تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
داعش کی’’ پرکشش دعوت‘‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 16 جمادی الاول 1436هـ - 7 مارچ 2015م KSA 10:09 - GMT 07:09
داعش کی’’ پرکشش دعوت‘‘

یہاں صاحب حیثیت پاکستانیوں کے لئے داعش کے حوالے سے کچھ تباہ کن نتائج و عواقب باعث تشویش ہوسکتے ہیں۔ اس کی خلافت ان کے استحقاق یافتہ اسٹیٹس، پرتعیش طرز زندگی اور بھاری آمدنی کا خاتمہ کرتے ہوئے اُنہیں یہاں سے فرار ہوکر خلیجی یا مغربی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کرسکتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ کہ اگر یہ انہونی ممکن ہوجائے تو اس کا پاکستان کے غریب غربا پر کیا اثر پڑے گا؟ ان کے پاس کھونے کے لئے کیا ہے؟

میں قدرے آرام دہ زندگی بسر کرتا ہوں۔ وراثت میں ملی ہوئی جائیداد سے تھوڑی بہت رقم آجاتی ہے لیکن میری آمدنی کا بڑا ذریعہ صحافت ہے۔ فرض کرلیں اگر داعش چکوال پر قبضہ کرلیتی ہے تو میں صریحاً خسارے میں رہوں گا۔ اس پر ذرا ٹھنڈے دل سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ داعش کی امارت میرا کیا نقصان کرے گی۔ میرا خیال ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا۔ داعش کا چکوال کا مقامی امیر (پلیز یہ مفروضہ ہے) مجھے کہے گا کہ میں صرف اپنا مکان اور ایک دکان اپنے پاس رکھوں اور باقی امارت کے حوالے کر دوں۔ فرض کریں چکوال کی تمام مارکیٹ پر اسی طرح قبضہ کرلیا جاتا ہے اور دکانوں کے مالکوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے لئے صرف ایک دکان رکھیں، جن افراد کے دو یا اس سے زیادہ مکانات ہیں، وہ ان کی ملکیت سے دستبردار ہوجائیں۔ اس سے چکوال میونسپل کمیٹی کے محصولات میں تیس سے چالیس گنا اضافہ ہوجائے گا۔ کیا یہ غلط تصور ہوگا؟

اس کے بعد مقامی امیر پولیس کی فعالیت کو اپنے کنٹرول میں لے لے گا۔ داعش کے تربیت یافتہ کارکن ڈی پی او اور ایس ایچ اوز کے فرائض سنبھال لیں گے۔ دولت مند افراد کی ضبط شدہ جائیداد سے بے گھر افراد کو مفت رہائش فراہم کی جائے گی۔ پولیس کے ہر سپاہی کو مکان ملے گا۔ سیشن جج کے پاس جان بچانے کے لئے فرار ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ داعش کے کارکن منصف بن کر فیصلے کریں گے۔ فوری انصاف کی وجہ سے زیر التوا مقدمات کی تعداد یک لخت کم ہونا شروع ہوجائے گی۔ بے جا مقدمہ بازی کا رجحان ختم ہوجائے گا۔ سزائیں یقینا سخت ہوں گی اور موقع پر ہی دی جائیں گی۔ میں یہ بات کہتے ہوئے عقل و خرد کو داغ مفارقت نہیں دے چکا ہوں، بلکہ اپنے پورے ہوش و حواس میں ہوں۔ عراق اور شام میں داعش کے زیر ِ کنٹرول علاقوں میں ایسا انتظام ہی دیکھنے میں آیا ہے۔

نیویارک ریویو آف بکس کے لئے لکھتے ہوئے اکانومسٹ کی صحافی سارہ برک (Sarah Birke)، جو شام میں تین سال گزار چکی ہیں، کہتی ہیں ’’ داعش کی شریعت کی سخت گیرتشریح کے تحت عورتیں لازمی طورپر حجاب پہنیں گی جبکہ آدمیوں کے لئے تصویروں والی شرٹس پہننا اور سموکنگ کرنا ممنوع قرار دیا جائے گا۔ نماز کے اوقات میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند کردیے جائیں گے۔ عورتوں کے زیر استعمال اشیا فروخت کرنے والی دکانوں پر صرف عورتیں ہی کام کریں گی۔‘‘ متمول حلقوں کے لئے یہ تباہ کن اقدامات ہوںگے لیکن پاکستان کے عام شہریوں کو تصویروں والی شرٹ کی ممانعت اور عورتوں کے حجاب پہننے کی پابندی کس طرح متاثر کرے گی؟ سارہ برک لکھتی ہیں ’’ رقہ (Raqqa) جسے داعش کا غیر سرکاری دارالحکومت کہا جاسکتا ہے، میں اسلامی امارت کے ٹیکس کے نظام کا نمونہ دیکھا جاسکتا ہے۔ میں نے جنوبی ترکی میں رقہ سے تعلق رکھنے والے کچھ دکانداروں سے بات کی تو اُنھوں نے مجھے بتایا کہ داعش ان سے زکوۃ کی مد میں 2.5 فیصد محصولات وصول کرتی ہے جبکہ ماہانہ ٹیکس کی فیس پندرہ سو شامی پائونڈز ہیں (تقریباً آٹھ سو پاکستانی روپے)۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سویلین ورکرز اور جنگجوئوں کو تنخواہیں باقاعدگی سے مل جاتی ہیں۔ فی کس تنخواہ چارسو امریکی ڈالر ماہانہ ہے۔" اگر زکوۃ اور ماہانہ فیس ہر پاکستانی تاجر پر عائد کردی جائے تو میرا خیال ہے کہ ہماری زیادہ تر معاشی پریشانیاں ختم ہوجائیںگی۔ اسلامی امارت کی طرف سے چارسو ڈالر ماہانہ تنخواہ پانے کے لئے اسے جنگجوئوں کی بھاری کھیپ میسر آرہی ہے۔ نوجوان جوق درجوق اس کی صفوں میں شامل ہوکر لڑنے کے لئے ہتھیار اُٹھا رہے ہیں۔

افغان جہاد نے بھی تمام اسلامی دنیا سے جنگجوئوں (نام نہاد مجاہدین) کو اپنی طرف متوجہ کیا، لیکن ، جیسا کہ مس برک لکھتی ہیں ’’امریکی افسران کے لئے پریشان کن سوال یہ کہ داعش میں ایسی کیا کشش ہے جو اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس کی صفوں میں شامل ہوتے جا رہے ہیں؟ افغان جہاد میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے والوں کی تعداد داعش میں شامل ہونے والوں کی نسبت بہت کم تھی۔‘‘ مس برک اس کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ شاید اس کی وجہ داعش کی طرف سے سوشل میڈیا کا نہایت موثر استعمال ہے۔ اس کے علاوہ ترکی کی سرحد پار کر کے شام میں داخل ہونا بھی نہایت آسان ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اُس وقت ہورہا ہے جب اسلامی ممالک کے زیادہ تر حکمرانوں کو ان کے شہری بدعنوان سمجھتے ہیں اور دوسری طرف مغربی ممالک نظریات سے تہی دامن ہیں۔‘‘ بدعنوانی اور نظریاتی خلا میں ہی داعش جیسے طوفان کا سر اٹھانا ممکن ہوسکتا تھا۔ آج اسلامی دنیا بدعنوان حکمران طبقے کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس طبقے یا ان ممالک سے وہاں کی غریب آبادی، جو ہر قسم کی آسائش سے محروم ہے، کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟ ایک خلیجی ملک کو مصر کی سنی مسلک کی حامل اخوان تحریک اور شیعہ مسلک رکھنے والا ایک ملک اور حزب اﷲ سخت ناپسند ہیں۔ عراق میں اہل تشیع کا طاقت حاصل کرنا اس خلیجی ملک کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ لہذا اس نے ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش میں چیک بک ڈپلومیسی کو استعمال کیا ہے۔ اس نے جنرل سیسی کو بھاری فنڈز فراہم کیے، شامی کی حکومت مخالف جماعتوں کو رقم دی۔

میں تصور بھی نہیں کرسکتا کہ میں داعش کے زیر انتظام علاقے میں ایک دن بھی گزار سکوں گا۔ جائیداد کا چھن جانا کوئی بڑی بات نہیں لیکن شام کیسے گزرے گی؟ اس کے علاوہ زبردستی عبادت اور پرہیزگاری کے نظام تلے زندگی بسرکرنا بھی کم و بیش ناممکن۔ اور پھر نماز کے وقت تمام راستے بند ہو جانا اور فٹ پاتھ بھی عبادت گزاروں سے بھر جانا، جیسا کہ رقہ میں دکھائی دیتا ہے، مجھ جیسے غفلت شعار کے لئے بہت بھاری ہوگا۔ تاہم یہ میری زندگی ہے، میرے ڈرائیور، باورچی اور ملازمہ کے لئے میری زندگی کی پیروی کرنے کی مطلق پابندی نہیں۔ میری موسیقی میرے کانوں کے لئے، میرے مشروبات میرے ہوٹنوں کے لئے، وہ اس زندگی کے پابند نہیں۔ میرا ڈرائیور باقاعدگی سے جمعے کی نماز اداکرتا ہے۔ اگر وہ پانچ وقت کی بھی پڑھنا چاہے تو بھی میں کون ہوتا ہوں اعتراض کرنے والا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والی عورتیں حجاب پہنتی ہیں۔ یقینا اُنہیں داعش کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہم سب یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی بطور ریاست کارکردگی غیر تسلی بخش ہے، تاہم یہ کوئی ناکام ریاست نہیں ہے۔ اس وقت اہم بات یہ ہے کہ اگر پاکستان پر کسی اور طاقت، جیسا کہ داعش، کا قبضہ ہوجاتا تو پاکستان کے عام شہریوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اگر آپ کسی مدرسے کے طالب علم سے کہیں کہ وہ مدرسہ چھوڑ دے اور وہ فوراً سوال کرے گا کہ وہ اور کہاں جائے؟ اس کا یقینا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔ جہاد اور خود کش حملہ آوروں کے پاس کم از کم جنت کا وعدہ تو ہوتا ہے۔ وہ وہاں خوبصورت حوروں کے ساتھ زندگی بسر کریں گے۔ اگر یہ ایک خواب ہے تو بھی خواب آمادہ عمل کرتے ہیں۔ تشہیر اور صارفین کی اس دنیا میں خواب فروخت کیے جاتے ہیں۔ اس مارکیٹ میں عام شہری پریشان اور ذہنی تنائو کا شکار رہتے ہیں۔ خواب یقینا سہارا دیتے ہیں تو کیا ان افراد کے لئے ہمارے پاس کوئی پاکستانی خواب موجود ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر یادر کھیں کہ داعش کے پاس خواب موجود ہیں۔ جنگ وجدل کے بعد اسلام کا سنہرا دور آنے والا ہے۔ اس خواب کے بعد کسی اور چیز کی کیا ضرورت؟

یہ بات فراموش نہ کی جائے کہ اسلامی بنیاد پرستوں کے پاس نظریات موجود ہیں۔ آپ اُن سے اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن ان کے مقصد کی شدت اور نظریاتی پختگی کا انکار نہیں کرسکتے۔ اس کے دوسری طرف سے سراسیمگی اور نظریاتی ژولیدہ فکری کا شکار پاکستانی ریاست ہے۔ کیا ہم اس جنگ میں خود کو شاپنگ پلازوں اور سڑکوں سے مسلح کرنے جارہے ہیں۔ کیا سڑکیں اورپلازے نظریات کا متبادل ہوتے ہیں؟ اس کا مقابلہ کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ استحقاق یافتہ طبقہ از خود وہ فصیل توڑ دے جو ٹوٹنے جارہی ہے اور عام آدمی کے معاشرے میں ضم ہوجائے۔ لیکن کیا ایسا ہونے جارہا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یاد رکھ لیں کہ طالبان اور داعش کی صفوں میں بھرتی ہونے والے جوانوں کی کمی نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند