تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مڈل ایسٹ میں سرمایہ کاری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 20 ذوالحجہ 1440هـ - 22 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 13 جمادی الاول 1436هـ - 4 مارچ 2015م KSA 08:40 - GMT 05:40
مڈل ایسٹ میں سرمایہ کاری

میں یہ کالم ایک خلیجی ریاست سے تحریر کررہا ہوں جہاں میں کچھ روز قبل ہی بزنس کے سلسلے میں آیا ہوں کیونکہ پاکستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث غیر ملکی خریدار بزنس کے سلسلے میں یہیںملاقات کو ترجیح دیتے ہیں، اس لئے سال میں کئی بار میرا یہاں آنا جانا رہتا ہے۔ میں اس وقت اپنے اپارٹمنٹ میں موجود ہوں جہاں سے حدنظر تک بلند و بالا عمارتیں جگمگاتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ وہ عمارتیں ہیں جو غیر ملکیوں کی زیر ملکیت ہیں جن میں یا تو وہ خود رہائش پذیر ہیں یا انہوں نے اسے کرائے پر دے رکھا ہے۔ میرے سامنے مقامی اخبار میں شائع ہونے والی لینڈ ڈپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ پڑی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہاں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں پاکستانی دوسرے نمبر پر ہیں جنہوں نے 2013-14ء کے دوران رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تقریباً 16 ارب درہم (445 ارب روپے) کی سرمایہ کاری کی جبکہ انہوں نے صرف 2014ء میں 7.6 ارب درہم (213 ارب روپے) کی سرمایہ کاری کی، اس طرح پاکستانیوں نے 5 ہزار سے زائد پراپرٹیز خریدیں۔ رپورٹ کے مطابق اسی دورانئے میں بھارتی سرمایہ کار 18 ارب درہم کی سرمایہ کاری کرکے پہلے نمبر پر رہے جبکہ برطانیہ، ایران، کینیڈا اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے شہریوں نے بھی خلیجی ممالک کی رئیل اسٹیٹ میں بھاری سرمایہ کاری کی، اس طرح صرف 2014ء میں 140 ممالک کے امیر شہریوں نے رئیل اسٹیٹ میں تقریباً 218 ارب درہم یعنی 60 ارب ڈالر (6 کھرب روپے) کی سرمایہ کاری کی جو پاکستان کے سالانہ بجٹ سے کہیں زیادہ ہے جس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ خلیجی ملک آئندہ کچھ سالوں میں دنیا کا ’’مالیاتی دارالحکومت‘‘ بن جائے گا۔

2002ء سے قبل مڈل ایسٹ کی اس ریاست میںکسی بھی غیر ملکی کو گھر بنانے یا خریدنے کی اجازت نہیں تھی اور یہاں ملازمت یا کاروبار کے سلسلے میں آنے والے لوگ مقامی لوگوں سے کرائے پر گھر حاصل کرتے تھے لیکن پھر یہاںکےحکمرانوں نے اچانک ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت ریاست کےکچھ دور افتادہ علاقوں میں غیر ملکیوں کو گھر بنانے اور خریدنے کی اجازت دے دی گئی، اس طرح یہاں ترقی کا نیا دور شروع ہوا۔ میں اس وقت اس خلیجی شہر میں ہی رہائش پذیر تھا، میں وہ دن کبھی نہیں بھولوں گا جس دن وہاں کی ایک کمپنی نے اپنا پہلا پروجیکٹ متعارف کروایا تو اپارٹمنٹ کی خریداری کیلئے مختلف ممالک سے آئے ہوئے غیر ملکی افراد رات بھر لائن لگائے کھڑے رہے اور صبح لانچنگ کے کچھ گھنٹوں بعد ہی سینکڑوں اپارٹمنٹ دیکھتے ہی دیکھتے فروخت ہوگئے جس کی حکومت قطعی توقع نہیں کررہی تھی۔

یہاں کے حکمرانوں کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ریگستان کی یہ زمین جسے وہ بے مول سمجھ رہے تھے، کو مارکیٹ کرکے وہ اربوں ڈالر حاصل کر سکتے ہیں لیکن پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد ریگستانی زمینوں پر گھر بناکر فروخت کرنے اور نئے پروجیکٹ متعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ ان پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں زیادہ تر غیر ملکی تھے جن میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد شامل تھی لیکن رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تیزی کے سبب سٹے باز بھی اس دوڑ میں شامل ہوگئے جو قیمتوں کو مصنوعی طور پر اوپر لے گئے، بعد میں سٹے باز تو دامن بچاکر نکل گئے مگر معصوم سرمایہ کار جن میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد شامل تھی، تباہی سے دوچار ہوئے ۔ یہ وہ وقت تھا جب وہاں کوئی شخص پراپرٹی لینے کیلئے تیار نہ تھا جبکہ خلیجی حکومت اور قومی کمپنیاں، عالمی بینکوں کی مقروض ہوچکی تھیں اور یہ سمجھا جارہا تھا کہ ریاست ڈیفالٹ کرجائے گی مگر عالمی مالیاتی اداروں اور بینکوں نے اپنے قرضے ری شیڈول کرکے وہاںکےرئیل اسٹیٹ سیکٹر کو مکمل تباہی سے بچالیا جس کے بعد کئی سالوں تک پراپرٹی کے بزنس میں مندی رہی۔

اس خلیجی شہر کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ خطے کے ممالک میں پیدا ہونے والی عدم استحکام کی صورتحال اس کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ عدم استحکام کے شکار ممالک کے لوگ اپنا سرمایہ یہاںمنتقل کرنا شروع کردیتے ہیں جس کی مثال عراق، ایران، مصر، لیبیا، شام، افغانستان اور پاکستان جیسے ممالک ہیں جہاں کے امیر طبقے نے ملک میں عدم استحکام کے باعث اپنا سرمایہ تیزی سے خلیجی ملکوں میںمنتقل کیا جو زیادہ تر رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں انویسٹ کیا گیا جس کے بعد ان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئی جبکہ ’’دبئی ایکسپو 2020ء‘‘ کے اعلان کے بعد اس خلیجی ریاست کی معاشی سرگرمیوں نے نئی کروٹ لی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس کے پیش نظر خلیجی حکومت نے ایسے قوانین متعارف کرائے ہیں جن کی بدولت غیر ملکی سرمایہ کاری سٹے بازی سے محفوظ تصور کی جارہی ہے۔ پاکستان کا امیر طبقہ خلیجی ملکوںکی رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں انویسٹمنٹ کر رہا ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستان سے بیرون ملک رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں پہلے نمبر پر سیاستدان، دوسرے نمبر پر اعلیٰ سرکاری حکام اور تیسرے نمبر پر ممتاز بزنس مین ہیں جنہوں نے وہاں کثیر سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

ایک خلیجی ملک کا مہنگا ترین علاقہ جہاں ایک گھر کی قیمت 50 سے 60 ملین درہم (12 سے 15 ملین ڈالر) سے کم نہیں، میں پاکستانی سیاستدانوں کی بڑی بڑی جائیدادیں موجود ہیں جن میں سے کئی ایسے لوگوں کو میں جانتا ہوں جنہوں نے پاکستان بالخصوص کراچی کے حالات کے پیش نظر اپنی فیملیاںخلیجی ممالک شفٹ کردی ہیں۔

پاکستان کے حالات کے پیش نظر خلیجی رئیل اسٹیٹ میں پاکستانیوں کی کثیر سرمایہ کاری کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ پاکستان اس لحاظ سے بدقسمت ملک ہے جہاں سے برین ڈرین (ذہین اور تعلیم یافتہ افراد کی بیرون ملک منتقلی) اور کیپٹل ڈرین (سرمائے کی بیرون ملک منتقلی) تیزی سے جاری ہے۔ ملکی حالات کے پیش نظر گزشتہ عشروں کے دوران ملک کا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذہین طبقہ بڑی تعداد میں بیرون ملک ہجرت کرچکا ہے جن کی صلاحیتوں سے دوسرے ممالک فائدہ اٹھارہے ہیں جبکہ گزشتہ کئی برسوں سے کیپٹل ڈرین یعنی سرمائے کی منتقلی بھی بڑی تیزی سے جاری ہے جس کے نتیجے میں پاکستان اربوں ڈالر کی قومی دولت سے محروم ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت گزشتہ مالی سال یہ رونا روتی رہی ہے کہ حکومت کو کئی سالوں سے کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل نہیں ہوئی لیکن دوسری طرف نرم حکومتی قوانین کی وجہ سے کالے دھن کے 2 ارب ڈالر بڑی تیزی سے خلیجی ممالک منتقل کر دیئے گئے۔ اقتصادی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر پاکستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، سیاسی بے چینی اور توانائی کے بحران پر قابو نہ پایا گیا تو بیرون ملک سرمایہ کاری کے رجحان میں مزید اضافہ ہوگا جس سے ملک کی اقتصادی صورتحال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر توجہ دے، ایسا نہ ہو کہ آئندہ سال بیرون ملک کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں پاکستانی سرمایہ کار بھارتیوں کو پیچھے چھوڑکر پہلے نمبر پر آجائیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند