تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 12 جمادی الاول 1436هـ - 3 مارچ 2015م KSA 12:09 - GMT 09:09
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں

یہ دلیل خاصی وزنی لگتی ہے کہ قانون سازوں کا اپر ہائوس(ایوان بالا) پاکستان سینٹ قوم کی اجتماعی دانش اور فراست کی علامت ہوتا ہے یا ہونا چاہئے، چنانچہ اس کے انتخاب کے لئے’’شو آف ہنڈز‘‘ (جسمانی گنتی) والا بھیڑ بکریوں کی منڈی جیسا سلوک نہیں ہونا چاہئے۔

تقریباً یہی دلیل جنرل محمد ایوب خاں کے مارشل لاء کے دوران’’بنیادی جمہوری نظام‘‘ نافذ کرنے والوں نے بھی پیش کیا تھا کہ قوم ان پڑھ اور جاہل ہے قانون سازوں کا صحیح انتخاب نہیں کرسکتی۔ انتخابات کے لئے یونین کونسلوں کے چیئرمینوں کا حلقہ نیابت بنایا جائے جیسے وہ سارے پی ایچ ڈی کے برابر دانش اور فراست کے مالک ہوں۔ قوم کے ان پڑھ اور جاہل ہونے کے بارے میں اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی مولوی فرید احمد نے کہا تھا کہ فیلڈ مارشل اگر مارشل لاء کے نفاذ کے ساتھ ہی قوم کو پڑھنے بٹھادیتے تو گزشتہ دس سنہرے سالوں میں قوم میٹرک پاس کر چکی ہوتی۔

بنیادی جمہوری نظام کے ذریعے پاکستان کی سرحدوں کو ویت نام اور آسام کے پڑوس سے اٹھا کر واہگہ کی سرحد تک لانے کے فیصلے کی بنیاد رکھنے کے علاوہ سیاست کو بطور کاروبار چلانے کی بنیادیں بھی رکھی گئی تھیں اور اس وقت بھی جس طرح عالمی سرمایہ داری نظام کے تحت امیر ملکوں کے حکمرانوں کے پاس غریب ملکوں کو قرضے دینے کے علاوہ اور کوئی تعمیری اور فلاحی پروگرام نہیں رہ گیا، اسی طرح تیسری دنیا کا اگر کہیں وجود ہے تو اس کے پاس سیاست سے بہتر اور نفع بخش اور کوئی کاروبار نہیں ہے کہ جس میں سرمایہ کاری کے ذریعے کالی دولت کی لانڈرنگ کرائی جاسکے۔

محفوظ اور کثیر المقاصد نفع اندوزوں کی وجہ سے سیاست کا کاروبار اس قدر مہنگا ہوچکا ہے کہ جائز اور قانونی کمائی کے لوگ اس کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتے ہیں اور لوکل باڈیز کے انتخاب میں حصہ لینے والوں کو بھی بلیک منی کی وافر مقدار کی ضرور ت ہوتی ہے اور مولانا عبدالحمید بھاشانی کا یہ قول بالکل صحیح ہے کہ جہاں پاکٹ ہوگی وہاں پاکٹ مار بھی یقینی طور پر ہوں گے اور بلیک منی کی معیشت والے رشوت خور معاشرے کے بارے میں جنرل ضیاء الحق نے بھی صحیح کہا تھا کہ قانون کی سختی صرف رشوت کے نرخ بڑھانے کے کام آئے گی۔جنرل ضیاء الحق کے اس قول کی روشنی میں سوچا جاسکتا ہے کہ آئین کی بائیسویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پاکستان سینٹ کے انتخاب میں حصہ لینے والے گھوڑوں کے نرخ ہاتھیوں کے کرائے سے بھی بڑھ جائیں گے اور قانون سازوں کے ایوان بالا میں دانش اور فراست تلاش کرنے والوں کو مایوسی ہوگی اور پڑھے لکھے طبقے کو یہ کہنا پڑے گا کہ؎

شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نے
اس جنس کو بازار میں پوچھا نہ کسی نے

یہ فیصلہ کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوگا کہ مصباح اور وہاب نے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں پاکستان کو پہلی فتح سے ہمکنار کیا ہے یا تیسری شکست سے بچایا ہے؟ یہ کہنا بھی درست ہے کہ عرفان اور وہاب ریاض کے میچ جیتنے والے گیند بازی کے حملے نے زمبابوے کے لئے پاکستان کے بلے بازوں کی طرف سے دیا گیا آسان ہدف بھی انتہائی مشکل کردیا۔ یہ فیصلہ آپ کا ہوگا کہ آپ آدھے بھرے ہوئے گلاس کو آدھا خالی قرار دیتے ہیں یا آدھا بھرا ہوا سمجھتے ہیں۔ جمہوری اداروں کے انتخابات میں شو آف ہینڈز کے طریق کار کو بھیڑ بکریوں کی منڈی والا سلوک سمجھتے ہیں یا امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی روایت کی تقلید قرار دیتے ہیں۔ اس معاشرے میں کچھ بھی ممکن ہے اور کچھ بھی ناممکن نہیں ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ ؎

زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند