اور اس کے اتحادی عراق سے بے دخل ہوتے ہوئے وہاں داعش کو چھوڑ گئے تا کہ مسلمان ہی مسلمانوں کو مارتے رہیں۔ لیبیا کے کرنل قذافی کے خلاف بھی ایسی ہی سازش کی گئی۔ پہلے قذافی کو اقتدار سے علیحدہ کیا، وہاں خانہ جنگی شروع کروائی، قذافی کو قتل کروایا اور لیبیا کا وہ حال کیا کہ اب لوگ قذافی والے لیبیا کو یاد کرتے ہیں۔

دوستی کے نام پر دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے یہاں بھی بدامنی اور دہشتگردی کو ہوا دی کہ آج پاکستان کی فوج کا سب سے بڑا چیلنچ اندرونی انتشار اور بدامنی ہے۔ شام اور یمن کے حالات بھی خراب ہیں۔ مصر میں بھی ماضی قریب میں کافی خون خرابہ ہوا اور مرسی کی نمائندہ حکومت کو اسلام پسند ہونے کی وجہ سے فوج کے ذریعے الٹوایا گیا۔ گویا ہر دوسرے اسلامی ملک کو کمزور کرنے کا کھیل جاری ہے اور انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہی مسلمانوں کے خلاف لڑایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف کچھ ایسا جال بنا گیا کہ ہر شدت پسند، عسکری اور دہشتگرد گروپ کا اصل نشانہ مسلمان اور مسلمان ممالک ہی ہیں۔ اب تو مسلمانوں کی یہ حالت ہو چکی کہ امریکا کا صدر اوباما ہمیں بتا رہا ہے کہ اسلام کیا ہے اور یہ بھی کہ اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکا کے ـ’’اسلام‘‘ کی تعریف اور اس پر اسلامی ریاستوں اور حکمرانوں کا آنکھیں بند کر کے عمل کرنا ہی تو ہم مسلمانوں کو ڈبو گیا، ہمیں رسوا کر گیا۔ اکیلے میں آپ کسی مسلمان حکمران، جنرل یا کسی دوسرے با اثر شخص سے پوچھیں تو سب اس بات کی گواہی دیں گے کہ اصل فتنہ امریکا ہے مگر مسئلہ ہے کہ کوئی اس کے سامنے کھڑا کیسے ہو، کوئی کیسے انکار کرے کہ ہم مسلمانوں کے اس خون کی ہولی میں امریکا کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

یہ سب سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کر کے اس ذلت و رسوائی کی حالت میں پہنچا دیا۔ کوئی چار دہائیاں پہلے شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو نے امریکا و مغرب کی اسی سازش کے خلاف مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ پٹرول کو مسلمانوں کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، اسلامی دنیا کے لیے بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد رکھی۔ اسی کوشش میں شاہ فیصل اور بھٹو کو قتل کروا دیا تا کہ اس کے بعد کوئی مسلمان لیڈر دوبارہ مسلم امہ کے اتحاد کی بات نہ کر سکے۔ اب تک وہی ہوا جو اسلام دشمنوں نے چاہا۔ اسلامی ممالک نے او آئی سی کی تنظیم تو بنائی مگر اُس کی حیثیت ایک مردہ گھوڑے سے زیادہ نہ رہی۔ مسلمانوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ انہیں قومیتوں اور ملکوں میں تقسیم کر کے ایک ایک کر کے مارا جا رہا ہے۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ اسلام دشمنوں کے اس کھیل کو مسلمان صرف اتحاد سے ہی روک سکتے ہیں۔مسلم امہ اور اتحاد بین المسلمین تو اب ایک خواب دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان کی چند اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کی خبر نے دل میں دبی اُس خواہش کو جگا دیا کہ کاش مسلمان اکٹھے ہو جائیں، کاش اسلامی ممالک بھی اپنا ایک بلاک بنانے کے قابل ہو جائیں، کاش مسلمانوں کو اس موجودہ ذلت اور رسوائی سے آزادی ملے۔ شاہ سلمان کی سوچ کے بارے میں ابھی کچھ زیادہ معلوم نہیں مگر حال ہی میں امریکی صدر اوباما کے دورہ سعودی عرب کے دوران نئے سعودی بادشاہ کی طرف سے آذان کے سنتے ہی اوباما کو وہیں اکیلے چھوڑ کر نماز باجماعت پڑھنے کے لیے جانے کے عمل کو مسلمانوں میں بہت سراہا گیا۔ اللہ ہم مسلمانوں اور ہمارےرہنمائوں کو اسلام دشمنوں کی سازشوں کو سمجھنے اور آپس میں اتحاد کی توفیق دے۔ آمین۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند