تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے والوں کے لئے ایک مفید مشورہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 15 جمادی الاول 1436هـ - 6 مارچ 2015م KSA 10:42 - GMT 07:42
پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے والوں کے لئے ایک مفید مشورہ

پاکستان میں منفی نوعیت کی افواہیں اکثر بے بنیاد نہیں ہوتیں اور اس افواہ کی بھی کوئی بنیاد ہوسکتی ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب کے والد مرحوم میں میاں محمد شریف کی خواہش اور فرمائش پر 1992ء میں وجود پانےوالے پاکستان بیت المال جیسے ادارے کو ختم کرنے یا کسی اور ادارے میں ضم کرنے کا سوچا جارہا ہے۔

بعید از قیاس نہیں ہوگا کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کی باتیں کرنے والے حکمران ٹولے کے کچھ لوگ، مردہ، بیمار اور جان بلب سرکاری اداروں پر خرچ ہونے والے سرکاری فنڈز کے مقابلے میں بہت محدود فنڈ کے ساتھ غریب اور نادار پاکستانیوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کر کے انہیں غربت کی آخری لائن سے اوپر لانے کی کوشش میں مصروف پاکستان بیت المال کے ادارے کو ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

یقینی طور پر ایسے لوگوں کو ان غریب گھرانے کے طالب علموں کی مشکلات کا اندازہ نہیں ہوگا جو بیت المال سے حاصل ہونے والے وظائف کے ذریعے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان لوگوں کو ان چار ہزار بچوں کی زندگی میں آنے والی ان مثبت تبدیلیوں کا بھی احساس نہیں ہوگا جو ’’سویٹ ہومز‘‘ کے گھریلو جیسے ماحول میں اطمینان اور وقار کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اور جن کی گریجویشن تک کی تعلیم ادارے کی ذمے داری ہے۔

پاکستان بیت المال کو فتح کرنے والے لوگوں کو بھیک، چائلڈ لیبر اور جرائم کی لعنتوں کی خوراک بن جانے والے ان بچوں اور غریب عورتوں کی فکربھی نہیں ہوگی جو پاکستان بیت المال کے زیر انتظام دستکاری سکولوں میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے علاوہ اپنے اہل خانہ کے لئے وظائف بھی حاصل کررہی ہیں۔

پاکستان بیت المال کے تعاون سے صحت کے شعبہ میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے اشتراک عمل کی خصوصی طور پر متعدد نادر اور قابل تقلید مثالیں ملتی ہیں جن میں لاکھوں مریضوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ کروڑوں کی لاگت سے برن سینٹر لاہور اور تھیلسیمیا کے خاتمے کے لئے کئے جانے والے اقدامات بھی قابل قدر اور لائق ستائش ہیں۔

بیت المال کے تحت اسلام آباد میں تھیلسمیا کے مریضوں کا ایک ’’سٹیٹ آف دی آرٹ‘‘ یعنی اعلیٰ نوعیت اور معیار کا مرکز بنایا گیا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں اور حصوں میں ایسے مراکز کی ضرورت ہے جس میں اس موذی پیدائشی خون کی بیماری کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنے والے مریضوں کو ملک اور معاشرے کے لئے قابل قدر مفید اور کارآمدشہری بنایا جائے۔

گزشتہ مرکزی حکومت نے سابق ایم ڈی پاکستان بیت المال زمرد خان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا جس کے تحت انہوں نے نئی نسل کے بہتر مستقبل کے لئے سویٹ ہومز کا منصوبہ تخلیق اور تعمیر کیا تھا۔ ادارے کے نئے سربراہ بیرسٹر عابد وحید اپنی خاندانی روایات کے مطابق ایسے فلاحی اور رفاہی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور پورے ملک میں پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں انہوں نے بے آسرا اور بے سہارا بزرگ مردوں اور عورتوں کے لئے ’’گریٹ ہومز‘‘ کا سلسلہ بھی شروع کیاہے جن کے دو مراکز لاہور اور اسلام آباد میں کام کررہے ہیں۔

پاکستان بیت المال جیسے مفید، نیک نام اور کسی قسم کے سکینڈلز سے محفوظ ادارے کو بند کرنے یا کسی ادارے میں ضم کرنے کی بجائے اس کی سرکاری گرانٹ، فنڈز اور بجٹ میں اضافے کی ضرورت ہے۔ لازم آتا ہے کہ یہ ادارہ فلاح و بہبود کے اس عظیم مشن کو جاری و ساری رکھ سکے اور اپنے غریب نواز منصوبوں اور قومی ترقی کے پروگراموں کو ملک کے کونے کونے تک تمام مستحق پاکستانیوں تک پہنچا سکے۔ میاں محمد شریف مرحوم کے ہاتھوں سے لگائے گئے عوامی فلاح و بہبود کے اس پودے کو غریب نوازی کے ایک سدا بہار باغ میں تبدیل کرنے کے لئے مناسب اور موزوں آبیاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے میں سب سے زیادہ نمایاں کردار ایسے اداروں کی توسیع و ترقی کا ہی ہوسکتا ہے!

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند