تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا کی شاندار کارکردگی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 20 جمادی الاول 1436هـ - 11 مارچ 2015م KSA 09:47 - GMT 06:47
امریکا کی شاندار کارکردگی

ایک سوال پوچھا جانا چاہئے…دنیائے اذسلام میں انتہاپسندی کی آگ کس نے بھڑکائی؟خطے میں بنیادپرستی کے سنگ ریزے بکھیرنے والا ہاتھ کس کا تھا؟ افسوس، یہ الزام بظاہر دکھائی دینے والے انتہا پسند گروہوں، جیسا کہ القاعدہ یا طالبان، کے سر نہیں جاتا، اور نہ ہی اپنی تمام تر ہلاکت خیز ی کے باوجود داعش، جو دیگر گروہوں کی نسبت قدرے ’’نوخیز‘‘ ہے، کا دامن اس الزام سے آلودہ ہے۔ درحقیقت انتہاپسندی، بنیاد پرستی اور دقیانوسیت کے فتنے جگانے اوران آتش دہن اژدھوں کو ہماری جان کے درپے کرنے کی ذمہ داری ہمارے امریکی دوستوں کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر جارج ڈبلیو بش اور اس کے ہم خیال جنگجو عراق پر چڑھائی کی حماقت نہ کرتے تو یہ خطہ آج دہشت گردی کے شعلوں کی نذرنہ ہوتا۔ عراق میں القاعدہ نہ ہوتی، نہ ابو مصعب الزرقاوی ہوتا، نہ سنی انتہا پسندی دیکھنے میں آتی،نہ جنرل پٹریاس کی افواج چڑھائی کرتیں، نہ فلوجہ پر جوہری مواد سے بنے ہوئے خولوں والے بم برسانے کی نوبت آتی، چنانچہ ہمارے برادر خلیجی ملک کی پرسکون نیند برہم کرنے کے لئے عراق میں اہل ِ تشیع سر نہ اٹھاتے۔

مانا کہ انسان غلطی کا پتلا ہے لیکن غلطی انسان کی تجسیم نہیں ۔ اور پھر چھوٹی موٹی لغزشوں اور مہیب غلطیوں کا ترازو ایک سانہیں ہوتا۔ جب بھارت جیسا ملک غلطی کرتا ہے تو اس کے لئے کشمیر کا بحران جنم لیتا ہے یا پھر اُسے گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان کی غلطی جہادی گروہ تشکیل دیناہے اور وہ پلٹ کر خود اسے ہی لہولہان کردیتے ہیں۔ عظیم سلطنت ِ روما کی غلطیاں خطے میں رستخیز برپا کرتے ہوئے سیاسی و جغرافیائی معروضات کو برہم کردیتی ہیں۔ یقینا لیبیا میں القاعدہ اپنا وجود نہیں رکھتی تھی اور کرنل قذافی اپنے ملک میں اس کی ایک جھلک تک دیکھنے کے روادار نہیں تھے، لیکن پھر مغرب نے اُنہیں منظر سے ہٹا دیا اور پھر کیا تھا، لیبیا اسلامی شورش پسندی کا گڑھ بن گیا۔ وہ دن اور آج کا دن، لیبیا کو امن نصیب نہیں ہوا۔ تاہم دیگر محاذوں کی نسبت لیبیا قدرے منظر سے ہٹ کرتھا لیکن مغرب اور امریکہ کا ایجنڈاشام جیسی ہولناک خانہ جنگی کی صورت میں بھی تکلیف دہ حد تک ادھورا اور نامکمل رہا۔ ترکی ، اور بعض خلیجی ممالک بشار الاسد کو منظر سے ہٹانا چاہتے تھے ۔ امریکہ بھی اسد کو ناپسند کرتا تھا کیونکہ اُن کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور ایران اور شام ، دونوں حزب اﷲ کی پشت پناہی کرتے ہیں، چنانچہ امریکہ اور اسرائیل کو یہ تعلق کیسے گوارا ہوسکتا ہے؟مختلف وجوہ کی بنا پر ترکی، ایک خلیجی ملک ،امریکہ اور فرانس نے ’’ہولی الائنس ‘‘قائم کرتے ہوئے مسٹر اسد سے چھٹکارہ پانے کی تدبیر کی ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کامیاب ہوجاتے لیکن تین وجوہات کی بنا پر ان کا ترکش ہدف سے دوررہا…(1)بشار الاسد کی مزاحمت، (2) ایران کی حمایت، (3) ولادیمیر پیوٹن کے دل میں یہ احساس جاگزیں ہونا کہ اُنہیں لیبیا میں مغربی مداخلت کے وقت قذافی کی مدد کو پہنچنا چاہئے تھا لیکن پھر’’دیر آید ، درست آید‘‘ کے مصداق اُنھوں نے سمجھ لیا کہ بہت ہوگئی، اب امریکہ کا ہاتھ روکے جانے کی ضرورت ہے۔ ایک چوتھے عوامل ، حزب اﷲ کی دلیری، کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ عرب دنیا کی یہ واحد طاقت ،جو اسرائیل کے سامنے کھڑی ہونے کی ہمت رکھتی ہے، عملی طور پر اسد کی حمایت میں میدان میں کود پڑی۔

خانہ جنگی نے عراق کو برباد کردیا، دولاکھ کے قریب ہلاکتیں، لاکھوں عراقی مہاجر، بے شمار شہر اور قصبے ملبے کا ڈھیر، لیکن بشارالاسد کی دمشق میں موجودگی ترکی ،بعض خلیجی ریاستوں، اور مغربی ممالک کی جھنجھلاہٹ میں اضافے کا باعث بنی رہی۔ یہ خلیجی ممالک صدر اوباما کے رویے سے بھی پریشان ہیں کیونکہ اُنھوں نے ابھی تک شام پر بمباری نہیں کی۔

دیگر معاملات سنگین تھے لیکن انہیں کنٹرول کیا جاسکتا تھا، تاہم شامی بحران نے بنیادپرستی اورانتہا پسندی کی ایسی آگ بھڑکائی کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ جس طرح عراق میں امریکی حملے نے القاعدہ کو فروغ دیا، شام میں پھیلنے والی شورش کی وجہ سے القاعدہ کو اپنا النصرہ فرنٹ وہاں داخل کرنے کا موقع مل گیا،شورش سے پلی زہریلی زمین سے جس فتنے نے سراٹھایا، اُسے دنیا داعش کے نام سے یاد کرتی ہے۔ جس وقت تک امریکی اس کے خطرے سے آگاہ ہوئے، یہ عراق اور شام کے علاقوں میں اپنے پائوں مضبوطی سے جماچکی تھی۔ اب امریکی جہاز داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنارہے ہیں، تاہم اس میں سیاست کی کارفرمائی بھی دکھائی دیتی ہے…۔ پہلے جشن منانے کے لئے آگ جلانا، پھر چیخ وپکار شروع کردینا اور پھر فائر انجن بلالینا۔

یوکرائن میں بھی یہی دائو آزمائے گئے۔ پہلے امریکیوں نے صدر وکٹر ینکوچ کو اقتدا رسے ہٹانے کا منصوبہ بنالیا۔ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ، وکٹوریہ نولینڈخوشی سے چہکتی رہیں ، لیکن پھر یکایک حالات بدلے اورروسی مداخلت کے سائے گہرے ہونے لگے۔ پیوٹن پورے قد کے ساتھ کھڑے دکھائی دئیے۔ اہم بات یہ ہے کہ یوکرائن کا بحران پیوٹن نے نہیں بلکہ امریکیوں نے پیدا کیا تھا۔ اب وہ اس لئے چیخ رہے ہیں کیونکہ نتائج ان کی توقعات کے خلاف ہیں۔ دوسری طرف پیوٹن ہمت سے مضبوط قدموں پر کھڑے رہے اور یہ امریکی تھے جنہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔یوکرائن اسلامی دنیا میں شامل نہیں، لیکن عراق اور شام اسلامی دنیا کے وہ مراکز ہیں جہاں مسلکی تفاوت کی لکیریں کھنچتی ہیں۔ بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے سنی گروہوں کو مڈل ایسٹ کی کچھ ریاستوں سے مدد ملتی تھی… داعش سنی مسلک کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری طرف ایران حزب اﷲ اور اسد کی پشت پناہی کررہا ہے ۔ اس کے علاوہ ایران داعش سے نمٹنے کے لئے عراقی حکومت کی مدد کررہا ہے۔ پاسداران ِ انقلاب(Revolutionary Guards) کی القدس فورس کے کمانڈر سید قاسم سلیمانی (ایرانی جنرل) عراقی جنگ میں ہدایات دے رہے ہیں۔ اس وقت وہ عراق میں سب سے بااثر شخص ہیں کیونکہ ان کی جنگی حکمت عملی نے داعش کی بغداد کی طرف پیش قدمی روک دی ہے۔

اس وقت امریکی اقدامات پر غور کرنے کاو قت ہے۔ صدام حسین کی طرف سے امریکہ کو کوئی خطرہ نہ تھا۔ وہ صرف اس کے لئے ایک جذباتی اشتعال کا باعث تھا ۔ چنانچہ دروغ گوئی کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے امریکہ نے عراق پر چڑھائی کردی۔ اس کے نتیجے میں اب خطے میں ایرانی اثر میں اضافہ ہورہا ہے۔ کیا امریکی ان نتائج سے آگاہ تھے؟اب ایک اسلامی خلیجی ملک کی الجھن کو سامنے رکھیں… سنی انتہا پسند گروہ اس ملک کی خاندانی بادشاہت کے خلاف ہیں لیکن ان گروہوں کے خلاف وہ ملک نہیں بلکہ ایران کارروائی کررہا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اسلامی انتہا پسندی سے زیادہ وہ ملک ایران سے نفرت کرتا ہے، وہ ایران، جو اس خطرے کا تدارک کرنے کی کوشش میں ہے جس کی زد میں خود یہ اسلامی ملک بھی آسکتا ہے۔ اس تمام مسئلے کے پیچھے خطے میں وہ امریکی مداخلت کارفرما ہے جسے اسرائیل نواز لابی نے تحریک دی۔ یہ لابی ایران سے سخت نفرت کرتی ہے، لیکن اسی مداخلت کی وجہ سے خطے میں ایران کا اثر گہراہوتا جارہا ہے۔ اس طرح اسرائیلی لابی ایران کے لئے مفید حامی ثابت ہوئی۔

واقعات کے یہ وہ نتائج ہیں جو کچھ عرصہ پہلے اس خلیجی ملک کے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ سنی الائنس میں توسیع دیتے ہوئے پاکستان، ترکی اور مصر کو بھی اس میں شامل کرنے جارہے ہیں۔ یہاں اس ملک کے پاس اہم ہتھیار، چیک بک ہے۔ دوسری طرف ایران کے پاس حزب اﷲ کی صورت میں زمین پر لڑاکا دستے موجود ہیں جبکہ بغداد میں بھی اس کی حامی قوتوں کی حکومت ہے۔

دوسری طرف جنوبی یمن میں ایک شیعہ ملیشیا موجود ہے۔ اگر اس کی عالمی طاقتوں کے ساتھ کوئی جوہری ڈیل ہوگئی تو پھر کیا ہوگا؟اس سے ایران کی عالمی حمایت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ اس پیش رفت پر اسرائیل کو بھی تشویش ہے تو بعض خلیجی ملکوںکوبھی خطرہ ہے۔ اس پس ِ منظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو اس کھیل کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہئے۔ یہ داخلی طور پر بدترین فرقہ وارانہ کشیدگی رکھتا ہے، اس آگ پر مزید ’’تیل ‘‘ گرانا حماقت ہوگی۔ اس میں ہمارے لئے سیکھنے کے لئے سبق یہ ہے کہ ایرانی ایک وسیع تر شطرنج پر اپنے مہرے آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت امریکی ایران سے ناراض دکھائی دیں لیکن امریکی رویے مستقل مزاجی سے عاری ہوتے ہیں۔ اس دوران پاکستان ماضی کی قید سے باہر نکل نہیں پایا ہے۔ اپنے رقبے، طاقتور فوج اور ایٹمی طاقت کے باوجودیہ کرائے کے سپاہی کا کردار ادا کرنے سے باز نہیں آتا۔ کیا ہماری تخلیق کا یہی مقصد تھا؟

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند