تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جہاز کی نہیں تو ایوان بالا کی کپتانی ہی سہی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: پیر 25 جمادی الاول 1436هـ - 16 مارچ 2015م KSA 22:39 - GMT 19:39
جہاز کی نہیں تو ایوان بالا کی کپتانی ہی سہی

والدین کی بہت خواہش تھی کہ ان کا بیٹا سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے سول سروس جوائن کرے لیکن آسمان پر کمندیں ڈالنے کے شوقین لاڈلے کو پاک فضائیہ میں پائلٹ بننے کا جنون تھا۔ فضاؤں کو تسخیر کرنے کا شوق ائر فورس سے وابستہ والد صاحب سے ورثے میں ملا تھا لیکن رسالپور میں پاک فضائیہ کے پہلےفلائٹ انسٹرکٹر کا اعزاز حاصل کرنے والے ربانی اپنے بیٹے کا شوق پورا کرنے کیلئے کچھ نہ کر سکے۔وجہ مشیت ایذدی ٹھہری،بیٹے کو نظر کی کمزوری کی وجہ سے چشمہ لگ گیا اور نظر کے ساتھ اس کا پائلٹ بننے کا خواب بھی دھندلا گیا۔ بیٹے نے والدین کے خوابوں کی تعبیر کیلئے بیرون ملک سےاعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا عزم کیا،دنیا کی اعلٰی تعلیمی درسگاہوں کیمبرج اور برکلے یونی ورسٹی سے داخلے کیلئے آفر لیٹرز بھی موصول ہو گئے لیکن تب تک تقدیر اس نوجوان کو عبد الحفیظ پیرزادہ سے ملوا چکی تھی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی رہنماؤں اور آئین پاکستان کے تخلیق کاروں میں شامل عبد الحفیظ پیرزادہ جیسے سیاسی گرو کی تربیت رنگ دکھانے لگی اور یہ نوجوان نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے شعلہ بیانی کرنے لگا۔ لفظوں سے کھیلنے کا ہنر کیا سیکھا کہ نیشنل آرگنائزیشن آف پروگریسو اسٹوڈنٹس کی صدارت کے ذریعے سیاست کو ہی اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ خارزار سیاست میں قدم رکھنے کی وجہ سے ایل ایل بی کا امتحان بھی جیل سے پاس کرنا پڑا۔ سیاست کے داؤ پیچ سیکھنے کے بعد آئینی موشگافیوں کوسمجھنے کے لئے بھی پیرزادہ کا دامن تھامے رکھا اور یوں ان کی تربیتی بھٹی سے گزر کر رضا نام کا یہ نوجوان میاں رضا ربانی جیسا کندن بن گیا۔ جی ہاں وہی میاں رضا ربانی جن کو بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کے ساتھ بطور اے ڈی سی کام کرنے والے ان کے والد میاں عطاء ربانی نے انمول درس یہ دیا تھا کہ نظم و ضبط اور ایمانداری پر کبھی سمجھوتہ نہ کرنا۔ جنہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کے والد سرکار کی طرف سے ملی ہوئی گاڑی صرف سرکاری امور کی انجام دہی کے لئے استعمال کرتے تھے۔

اگر ان کی والدہ کو گھریلو مصرف کےلئے گاڑی درکار ہوتی تھی تو اس دور کے رول سیون نائن تھری کے تحت ذاتی بجٹ سے پیسوں کی ادائیگی کر کےسرکاری گاڑی استعمال کرتی تھیں۔ ایسے ماحول میں پرورش اور رگوں میں دوڑنے والے خون کا اثر ہے کہ اس کرپشن زدہ ماحول میں بھی میاں رضا ربانی کے ہاتھ ایسے صاف ہیں کہ سیاسی حریف بھی ان کی حق گوئی اور دیانت داری کی گواہی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہیرے کی قدر جوہری ہی جانتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جب 1993 میں سینیٹر عبد اللہ شاہ کو وزیر اعلی سندھ بنایا تو شہید بے نظیر بھٹو نے ان کی جگہ میاں رضا ربانی کو ضمنی انتخاب میں پہلی بار سینیٹر منتخب کرا کے ایوان بالا میں بھجوا دیا۔ ان کے ہم عصر رہنماوں کو ان کے بعد1994 میں منعقد ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں ایوان بالا آنے کا موقع ملا۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہی تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر انہیں فائز کیا۔ دلائل سے دوسروں کو قائل کرنے پر یقین رکھنے والے جیالے نے اپنی محسن شہید بی بی کے سامنے بھی حق گوئی کا دامن نہ چھوڑا یہاں تک کہ جب بے نظیر بھٹو نے آخری ایام میں اس وقت کے حکمراں پرویز مشرف کے ساتھ این آر او سائن کیا تو بھی وہ کلمہ حق کہنے سے باز نہ آئے۔

ایک میٹنگ میں بی بی کے سامنے مفاہمت کے نام پر جاری کروائے گئے اس آرڈیننس کو میثاق جمہوریت کی نفی کے مترادف قرار دے دیا۔ اس سے قبل دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے پرویز مشرف نے لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا تو غیر جمہوری حکمراں کے اس اقدام کو اپنے قلم کی روشنائی سے آئِین کے ساتھ دھوکہ قرار دیا۔ سیاسیات کے استاد میکاولی نے کہا تھا کہ سیاست میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی اور صرف ذاتی مفاد مقدم ہوتا ہے لیکن میاں رضا ربانی جیسے سر پھرے نے پہلے پرویز مشرف سے وفاقی وزارت کا حلف لینے سے انکار کر کے اور بعد میں ق لیگ سے اتحاد کے خلاف وزارت سے استعفیٰ دیکراس مفروضے کو بھی جھٹلا دیا تھا۔ اپنی پوری سیاسی زندگی آمریت کے خلاف جدو جہد کرنے اور آئین پاکستان کو غیر جمہوری شقوں سے پاک کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے میاں رضا ربانی کو جب پیرانہ سالی میں فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں ووٹ دینا پڑا تو ضمیر کی کسک نے آبدیدہ ہونے پر مجبور کردیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کا عہد ہو یا شریک چئیرپرسن آصف علی زرداری کا دور اقتدار، یہ جمہوریت پسند پارٹی کے اندر رہتے ہوئے اصولی اختلاف کرنے سے کبھی نہیں ہچکچایا، یہی وجہ ہے کہ جو منصب2009 میں انہیں ملنا تھا وہ چھ سال کے بعد اس کے حق دار ٹھہرے۔

تب تو خواہش بھی تھی لیکن اس بار تو ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا اور وہ صرف دو دن قبل عمرہ کی ادائیگی سے واپس لوٹے تھے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ میکاولی کے پیروکار آصف زرداری نے انہیں چئیرمین سینیٹ بنوا کر ایک تیر سے دو نہیں بلکہ کئی شکار کئے ہیں۔ نہ صرف حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور کر کے مسلسل تیسری بار سینیٹ کا کنٹرول حاصل کیا بلکہ پیپلزپارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل کا اہم عہدہ خالی کرکے راستے کا آخری پتھر بھی ہٹادیا ہے۔ میاں رضا ربانی نے نئے منصب پر فائز ہونے کے بعد ایک ملاقات کے دوران میرے بے حد اصرار پر اپنی قائد شہید بی بی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ بی بی کے ساتھ بے شمار دفعہ اختلاف رائے ہوا تھا لیکن وہ دلیل دینے پر قائل ہو جایا کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ایک معاملے پر ان کی اپنی قائد سے کافی تلخی ہو گئی تو انہوں نے سوچا کہ اب بی بی ان کے ساتھ دیر تک ناراض رہیں گی لیکن ابھی وہ اپنے دفتر ہی پہنچے تھے کہ گرین فون بج اٹھا، دوسری طرف وزیر اعظم تھیں، بولیں، رضا تمہارا موقف درست تھا ،جیسے تم نے کہا ویسے ہی ہو گا۔

ہمیشہ صاف بات کرنے والے میاں رضا ربانی نے یہ بھی بتایا کہ وہ بی بی کے ساتھ گزرے وقت کو یاد نہیں کرتے کیوں کہ ان کا دل بوجھل اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور پھر واقعی بوجھل دل کے ساتھ انہوں نے یہ بتا کر بات ختم کی کہ وہ تو شہید بے نظیر بھٹو کی تصویر کو دیکھنے کی تاب بھی نہیں لاسکتے اس لئے کہیں بی بی کی تصویر دکھائی دے تو نظریں چرا لیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اورشہید بی بی کے ساتھ ان کی جذباتی وابستگی اپنی جگہ اٹل حقیقت ہے لیکن بے داغ سیاسی زندگی کے حامل میاں رضا ربانی سے یہ توقع رکھنا غیر حقیقی نہیں ہو گا کہ وہ بطور چئیرمین سینیٹ بھی کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گےاور ان کا ہر اقدام آئِین کے مطابق ہو گا۔ ویسے تو چئیرمین سینیٹ کا حلف اٹھانے کے دوران ان کی طرف سےادا کئے گئے الفاظ ہی مستقبل کے عزائم کا پتہ دینے کے لئے کافی ہیں جس میں انہوں نے پارلیمنٹ کوغیر جمہوری قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنانے کا اعلان کیا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند