تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اب عیسائی کیا کریں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 27 جمادی الاول 1436هـ - 18 مارچ 2015م KSA 08:29 - GMT 05:29
اب عیسائی کیا کریں

جب عیسائی برادری کے گھروں کو گوجرہ میں جلا دیا گیا ، جب توہین کے کسی واقعے پر حسب ِ معمول عوامی جذبات کو مشتعل کرکے لاہور کی جوزف کالونی کو تا راج کیا گیا، جب اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے عیسائی میاں بیوی کو زندہ جلا دیا گیا تو صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور پولیس کہاں تھیں ؟چنانچہ لاہور کے دوگرجا گھروں میں ہونے والے بم دھماکوں میں پندرہ افراد کے ہلاک اور درجنوں کے زخمی ہوجانے کے بعد جب عیسائی برادری نے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچایا اور اسی دوران دو افراد (جن کے بارے میں ہم ابھی تک حتمی طور پر نہیں جانتے کہ وہ کون تھے اور ان کا قصور کیا تھا؟) کو مشتبہ قرار دے کر تشدد کرنے کے بعد زندہ جلا دیاتو کس کو مورد ِ الزام ٹھہرایا جائے جبکہ اس دوران حکومت ذمہ داری سے روایتی پہلو تہی کرتے ہوئے سکوت کی تصویر بنی رہی؟

جب عوام کے لئے امن و امان کی صورت ِحال دگرگوں ہو اور اہم شخصیات گاڑیوں کے طویل کانوائے میں محافظوں کے جھرمٹ میں گزرتے دکھائی دیں تو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے۔چنانچہ جب کوئی معمولی سا واقعہ بھی پیش آئے تو پہلے سے ہی مشتعل عوامی جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔۔۔ اور دہشت گردی کا موجود ہ واقعہ کوئی معمولی معاملہ ہرگز نہیں تھا، اس لئے عوامی غیض کا لاوا بہہ نکلا۔ جب بھی اہل ِ تشیع کی امام بارگاہ پر حملہ ہوتا ہے، تو شیعہ نوجوانوں کے دل میں انتقام کے شعلے بھڑکنے لگتے ہیں۔ یہ ہے نفرت کے پانی سے سیراب کی گئی زمین میں اُگنے والی زہریلی فصل۔ اسٹریٹیجک گہرائی کے نظریات تراشتے اور جہادی کلچر کو ابھارتے ہوئے اسے ریاستی پالیسی سے ہم آہنگ کرنے والے دانشور اس زہریلی فصل کے کاشت کار ہیں۔ ان حلقوں نے بہت سے سوالات کا جواب دینا ہے۔ اگر پاکستان میں کوئی نظام ِ انصاف ہو تو انہیں چوراہوں میں کھڑا کرکے سرعام پوچھ گچھ کی جائے کہ اُنھوں نے وطن کو اس دلدل میں کیوں دھکیلا؟

یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ یہ سیکورٹی اور دفاعی ادارے تھے جنہوں نے پاکستان کو ایک مخصوص مسلک، تکفیری فرقے، کی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھایا۔ کشمیر اور افغان جہاد کی آواز پر لبیک کہنے والوں کا تعلق اسی فرقے سے تھا۔ تاہم باعث اطمینان یہ کہ اب فوج ایک مختلف قیادت میں پاکستان کو اس جہادی کلچر سے پاک کرنے کاعزم کرچکی ہے۔ جہاں تک سویلین قیادت اور سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے تو وہ ان معاملات میں ’’جیسے تصویر لگادے کوئی دیوار کے ساتھ‘‘ سے بڑھ کر نہیں، وہ صرف اور صرف مالی مفاد کودیکھتے ہوئے حرکت میں آتی ہیں اور اسی کو باعث ِ برکت گردانتی ہیں۔ دراصل انتہا پسندی کو پالنے اوراس کی پشت پناہی کرنے والی طاقت ، فوج، ہی اس کا عفریت کا مقابلہ کرسکتی تھی۔ یہ جہادی کلچر شمال مغربی سرحد کے نزدیک مذہبی، جبکہ جنوب میں، سمندر کے ساحل کے نزدیک سیکولر شکل رکھتا ہے۔

جس دوران فوج ژولیدہ فکری اور تذبذب کا شکار رہی، عوام کی بے چینی ، بلکہ مایوسی ، میں اضافہ ہوتا گیا۔وہ دیکھ رہے تھے کہ انتہا پسند طاقتیں آگے بڑھتے ہوئے جہاں چاہے، اپنی مرضی سے وار کرلیتی ہیں جبکہ ریاست بے سمت ہی نہیں، ان کے سامنے بے دست و پابھی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم باعث ِصد اطمینان کہ اب فوج پوری بے جگری سے ان قاتل دہشت گردوں کا تعاقب کررہی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ منتخب شدہ جمہوری حکومت شمالی وزیرستان میں کارروائی کا نہیں کہہ سکتی تھی۔ کوئی حکومت بھی نائن زیرو پر چھاپے کا حکم دینے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی۔ یہ فوج اور خفیہ ادارے اور ان کے احکامات پر عمل درآمد کرنے والی رینجرز فورس تھی، جنھوںنے یہ ناممکن کام ممکن کر دکھایا۔ اور تو اور، ایپکس کمیٹیوں کے ذریعے صوبائی حکومتوں کو بھی درست راہ پر لگادیا گیا ہے۔ آپ کی مرضی، آپ اسے ’’soft coup‘‘ کہیں یا کچھ اور، لیکن جو کچھ بھی ہورہا ہے ، اُس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ اپنے تمام تر جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں ، اور اب ڈرون طیاروں، کے باوجود پاکستان کو اندرونی دشمن تباہ کررہا تھا۔ اگر فوج اس وقت بھی حرکت میں نہ آتی تو یوں سمجھیں کہ پانی سر سے گزرجاتا۔

سیاسی طبقے کی طرف سے ملنے والی نیم دلانہ حمایت فوج کے لئے کسی پریشانی کا باعث نہیں ہونی چاہیے،کیونکہ اہم بات یہ کہ عوام کی رائے اُن کے حق میں ہے۔ اس حمایت کے ہوتے ہوئے سیاسی طبقے کی بے ہمتی اور بزدلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس وقت باعث ِ تشویش ایک بات یہ ہے کہ دفاعی اداروں کی سوچ کس حد تک تبدیلی کے عمل سے گزری ہے؟ اگر جہاد کو الوداع کہا گیا تو منطقی اعتبار سے اس کا اطلاق مشرقی بارڈر، اور اس سے وابستہ تنظیموں، جیسا کہ جماعت الدعوۃ، پر بھی ہونا چاہیے ۔ یقینا اس وقت جماعت الدعوۃ بہت بڑے پیمانے پر فلاحی کام سرانجام دے رہی ہے، کسی کو اسے ایسے کاموںسے منع نہیں کرنا چاہیے ۔ جہاں تک کشمیر کی آزادی کے بارے میں بیانات کا تعلق، تو یہ آزادی ِ اظہار کے زمرے میں آتے ہیں، چنانچہ ان پر پابندی کی کوئی ضرورت نہیں۔ تاہم آج جہادی کلچر اور انتہا پسند ی کی گنجائش نہیں۔ حافظ سعید ایک محب ِ وطن اور انتہائی قوم پرست شخص ہیں، چنانچہ ان سے اور ان کی تنظیم سے توقع کی جانی چاہیے کہ اس وقت وہ سمجھ جائیں گے کہ وطن سے جہاد کا دور گزرچکا ، نیز اگر پاکستان کو مشکلات کے گرداب سے نکالنا ہے تو اسے نئی سمت کی طرف گامز ن کرنا ہوگا۔

پریشانی کی دوسری وجہ کا تعلق افغانستان سے ہے۔ ہمیں امن کے لئے کوشش کرتے ہوئے وہاں آئینی حکومت کو تقویت دینے کے لئے جو بن پڑے کرنا چاہیے، تاہم وہاں اپنا اثر ورسوخ قائم کرنے کی روایتی کوشش حماقت ہوگی۔خداجانے کس کی رہنمائی یا کس گائیڈ بک سے سبق لیتے ہوئے ہم گزشتہ تین دہائیوں سےاس کی زمام ِ اختیار تھامنے کی کوشش میں اپنی انگلیاں، بلکہ سب کچھ ، جلا بیٹھے ہیں۔ اگر ہم دانائی کا مظاہرہ کریں تو ہم وہاں اپنا اثر قائم کرسکتے ہیں، لیکن جہادی کلچر کے بل بوتے پر نہیں۔ دنیا میں کچھ کام دماغ کے کرنے کے بھی ہوتے ہیں ۔ اس دوران ہمیں تاریخ کے سبق کو بھی یاد رکھنا ہوگا۔بر ِ صغیر نے افغانستان کو اتنا متاثر نہیں کیا جتنا افغانستان نے بر ِ صغیر کو۔ یہ درست ہے کہ مغل دور اور پھر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکمرانی میں افغانستان سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ یہ مہاراجہ تھے جنہوں نے افغانوں سے پشاور چھینا تھا۔ نادرشاہ کے حملوں کی وجہ سے افغانستان مغلوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ تاہم ، آج ہم نہ تو مغل ہیں اور نہ ہی ہماری صفوں میں کوئی مہاراجہ ہے، چنانچہ ایساکام کیوں کرنا ہو جس کے لئے ہم بنے ہی نہیں۔

دراصل ہم نظریے کے نام پر بے انتہا خرابیوں کو دعوت دے چکے ہیں۔ تحریک ِ پاکستان کے دوران جو بھی جذباتی نعرے لگائے گئے تھے، مسٹر جناح ایک ایسی ریاست کا قیام چاہتے تھے جہاں عقائد اور ذات کی کوئی اہمیت نہ ہو۔ تاہم قائدکا پاکستان انتہا پسندی کی بھینٹ کس طرح چڑھا، یہ ایک طویل اور تکلیف دہ کہانی ہے۔ آج ہم اس حماقت کی قیمت چکارہے ہیں۔ جب بھی کسی چرچ، کسی امام بارگاہ، کسی مسجد ، کسی اسکول، کسی عوامی مقام پر حملہ ہوتا ہے تو یہ حماقت انسانی ضمیر کے کٹہرے میں کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اب فوج کی قیادت میں ہمارا ’’گھرواپسی کا سفر ‘‘ شروع ہوا ہے۔۔۔ ایسے گھر کی طرف جو اس ملک کو بننا تھا، جو مسٹر جناح کا خواب تھا۔ کاش ہم دیگر طاقتوں کے آلہ ٔ کار بننے کی بجائے اپنے فیصلے خود کرتے تو شاید آج پاکستان ایک مختلف ملک ہوتا۔

اس دوران ایک اور حقیقت بھی پروان چڑھ رہی ہے ۔۔۔۔ میں اسے کم وبیش بھول ہی گیا تھا۔ دمشق میں بشار الاسد پوری استقامت سے اپنی جگہ پر کھڑے ہیں۔ بہت سی آزمائشیں جھیلنے کے بعد شامی فوج بھی جنگ آزما فورس بن چکی ، چنانچہ ہمارے امریکی دوست بھی اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہیں کررہے۔ اُنہیں احساس ہورہا ہے کہ اب مسٹر اسد سے بات کرنی پڑے گی۔ حالات جو بھی ہوں، عزم ایک ایسی دولت ہے جس کے سکے کبھی کھوٹے نہیں ہوتے، اور کوئی بازار انہیں مسترد نہیں کرتا۔ اس میں ہمارے لئے بھی ایک سبق ہے۔

پس ِ تحریر: (1) کیا میڈیا کے لئے وقت نہیں آگیا جب وہ کراچی کے حوالے سے خوف کو جھٹک کر کھڑاہوجائے؟دنیا کے کس ملک میں میڈیا اپنا گھنٹوں کے حساب سے ائیر ٹائم ماردھاڑ اور تشدد کا درس دینے والی تقریر وںکی نذرکرتا ہے؟نائن زیرو پر چھاپہ ایک بہت بڑاقدم تھا۔ اسے ایک نئے دور کا پیش خیمہ سمجھنا چاہیے۔

(2) لیجیے، ماڈل ٹائون سانحے کامعمہ حل ہوگیا۔ وزیر ِ اعلیٰ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ قبلہ رانا ثنا اﷲ کا اس واقعے سے کیا سروکار۔ توقیر شاہ ، جنہیں فوری طور پر WTO میں سفارت کارکے طور پر بھجوایاگیا، کو اس معاملے کا ذرہ بھر بھی علم نہیں۔ کسی پولیس افسر نے فائرنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ یقین جانیں، لاہور ایسا مقدس شہر ہے جہاں آن گرائونڈ فرشتے بھی فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اُس ون اُنھوں نے اپنی مافوق الفطرت طاقت سے کام لے کر پولیس کو فائرنگ کرنے پر مجبور کر دیا۔ چونکہ اُنھوں نے پولیس کی آنکھیں بند (مزید) کر رکھی تھیں، اس لئے وہ نہ دیکھ سکے کہ سامنے احتجاجی مظاہرین ہیں۔ چلیں چھوڑیں، عطااﷲ عیسیٰ خیلوی کے گیت کا ایک بول ذہن میں آرہا ہے۔۔۔ ’’سب مایہ ہے۔‘‘

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند