تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سینیٹ کی کش مش
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 19 جمادی الاول 1436هـ - 10 مارچ 2015م KSA 09:36 - GMT 06:36
سینیٹ کی کش مش

جب تک سینیٹ کے انتخابات نہیں ہوئے تھے ہر طرف دھوم مچی تھی، بولیوں کا تذکرہ تھا، دولت کے سہارے سینیٹر بننے کے چکر میں کئی لوگ تھے، کچھ کامیاب ہوگئے ہیں، کچھ کو دولت لے ڈوبی۔ سینیٹ کا ’’رولا‘‘ ابھی تک جاری ہے جب تک چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین یا چیئرپرسن نہیں بن جاتے، خبریں گرم رہیں گی۔ دیہی اور شہری سیاست کو بخوبی سمجھنے والے آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں ڈیرہ لگایا ہوا ہے دیکھیں کیا ’’چن‘‘ چڑھتا ہے، ایک ’’چن‘‘ تو ندیم افضل چن نے چڑھا دیا تھا، جس کی انکوائریاں ابھی تک ہورہی ہیں جن پر شک کیا جارہا ہے انہوں نے ووٹ ن لیگ کو دیا ہے جو زیادہ ’’وفادار‘‘ بنے پھرتے ہیں، سارا کمال انہی کا ہے۔ انکوائریاں ہوں گی مگر بندے نہیں پکڑے جائیں گے اور بالآخر فائل داخل دفتر کردی جائے گی۔ بلوچستان میں بھی ن لیگ کو سخت وار سہنا پڑا ہے جہاں سردار یعقوب ناصر اور دینش کمار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ شاید ایسے ہی وقت کے لئے کہا گیا تھا کہ

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

یعقوب ناصر میرے ذاتی دوست بھی ہیں، مجھے ان کی ہار کا بہت دکھ ہے مگر دکھ، دولت کا مداوا نہیں۔ ان سے جیتنے والے شاہ خرچ تھے۔ سردار صاحب صرف مسلم لیگ ن کی محبت کی تسبیح کے دانے گن رہے تھے۔ بلوچستان سے سب سے بڑا کمال کلثوم پروین نے دکھایا۔ کلثوم پروین پچھلے کئی سالوں سے سینیٹر چلی آرہی ہیں، وقت کی ریاضٗت نے انہیں بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ انہوں نے سینیٹر بن کر اپنی ہیٹرک مکمل کی۔ پہلے وہ مسلم لیگ ق سے سینیٹر بنیں پھر انہوں نے دوسری مرتبہ سینیٹر بننے کے لئے بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کا سہارا لیا۔ اس مرتبہ انہوں نے بی این پی سے استعفٰی دئیے بغیر ہی ن لیگ سے ٹکٹ لے لیا۔ یہ کمال صرف باکمال لوگوں کا ہے۔ جیسے ماروی میمن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن بن گئی ہیں، انہیں یہ عہدہ دلانے میں ’’صوفی‘‘ اسحٰق ڈار کا بڑا ہاتھ ہے۔ وہ من پسند چیئرپرسن کے قائل ہیں ورنہ بہت پہلے مشاہد اللہ خان چیئرمین بن جاتے۔ چیئرمینی کا رخ موڑ کر انہیں وزارت دی گئی تھی۔خیبر پختونخوا کا بڑا چرچا تھا مگر تحریک انصاف نے وہاں بڑا کمال دکھایا۔ سینیٹ الیکشن سے کئی روز پہلے مجھے عمران خان نے بیرسٹر سلطان محمود کے گھر یہ بتادیا تھا کہ ان کے پاس ایک ایسا بندہ موجود ہے جو سارے کاموں سے واقف ہے لہٰذا وہ سینیٹ الیکشن میں پریشان نہیں ہیں۔ ان کے بندے نے کمال دکھایا اور خالی پرچیوں کا سامنا ہوگیا۔ اس صوبے سے سدا بہار سینیٹر فیملی آئوٹ ہوگئی۔ اب وقار احمد خان اور عمار احمد خان، مولانا فضل الرحمٰن اور آفتاب شیرپائو سے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں، دونوں بھائیوں کو غلط فہمی دور کرنی چاہئے کیونکہ وہ پیسے ان جگہوں پر پھنسا بیٹھے ہیں جہاں سے نیب بھی وصولی نہیں کرسکتا۔ اب صبر شکر کریں اور اپنے والد کے پاس بیٹھ کر دل ہلکا کریں کہ ہم 27سال بعد سینٹ سے آئوٹ ہوگئے ہیں۔ دولت کے ان کھلاڑیوں کو باہر کرنے میں 27سال لگے۔ ان کو باہر کرنے میں سارا کردار عمران خان اور میڈیا کا ہے۔

حالیہ سینیٹ الیکشن میں سیاسی جماعتوں نے ٹکٹوں کی تقسیم میں کافی ڈنڈی ماری۔ ڈنڈی کا اپنا اپنا انداز ہے لیکن اس میں سب شامل ہیں۔ ڈنڈی مارنے والوں میں پہلا نمبر ن لیگ کا ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ سینیٹ وفاق کی علامت ہے، اس میں چاروں صوبوں اور وفاقی علاقے کو نمائندگی حاصل ہے۔ صوبوں کی نمائندگی برابر ہے۔ برابری کی واحد وجہ یہ ہے کہ تمام صوبوں کو وفاق میں یکساں نمائندگی حاصل ہو۔ اصولی طور پر تو چاہئے کہ اسی صوبے کے لوگ نمائندگی کریں جس صوبے سے ان کا تعلق ہے۔ اس مرتبہ ن لیگ نے جنوبی پنجاب کی نمائندگی سے محروم کردیا۔ وہ کراچی سے دو مہمان سینیٹرز لے آئے۔ اس نیک مقصد کے لئے نہال ہاشمی کا ووٹ ہمارے پیارے دوست چوہدری شہباز حسین کے شہر جہلم سے بنوایا گیا جبکہ سلیم ضیاء کا ووٹ رشتے داریوں کی ضربوں تقسیموں میں ہمارے ایک عزیز راجہ اشفاق سرور کے شہر مری سے بنوایا گیا۔ میں چوہدری شہباز حسین اور راجہ اشفاق سرور کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ان کے شہروں سے سینیٹر بن گئے ہیں کمال ہوگیا ہے ’’نہ ہنگ لگی نہ پھٹکری‘‘ کام ہوگیا۔ جس طرح پنجاب کا حق چرایا گیا اسی طرح وفاقی علاقے کو بھی نہیں بخشا گیا۔ وہاں پر بھی مہمان اداکاروں کو ٹکٹ عنایت کئے گئے۔ ان کی قسمت اب کورٹ کے فرشتوں کے پاس ہے۔ ن لیگ کو ایسے لوگ دستیاب نہ ہوسکے جن کا تعلق اسلام آباد سے تھا۔ سید ظفر علی شاہ کی جمہوریت کے لئے خدمات کو ’’پاسے‘‘ کردیا گیا۔ محترمہ تسنیم صدیقی کو نظرانداز کرنے کی واحد وجہ بیگم عشرت اشرف سے دوستی بتائی گئی ہے۔ عشرت اشرف کو نظر انداز کرنے کی واحد وجہ عشرت اشرف خود ہیں کیونکہ انہوں نے ن لیگ کے برے وقت میں خواتین کے بڑے جلسے کروائے تھے، خواتین کو جدوجہد پر آمادہ کیا تھا۔ ان کے شوہر چوہدری جعفر اقبال کو بھی برے وقت میں ساتھ دینے کی سزا دی گئی۔ اسی طرح پنجاب سے سید محمد مہدی کو بھی یہ سزا سنائی گئی کہ آپ نے برے وقت میں ساتھ کیوں دیا۔ سید محمد مہدی سے تو سوال کیا گیا ہوگا کہ آپ اس وقت کہاں تھے جب ماروی میمن لانڈھی جیل اور پھر اٹک قلعے کے باہر اپنے ’’محبوب قائد‘‘ میاں نوازشریف کے لئے روتی تھی۔ سید ظفر علی شاہ سے بھی پوچھا گیا ہوگا کہ جن دنوں زاہد حامد، میاں نواز شریف کی وکالت کے لئے نت نئے دلائل گھڑتے تھے اس وقت آپ کہاں تھے۔ چوہدری جعفر اقبال سے بھی پوچھا گیا ہوگا کہ جب چوہدری منیر، ریاض پیرزادہ اور حاجی سکندر بوسن، میاں نواز شریف کے لئے سڑکوں پر ڈنڈے کھا رہے تھے تو آپ کدھر تھے۔ یہ سوال جنرل عبدالقیوم، جنرل صلاح الدین ترمذی سمیت غوث نیازی سے نہیں کئے گئے ہوں گے کیونکہ ان تینوں نے تو اپنے قائد کے لئے دن رات ایک کر رکھا تھا۔ پیر صابر شاہ کا نام ان کے والدین نے سوچ سمجھ کر رکھا ہوگا، ان کو پتہ تھا کہ ہمارے بیٹے کو بہت صبر کرنا پڑے گا۔ عبدالسبحان خان، سرانجام خان اور ارباب خضر حیات کا قصور اتنا تھا کہ وہ ہزارے وال نہیں تھے۔

تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے کے لئے ایک سابق بیورو کریٹ شکیل درانی نے درخواست دی تھی مگر عمران خان کا کہنا تھا کہ بیورو کریٹ ڈرپوک ہوتے ہیں لیکن حیرت ہے کہ انہوں نے ایک چیف سیکرٹری کی بیگم کو ٹکٹ دے دیا۔ جو پرنس صلاح الدین کی بہن ہیں اور پرویز خٹک کی بھابھی کی کزن ہیں۔ ایک کام تحریک انصاف نے خوبصورت کیا، انہوں نے معروف شاعر احمد فراز کے صاحبزادے شبلی فراز کو سینیٹر بنادیا۔ سندھ سے بننے والے تین سینیٹر رحمان ملک، بیرسٹر سیف اور میاں عتیق کا تعلق بھی صوبہ سندھ سے نہیں ہے۔ اس کے ذمے دار پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ہیں۔ ناانصافیوں کے کھیل کا ابھی انجام نہیں ہوا۔ ہر کوئی گھات لگائے بیٹھا ہے۔ دیکھئے کھیل کا اختتام کہاں ہوتا ہے۔ فی الحال سرور ارمان کا خوبصورت اشعار آپ کی نذر

گنہگاروں کو تعزیریں سنائی جارہی تھیں
وفا کی آخری شمعیں بجھائی جارہی تھیں
کہیں نزدیک گہری نیند منصف سو رہے تھے
کہیں نزدیک زنجیریں ہلائی جارہی تھیں

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند