تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دہشتگردی کا مقابلہ دہشتگردی سے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 17 محرم 1441هـ - 17 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 28 جمادی الاول 1436هـ - 19 مارچ 2015م KSA 09:09 - GMT 06:09
دہشتگردی کا مقابلہ دہشتگردی سے

لاہور چرچ دھماکوں کے بعد جو کچھ ہوا اگر اس روش کوسختی سے روکا نہ گیا تو مستقبل میں ہر دہشتگردی کے واقعے کے بعد ایسے ہی منفی رد عمل کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ یہ وہ فتنہ ہے جس کے پھیلنے سے پہلے ہی سختی سے کچلنا ہو گا ورنہ پاکستان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہر دہشتگردی کے واقعہ کے بعد لوگ ایک دوسرے کے دست گریباں ہوں گے ۔ جس انداز میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے کچھ شرپسند احتجاجیوں نے دو معصوم مسلمانوں کو تشدد کر کے مار کر زندہ جلا دیا اُس نے پوری پاکستانی قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ دہشتگردی کے یہاں سیکڑوں واقعات ہوئے اور پچاس ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کی جانیں ضائع ہوئیں مگر اس سے پہلے کسی ایک واقعہ کے نتیجے پر اس قسم کا وحشیانہ ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔

دہشتگردی کے واقعات میں سب سے زیادہ مسلمانوں کا ہی یہاں خون بہا اور کئی مسجدوں پر حملے کیے گئے، درجنوں امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا گیا، بڑے بڑے علمائے دین کو قتل کیا گیا مگر کسی ایک واقعہ کو بھی وہ رنگ نہ دیا گیا جو ہم نے لاہور چرچ حملوں کے بعد دیکھا۔ ماضی میں بھی کچھ دہشتگردی کے واقعات میں چرچ سمیت اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا لیکن کبھی ایسے واقعات کا غصہ عام مسلمانوں پر اس درندگی سے نہیں نکالا گیا اور نہ ہی قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ رنگ، نسل، مذہب، فرقہ اور علاقہ کی تفریق کے بغیر پاکستان کی پوری قوم کو دہشتگردی کا سامنا ہے۔ چرچ حملوں کو اقلیت پر حملہ تصور کرنے والے اور اس سوچ کو بڑھاوا دینے والے پاکستان کو ایک ایسی آگ میں دھکیل رہے ہیں جو دہشتگردی کے منصوبہ سازوں اور پاکستان دشمنوں کا خواب تو ہو سکتا ہے مگر اس کا نقصان پاکستان اور اس کے ہر شہری، چاہے اس کا کسی بھی مذہب اور فرقہ سے تعلق ہو، کو ہو گا۔ دہشتگرد تو مارتے ہوئے بچوں کو دیکھتے ہیں نہ عورتوں کو، مسلمانوں کو نہ غیر مسلموں کو۔ وہ تو انتشار پھیلا رہے ہیں۔ اُن کی تو خواہش ہے کہ یہاں مذہب ، فرقہ اور علاقائی بنیادوں پر نفرت کے بیج بوئے جائیں۔ جنہوں نے لاہور چرچ حملوں کے بعد دو افراد کو مسلمان ہونے کے ناطے بے بنیاد شک کی بنیاد پر بے دردی سے مار ڈالا اور قومی املاک کو شدید نقصان پہنچایا، انہوں نے در اصل دہشتگردوں کے ایجنڈے پر عمل کیا اور انہی کے مقاصد کو پورا کیا۔

اگر چرچ پر حملوں کا بدلہ اس طرح لیا جائے جیسے ہم نے لاہور میں دیکھا تو پھر مسجدوں، امام بارگاہوں ، بازاروں، اسکولوں پر دہشتگردی کا بدلہ کس سے لیا جائے۔ ہر دہشتگردی کے واقعے کے بعد اگر لوگوں نے لاہور کی طرح قومی املاک کو ہی نقصان پہچانا شروع کر دیا تو پھر دہشتگردوں کی تو ہمیں ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ دہشتگردی کو صرف دہشتگردی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس میں مذہب، اقلیت، اکثریت، فرقہ، رنگ اور علاقہ کی تفریق ہو گئی تو پھر سب کا نقصان ہو گا۔ اس سلسلے میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔ اگر چرچ پر حملہ ہوتا ہے تو اس کا تعلق اقلیت کے حقوق سے جوڑنے کا کیا جواز؟؟

کیا یہ حملے حکومت یا مسلمان اکثریت کروا رہی ہے کہ اسے اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے؟ یہاں تو حکومت، فوج، پولیس اور مسلمان اکثریت سب ہی دشتگردوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں۔ دہشتگردی تو پاکستان اور ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے اور اس کو صرف اور صرف اسی انداز میں دیکھا اور دکھایا جانا چاہیے۔جب میڈیا بغیر سوچے سمجھے کسی اقلیتی عبادگاہ پر دہشتگردی کو اقلیتوں کے حقوق کے ساتھ جوڑے گا تو پھر اس سے اقلیتوں میں اشتعال پیدا ہونے کا خطرہ ہو گا۔ معاشرہ کے اندر اس نئی فتنہ سازی، خون خرابہ اور نفرت کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اس سارے معاملہ کو بڑی سمجھداری اور حکمت کے ساتھ سلجھانے کی ضرورت ہے جس میں حکومت، میڈیا، مسلمان رہمنائوں، مذہبی اسکالرز اور مسیحی برادری کے بڑوں کو ایسے واقعات کی آئندہ روک تھام کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ جن افراد نے چرچ دھماکوں کے بعد دو افراد کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے پکڑ کر انتہائی سنگدلی سے مار ڈالا اور ان کو آگ لگا دی، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اُن کے خلاف اُسی طرح دہشتگردی کے مقدمات قائم کیے جائیں جس طرح قصور میں مسیحی جوڑے کوگستاخی کے الزام میں مجمع نے آگ لگا کر ہلاک کر نے والوں کے ساتھ کیا گیا۔

ایسے افراد جنہوں نے قومی املاک کو نقصان پہنچایا اور لاہور میٹرو میں شدید توڑ پھوڑ کی، ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔اگر آج کسی چرچ پر حملہ کو مسلمانوں کے خلاف نفرت کے اظہار اور تشدد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے تو کل جب کسی مسجد پر حملہ ہو گا تو اُس کا رد عمل ہمارے ہی معاشرہ کے کسی دوسرے گروہ پر ہو سکتا ہے جو ناانصافی اور زیادتی کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔ یہاں پاکستان کی مسلمان اکثریت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی کسی اشتعال میں آئے بغیر اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہر انسانی جان کی حفاظت کریں اور خاص طور پر اس بات کو یقینی بنائیں کہ اقلیتوں کی جان و مال اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اگر لاہورچرچ حملے کے رد عمل میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا اور قتل و غارت ، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کا ذمہ دار پوری مسیحی برادری کو ٹھہرا دیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی پر ملزم کو سزا دینے کا حق حکومت اور عدالت کے علاوہ کسی کے پاس نہیں۔
 

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند