تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شاہراہ جمہوریت کے سنگ میل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 22 جمادی الاول 1436هـ - 13 مارچ 2015م KSA 08:34 - GMT 05:34
شاہراہ جمہوریت کے سنگ میل

ہر معاشرے میں خوش گمانی اور بدگمانی کے درمیان کشمکش جاری رہتی ہے۔ منگل کی رات جب پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف زرداری کے عشائیے میں حکمران جماعت کے سربراہ جناب نوازشریف نے سینیٹ کی چیئرمین شپ کے لیے میاں رضا ربانی کی باقاعدہ حمایت کا اعلان کیا ، تو خوش گمان لوگوں نے کہا کہ جمہوریت فتح یاب ہوئی ہے اور مفاہمت کی سیاست کا ایک عظیم سنگِ میل ثبت ہو گیا ہے۔ اب رضا ربانی حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کے مشترکہ اُمیدوار ہیں جو اُن کے لیے واقعی بہت بڑا اعزاز ہے۔ اُنہوں نے اِس اعزاز کے لیے سیاسی جماعتوں کا شکریہ بھی ادا کیا اور اِس امر کا یقین بھی دلایا کہ وہ پارلیمانی خود مختاری کا پورا پورا تحفظ کریں گے۔ ہم اُنھیں مبارکباد پیش کرتے ہیں اور یہ احساس دلانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اُنھیں قدرت نے جو یہ بلند منصب عطا کیا ہے، اس کے تقاضے احتجاجی سیاست سے بہت مختلف ہیں۔ اُنھیں غیرمعمولی توازن سے کام لینا اور مملکت کے وقار اورمفاد کا بہت خیال رکھنا ہو گا۔ انھوںنے پیپلز پارٹی کے عہدے سے مستعفی ہو کر ایک اچھی روایت کی بنیاد رکھ دی ہے اور غیرجانب داری کا ایک اچھا تاثر قائم کر دیا ہے۔ صحت مند سوچ کے لوگوں نے وزیراعظم کی فراخ دلی اور سیاسی بصیرت کو خراجِ تحسین پیش کیا ،جبکہ ہر بات میں کیڑے نکالنے والے لوگوں نے اُن کی ’حکمت عملی‘ کو سیاسی پسپائی اور انسانی نفسیات کو سمجھنے میں ناکامی قرار دیا ہے۔

وجوہات کچھ بھی ہوں، ایک نازک مرحلے میں ہماری قومی قیادت نے جس سیاسی پختگی اور بلند نگاہی کا ثبوت دیا ہے،اِس نے اُن کے وقار میں اضافہ کیا ہے اور اُن ’تاجروں‘ کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے ہیں جو سینیٹ کے اعلیٰ عہدے کی خرید و فروخت کے لیے اپنی تجوریاں کھولے بیٹھے تھے۔ لگتا ہے کہ جناب نوازشریف کے اندر بہت بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اُنہوں نے جلاوطنی کے اذیت ناک طویل دور میں گزرے ہوئے واقعات کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا اور اِس نتیجے تک پہنچے کہ پاکستان میں سیاست کو صحت مند خطوط پر فروغ دینے کے لیے مذاکرات اور برداشت کے رویے ازبس ضروری ہیں۔ اِسی احساس نے اُنہیں ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ پر دستخط کرنے اور اِس پر حقیقی اسپرٹ کے ساتھ عمل کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ 2013ء کے انتخابات میں وہ اِس پوزیشن میں آ گئے تھے کہ بلوچستان میں اپنی پارٹی کی حکومت بنا لیتے،مگر اُنہوں نے قومیت پرست جماعت نیشنل پارٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کو اقتدار کا مالک بنا دیا۔ خیبر پختونخوا میں اُنہیں مولانا فضل الرحمٰن نے مخلوط حکومت بنانے کی ترغیب دی ، مگر اُنہوں نے میثاقِ جمہوریت کے مطابق سنگل لارجسٹ پارٹی، تحریکِ انصاف کو حکومت کی عنان سونپ دی۔ اُن کا یہی جذبہ میاں رضا ربانی کے معاملے میں بھی بروئے کار آیا ہے اور مفاہمت کی سیاست کرنے والوں نے لوحِ تاریخ پر اپنے نام رقم کر لیے ہیں۔

سینیٹ کے انتخابی تجربے کے بعض پہلو قدرے خوش آئند اور بعض غور طلب ہیں۔ بلاشبہ اِس بار گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں خاصی کم ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے۔ اِس کارِخیر میں پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم کے علاوہ تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خاں نے اہم کردار ادا کیا۔ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف سب سے طاقت ور آواز اُنہی نے اُٹھائی اور جناب وزیراعظم نے اِسی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بائیسویں آئینی ترمیم لانے کا عندیہ دیا جو تنازع بن گیا۔ تاہم ہارس ٹریڈنگ کے خلاف جو رائے عامہ تیار ہوئی ، اُس کے دبائو میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے سندھ میں نشستوں کی تقسیم کا معاہدہ کیا اور لین دین کا دروازہ بند ہو گیا۔ خیبرپختونخواہ میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے عمران خاں پشاور جا بیٹھے اور پارٹی کے مینڈیٹ سے انحراف کرنے والے اپنی جماعت کے ارکانِ اسمبلی کو دھمکیاں دیتے رہے کہ اُن کی رکنیت ختم کر دی جائے گی اور اُنہیں جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنے ایک رکن اسمبلی کو نااہلی کا نوٹس بھیج دیا جس نے دوسری جماعت کے امیدوار کے کاغذات پر تجویز کنندہ کی حیثیت سے دستخط کیے تھے۔ اِس طرح ہارس ٹریڈنگ کا مہیب خطرہ ٹل گیا اور وہ خاندان سرنگوں ہو گیا جو اپنی دولت کے بل بوتے پر سینیٹ میں تین تین نشستیں حاصل کر لیتا تھا۔ بلوچستان میں مسلم لیگ نون کو خاصا دھچکا پہنچا جس کے باعث ایوانِ بالا میں اُس کی پوزیشن کمزور ہو گئی۔ اب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت پیدا ہو جانے سے ماحول کے بہتر ہو جانے کی واثق اُمید کی جا سکتی ہے۔

سینیٹ کے انتخابات سے ہماری سیاسی قیادتوں کو سبق سیکھنے اور ایوانِ بالا کو معتبر اور مستحکم بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ مختلف صوبوں میں ارکانِ اسمبلی کے جو رویے سامنے آئے ہیں ، وہ اِس بنیادی حقیقت کا احساس دلاتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اخلاقی اصولوں پر منظم کی جائیں، اُن میں ہر سطح پر جمہوریت فروغ پائے اور فیصلے اجتماعی طور پر کیے جائیں۔ ہماری قومی قیادت کو یہ سنگِ میل بھی تعمیر کرنا ہو گا۔ آج حالت یہ ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں میں کارکنوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ، وہ فیصلوں میں شامل نہیں کیے جاتے اور اُنہیں اسمبلیوں میں آنے اور حکومت کے معاملات چلانے کا موقع نہیں ملتا ، چنانچہ ہمارے حکمران زیادہ تر بیورو کریسی پر انحصار کرتے ہیں جن کو سیاسی انداز سے امورِ مملکت چلانے کی تربیت نہیں ہوتی اور بحران پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں کے ارکانِ اسمبلی نے اپنی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے سے جو گریز کیا ، اُس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اُن سے امیدواروں کو ٹکٹ دیتے وقت مشورہ نہیں کیا گیا اور اہل اور اچھی شہرت رکھنے والے افراد نظرانداز کر دیے گئے۔ علاوہ ازیں دوسرے صوبے سے لوگ برآمد کیے گئے جو آئین کی روح کے منافی ہے۔ وہ انتخابات سے ایک رات پہلے جو صدارتی حکم جاری جوا جس سے وزارتِ قانون اور وزیراعظم آفس بھی لاعلم تھے ، اُس نے فاٹا کے ارکانِ قومی اسمبلی میں زبردست ہیجان پیدا کیا۔ اُس حکم کے اندر اِس قدر ابہام تھا کہ الیکشن کمیشن کے لیے فاٹا میں انتخابات کا انعقاد ناممکن ہو گیا۔ ماہرینِ قانون کی نگاہ میں یہ صدارتی حکم آئین کے عین مطابق تھا ، لیکن اِس کے اجرا میں تاخیر سے ایک دھماکہ خیز صورتِ حال پیدا ہو گی ۔ اِس حادثے نے اِس تاثر کو مزید گہرا کیا کہ حکومت بروقت فیصلے کی اہلیت سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔سینیٹ کے انتخابات میں جو سقم سامنے آئے ہیں ، اُن کی اصلاح پر نہایت سنجیدگی سے توجہ دی جانی چاہئے۔

تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص حکمران جماعت کو یہ سنگِ میل بھی ثبت کرنا ہو گا کہ وہ سینیٹ کو ایک ایسا ادارہ بنائیں گے جس میں ہر شعبے سے چوٹی کی شخصیتیں منتخب کی جائیں گی جن کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے قانون سازی کا معیار بلند کیا جائے گا‘ امورِ مملکت میں شفافیت آئے گی اور وفاقی اکائیوں کے حقوق اور مفادات کی بہتر طور پر حفاظت کی جا سکے گی۔ اِس مقصد کے لیے ایوانِ بالا کے اختیارات میں اضافے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ امریکہ میں تمام کلیدی عہدوں کے تقرر کی توثیق سینیٹ کرتی ہے۔ ہم بھی اپنے حالات کے مطابق ایک قابلِ عمل نظام وضع کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہماری قومی قیادت کو ایک نہایت کڑے احتساب کا بندوبست کرکے ایک اور عظیم کارنامہ سرانجام دینا ہو گا۔ آج کل سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن ایک تحقیقات کا سامنا کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنی سرکاری اور غیر سرکاری ای میلز بھیجنے کے لیے سرکاری ای میل سسٹم کے بجائے ذاتی ای میل ایڈریس استعمال کیا جو بہت سنگین خلاف ورزی ہے۔ کاش! ہم بھی اپنے سرکاری معاملات میں ایسی شفافیت لا سکیں! آج کے انتہائی کشیدہ اور خون آلود ماحول میں ہمیں روشنی کاایک مینار تعمیر کرنا ہو گا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس امر پر اتفاق کریں کہ وہ اپنے اندر قاتلوں،دہشت گردوں،اور بھتہ خوروں کوپناہ دیں گی نہ قانون کی حکمرانی اورمیرٹ کی پاسداری پر کوئی سمجھوتہ کریں گی اور عوام کی فلاح و بہبود کو اوّلین اہمیت دیں گی۔ اس اعلامیے پر حقیقی عملدرآمد سے ہماری سیاست میں ایک زبردست انقلاب آ سکتا ہے۔ تب رینجرز کوقاتلوں اور جرائم پیشہ لوگوںکی تلاش میںنائن زیروپر چھاپہ نہیںمارنا پڑے گا اور کراچی کاامن بار بار خون میں لتھراہوا دکھائی نہیں دے گا۔تب ہی جمہوریت اور قانون کی بالادستی مستحکم ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند