تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان، فلپائن کی ترقی سے سبق حاصل کرے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 27 جمادی الاول 1436هـ - 18 مارچ 2015م KSA 08:36 - GMT 05:36
پاکستان، فلپائن کی ترقی سے سبق حاصل کرے

طیارے کے پائلٹ نے اعلان کیا کہ تھوڑی ہی دیر بعد طیارہ منیلا کے اکینو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اُترنے والاہے جس کا نام آنجہانی سینیٹر اکینو کے نام پر رکھا گیا ہے۔ واضح ہو کہ فلپائن کے آنجہانی سینیٹر اکینو 1983ء میں جب 3 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد اپنے وطن تشریف لارہے تھے تو سرکاری خفیہ ایجنسی کے اہلکار نے اُنہیں طیارے کی سیڑھیوں پر گولی مارکر قتل کردیا تھا جس کے بعد پولیس نے قاتل کو گرفتار کرنے کے بجائے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تاکہ سازش کا پتہ نہ چل سکے تاہم سینیٹر اکینو کی اہلیہ کوری اکینو نے اپنے شوہر کے قتل کا الزام اُس وقت کے آمر صدر مارکوس کی حکومت پر عائد کرتے ہوئے حکومت کے خلاف پیپلز موومنٹ کے نام سے تحریک شروع کی جس کے نتیجے میں صدر مارکوس کو اپنی فیملی کے ہمراہ ملک سے فرار ہونا پڑا۔ بعد ازاں کوری اکینو ملک کی صدر منتخب ہوئیں اور پانچ سال تک فلپائن پر حکومت کی۔ فلپائن کے سابق ڈکٹیٹر مارکوس نے اپنی بقیہ زندگی انتہائی کسمپرسی کی حالت میںامریکہ کے جزیرہ ہوائی میں گزاری۔ مارکوس کی موت کے بعد ان کی بڑی بیٹی ایمی نے اپنے شوہر ٹامی کے ہمراہ مراکش میں جلاوطنی اختیار کرلی جہاں وہ کئی سالوں تک مراکش کے بادشاہ حسن دوئم کی مہمان رہیں۔ مراکش میں قیام کے دوران ایمی اور ان کے شوہر سے میری کئی بار ملاقات ہوئی جو بعد میں دوستی میں بدل گئی۔ کچھ سال بعد یہ فیملی فلپائن منتقل ہوگئی جہاں ایمی نے شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی۔ ایمی مارکوس آج کل فلپائن کی سینیٹر ہیں جبکہ ان کا بھائی اپنے آبائی صوبے کا گورنر ہے۔

گزشتہ دنوں میں ایک کانفرنس کے سلسلے میں کچھ دنوں کیلئے فلپائن کے دارالحکومت منیلا گیا۔ میں اس سے قبل بھی کئی بار فلپائن جاچکا ہوں مگر اس بار فلپائن کی معاشی ترقی کو دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ میں جب بھی کسی ملک جاتا ہوں تو اُس ملک کا موازنہ پاکستان سے کرتا ہوں کہ کس طرح یہ ملک معاشی ترقی کی دوڑ میں پاکستان سے آگے نکل رہا ہے۔ مشرقی ایشیاء کا ملک فلپائن 100 ملین کی آبادی پر مشتمل ہے، اس طرح آبادی کے لحاظ سے فلپائن ایشیاء کا ساتواں بڑا اور دنیا کا بارہواں بڑا ملک ہے۔ فلپائن میں بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 10 فیصد ہیں۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے مطابق 2050ء تک فلپائن دنیا کی 16 ویں بڑی اور ایشیاء کی پانچویں بڑی معیشت بن جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال فلپائن کی مجموعی ایکسپورٹ 54 ارب ڈالر تھی جو پاکستان کی مجموعی ایکسپورٹ سے دگنی ہے۔ فلپائن کا شمار بھارت اور چین کے بعد دنیا میں ترسیلات زر بھیجنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ سال بیرون ملک مقیم 12 ملین سے زائد فلپائنی باشندوں نے 27 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر اپنے وطن بھیجے۔ اسی طرح فلپائن کا شمار کال سینٹر سروسز فراہم کرنے والے سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے جہاں اس شعبے سے تقریباً ایک ملین افراد وابستہ ہیں۔ گزشتہ سال ان کال سینٹرز سے حکومت کو 17.5 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی تھی اور توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں میں یہ آمدنی ترسیلات زر سے بھی تجاوز کرجائے گی۔

پاکستان اور فلپائن کے مابین دوستانہ تعلقات قائم ہیں تاہم یہ عجیب اتفاق ہے کہ 1989ء میں جب وزیر اعظم محمد خان جونیجو فلپائن کے سرکاری دورے پر آئے تو واپسی پر صدر جنرل ضیاء الحق نے ان کی حکومت کو برطرف کردیا۔ سابق وزیراعظم شوکت عزیز جو منیلا میں ایک غیرملکی بینک گروپ کے ہیڈ رہ چکے ہیں، وزیر خزانہ کی حیثیت سے فلپائن کے دورے پر آئے تو وطن واپسی کے کچھ ماہ بعد انہیں وزیراعظم بنادیا گیا۔ فلپائن میں شرح خواندگی 95 فیصد ہے، یہاں کا معیار تعلیم بہت اچھا تصور کیا جاتا ہے جو یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں انتہائی سستا ہے۔ 1995ء تک بڑی تعداد میں پاکستانی تعلیم حاصل کرنے کیلئے ویزے کے بغیر فلپائن جاتے تھے مگر بعد میں حکومت پاکستان کی درخواست پر پاکستانیوں کیلئے فلپائن کے ویزے کی پابندی لگا دی گئی جبکہ 9/11 اور فلپائن میں مقیم کچھ پاکستانیوں کے امریکہ میں دہشت گردی کے منصوبے تیار کرنے کی اطلاعات کے بعد پاکستانیوں کیلئے فلپائن کے ویزے کے حصول میں مزید سختی کردی گئی جس کے باعث حصول تعلیم کیلئے پاکستانیوں کا فلپائن جانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ایک ہزار سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو زیادہ تر ملٹی نیشنل کمپنیوں سے وابستہ ہیں۔ منیلا میں کچھ روز قیام کے دوران مجھے سب سے زیادہ مشکلات حلال کھانے کے حصول میں درپیش رہیں کیونکہ فلپائن میں زیادہ تر کھانے سور کے گوشت سے تیار کئے جاتے ہیں جو مقامی فلپائنی باشندوں کی مرغوب غذا ہے جبکہ کچھ علاقوں میں کتے کا گوشت بھی بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے۔ شاید انہی مشکلات کے پیش نظر منیلا میں کئی عشروں سے مقیم میرے قریبی دوست محمد اسلم جو بزنس مین ہونے کے علاوہ سماجی شخصیت بھی ہیں، نے منیلا میں ’’کباب اینڈ کری‘‘ کے نام سے پاکستانی ریسٹورنٹ کھول رکھا ہے جہاں مسلمانوں کیلئے حلال کھانے ہمہ وقت دستیاب ہوتے ہیں۔ پاکستانی ریسٹورنٹ میں تیار ہونے والے کھانے فلپائن میں مقیم پاکستانیوں میں بہت مقبول ہیں۔ اس طرح منیلا میں قیام کے دوران میرا یہ روز کا معمول رہا کہ میں دن بھر پھلوں پر گزارا کرتا اور رات کو پاکستانی ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتا۔

کچھ دہائی قبل تک پاکستان کی طرح فلپائن میں بھی کرپشن عروج پر تھی اور فلپائن کے ڈکٹیٹر مارکوس کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ انہوں نے اربوں ڈالر بیرون ملک بالخصوص سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں منتقل کئے تاہم مارکوس کے انتقال کے بعد فلپائن کی حکومت نے کالے دھن کی واپسی کیلئے بھرپور کوششیں کیں جس کے نتیجے میں کالے دھن کا بڑا حصہ وطن واپس لایا گیا۔ فلپائن کے موجودہ صدر بین جینو اکینو نے بھی کرپشن کے خلاف سخت مہم چلارکھی ہے اور ملک کی عدالتیں کئی سینیٹرز کو کرپشن کے الزام میں سزائیں سناچکی ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ پاکستانیوں بالخصوص سیاستدانوں کے اربوں ڈالر سوئس بینکوں میں موجود ہیں لیکن افسوس کہ ملکی دولت کی وطن واپسی کیلئے کسی حکومت نے بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے۔ کچھ دہائی قبل تک معاشی اعتبار سے پاکستان کی معیشت فلپائن سے کئی درجے بہتر تھی مگر آج فلپائن ہم سے کئی گنا آگے نکل چکا ہے جبکہ ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں کئی دہائی قبل کھڑے تھے تاہم اگر حکومت پاکستان، فلپائن کی طرح ملک میں کال سینٹر انڈسٹری کو فروغ دے تو اس سے نہ صرف تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ ملک کو کثیر زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فوجی عدالتوں کا قیام حکومت کا مثبت قدم ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ کرپشن کے خلاف بھی ایسی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ ملک کو بے دردی سے لوٹنے والے معاشی دہشت گردوں کو فوری اور کڑی سزائیں دے کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند