تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جمہوریت کے تقاضے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 20 جمادی الاول 1436هـ - 11 مارچ 2015م KSA 09:54 - GMT 06:54
جمہوریت کے تقاضے

قطع نظر اس کے کہ سینیٹ کے الیکشن میں پیسے کا لین دین ہوا یا نہیں ، یہ بات واضح ہے کہ ہمارا حکمراں طبقہ جمہوریت پر اسی حد تک عمل کرتا ہے جہاں تک ان کا کنٹرول قائم رہے۔ کہنے کو تو سینیٹ ایوان بالا ہے جس کا مقصد عاقل و دانا افراد پر مشتمل ایک ایسا ادارہ قائم کرنا ہے جو قومی اسمبلی کے قانون سازی کے عمل کو عارضی جذباتی کیفیات سے دور رکھ سکے۔ ایک طرح سے سینیٹ ملک کی قومی اسمبلی پر ایک ’’چیک‘‘ ہے ۔ لیکن پاکستان میں سینیٹ ایک ایسا ادارہ بن کر رہ گیا ہے جس میں حکمراں پارٹیوں کے وفادار ہی منتخب کروائے جاتے ہیں اور سینیٹ ان پارٹیوں کے لیڈروں کے ہاتھ میں ایسا کھلونا ہے جس سے وہ من پسند طریقے سے کھیل سکیں۔

سینیٹ کی ترتیب بھی اس طرح سے کی گئی ہے کہ ملک کی اکائیوں (صوبوں) کو تقریباً برابر کی نمائندگی دی گئی ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ زیادہ آبادی والے بڑے صوبے من مانی نہ کر سکیں اور چھوٹے صوبوں کے حقوق کے حصول کے لئے ایک پلیٹ فارم ہو۔ امریکہ میں چھوٹی سے چھوٹی ریاست سے بھی دو دو سینیٹر منتخب کئےجاتے ہیں حالانکہ آبادی کے لحاظ سے بعض ریاستیں (صوبے) اتنی چھوٹی ہیں کہ ان میں کانگریس کا صرف ایک نمائندہ ہوتا ہے۔کانگریس کا الیکشن ہر دوسال کے بعد ہوتا ہے جبکہ سینیٹرز چھ سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد بھی یہ ہے کہ سینیٹ ملک کے طویل المیعاد مفادات کی نگہداشت کرسکے۔ پاکستان میں سینیٹ کے ادارے کے یہی مقاصد ہیں لیکن عملی طور پر یہ ایک کمزور ادارہ ہے جس کو حکمراں جماعتوں کے ’’بڑے‘‘ اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں ابھی تک حکمران سیاسی پارٹیاں جمہوریت کا لباس اوڑھ کر اس کی روح سے بیگانہ ہیں۔ ان کا انداز حکمرانی وہی ہے جو انگریز کے زمانے میں تھا۔ وائسرائے نوکر شاہی کے ذریعے نظام حکومت چلاتا تھا۔ نچلی سطح پر ڈپٹی کمشنر ضلع کا بادشاہ ہوتا تھا جو نمبرداروں، پٹواریوں اور تھانے کے ذریعے حکومتی فرائض سرانجام دیتا تھا۔ جب انگریزی دور میں اسمبلیوں کا نظام متعارف ہوا تو بااثر زمینداروں ، پیروں اور وڈیروں کو ریاستی نظام کا حصہ تسلیم کرلیا گیا لیکن حکومتی ذمہ داریاں نوکر شاہی کے ہاتھ میں ہی رہیں۔ اسی سیاسی بندوبست کے تحت ایوب خان کا بی ڈی سسٹم معرض وجود میں آیا۔ بعد میں آنے والے ڈکٹیٹروں نے بھی اسی سلسلے کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس نظام کو ایک چھوٹا سا جھٹکا 1970میں لگا جب پیپلز پارٹی کی عوامی تحریک نے آبادی کے ہر حصے کو متاثر کیا اور کسی حد تک منتخب نمائندوں کی ریاست کے معاملات میں دراندازی کا دروازہ وا کردیا۔لیکن فوجی ادوار اور اسٹیبلشمنٹ کی بڑھتی ہوئی طاقت جمہوری ثمرات کو عوام کی سطح تک لانے میں ناکامی کا سبب بنتی رہی۔ جمہوری ادوار سے صرف یہ فرق پڑا کہ منتخب نمائندے بھی نوکر شاہی کی لوٹ مار کے نظام کے شراکت دار بن گئے۔ جاگیر داری کے علاقوں میں تو سیاسی خاندانوں نے چھوٹی چھوٹی بادشاہتیں قائم کر لیں اور نوکر شاہی کو اپنے تابع کر کے اس کا کردار انگریز کے زمانے سے بھی بدتر بنا دیا۔

پاکستان میں سیاسی نظام اس کے معاشی حالات کا تابع تھا۔ دوہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے معاشرے کا زیادہ تر حصہ خود کفیل دیہات پر مشتمل ہوتا تھا۔نہ صرف دیہات خود کفیل تھے بلکہ ان میں بسنے والے خاندان بھی اپنی ضروریات اپنے وسائل سے پوری کرتے تھے۔ شہری آبادی نسبتاً بہت چھوٹی تھی اور وہ بھی نوکر شاہی اور دیہات کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مخصوص تھی۔ اس پہلو سے بڑی جاگیرداری اور خود کفیل کسان علاقوں میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ اس معاشرے کی بنیادی خصوصیت یہ تھی کہ دیہی آبادی کو کاروبار ریاست سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ بڑے زمیندار، جاگیردار اور وڈیرے ہی ریاست کا سیاسی بازو ہوا کرتے تھے۔ اس نظام میں تبدیلی زرعی اصلاحات سے آسکتی تھی جس طرح ہندوستان میں ہوا۔ زرعی اصلاحات کے ذریعے ہندوستان میں جاگیردار طبقے کا سیاسی اثر و رسوخ ختم کرنے کا کامیاب تجربہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے سیاسی نظام میں درمیانے طبقے اور عوام کی نمائندگی کافی بہتر ہے۔ نریندر مودی ہوں یا من موہن سنگھ دونوں ہی درمیانے طبقوں سے ابھر کر اوپر آئے ہیں۔ پاکستان میں کبھی بھی زرعی اصلاحات نہ ہوسکیں اس لئے جاگیردار طبقہ ریاستی سیاست پر حاوی رہا۔ اب جاگیردار طبقے کے ساتھ ساتھ بڑا صنعتی اور کاروباری طبقہ سیاسی حاکمیت پر چھاتا جا رہا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے نئے صنعتی اور کاروباری حکمران طبقات کا انداز فکر ہر طرح سے قدامت پرست اور جاگیردارانہ ہے۔نیا حکمران طبقہ بھی جاگیرداروں کی طرح خاندانی سیاست سے نظام پر پورا کنٹرول قائم رکھنے پر بضد ہے۔ اب بھی نئے حکمران اپنے آپ کو وائسرائے سمجھتے ہوئے نوکر شاہی کے ذریعے نظام سلطنت چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اب پاکستان کی معاشی اور سماجی ترتیب بالکل تبدیل ہو چکی ہے۔ مشینی پیداوار اور ٹیکنالوجی نے خود کفیل دیہات کا نظام مکمل طور پر ختم کردیا ہے۔ اب دیہی علاقے بھی ہر پہلو سے منڈی کے اصول و ضوابط کے تابع ہیں۔ اب دیہات میں ضرورت کی ہر چیز منڈی سے آتی ہے اور پیداوار منڈی میں بکتی ہے۔ اب بجلی، ٹیلیفون ، ذرائع نقل و حمل کی تبدیلی سے دیہی عوام کی ضروریات اور توقعات شہروں سے مختلف نہیں ہیں۔ انہی عوامل کے تحت شہروں کی طرف نقل مکانی بہت تیزی کے ساتھ ہوئی ہے، نہ صرف پرانے شہر میلوں تک پھیل گئے ہیں بلکہ جگہ جگہ نئے شہروں اور قصبات نے جنم لے لیا ہے۔ اب وسطی پنجاب خود ایک بہت بڑا شہر بن چکا ہے۔ ان بنیادی معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے عوام کے تقاضے بدل چکے ہیں اور اسی بنا پر ان کی سیاسی تمناؤں میں فرق آچکا ہے۔ اب عوام کی اکثریت ریاستی امور سے اس طرح بیگانہ نہیں ہے جس طرح سے دیہی علاقوں کی خود کفالت کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ اسی لئے اب اقتدار کو مقامی سطح تک لے جانا معاشرے کے ایجنڈے پر بہت نمایاں ہے۔

پاکستان کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں درمیانے طبقات میں کافی وسعت آئی ہے اور یہ نیا پیدا ہونے والا درمیانہ طبقہ ریاستی اقتدار میں اپنا حصہ مانگ رہا ہے۔ پاکستان میں آزاد عدلیہ کے لئے وکلاء کی تحریک اسی کا حصہ تھی۔ سپریم کورٹ کابلدیاتی انتخابات کو لازمی قرار دے کر صوبائی حکومتوں کو حکم جاری کر نا درمیانے طبقے کے ایجنڈے کے مطابق ہے۔ اب یہ روز روشن کی طرح واضح ہوچکا ہے کہ ملک کا نظام چند خاندان اپنی مٹھی میں لے کر اقتدار کو عوامی سطح پر جانے سے روک نہیں سکتے۔ اب نئی منڈی کے نظام کے تحت معاشرہ اتنا پیچیدہ ہو چکا ہے کہ انگریز کے زمانے کا ماڈل کسی بھی شکل میں کار آمد نہیں رہا ہے۔ اب ایک ایسے نئے ماڈل کی ضرورت ہے جو کہ دنیا کے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں نافذ ہے۔ اس ماڈل کے تحت مقامی ضرورتوں کو مقامی حکومتیں ہی پورا کرتی ہیں۔ پاکستانی سیاست کے ناخداؤں کو معاشرے کی نئی حقیقتوں کو سمجھ کراپنے آپ کو تبدیل کر لینا چاہئے وگرنہ یہی تبدیلیاں کسی ناخوشگوار انداز میں سامنے آئیں گی۔ اب چند شہروں میں چند سڑکیں، فلائی اوورز اور انڈر پاسز تعمیر کر کے عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ اب جمہوریت کے ثمرات کو نیچے تک لے جانا ہوگا اور پورے نظام حکومت کو بدلنا ہوگا۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند