تین چار مہینے قبل حکومت، سیاسی جماعتیں، کالم نگار، اینکرز، میڈیا سب کے سامنے ہونے والے سینیٹ کے انتخابات اور ان سے متعلق ہارس ٹریڈنگ کا مسئلہ تھا۔ بعض اصحاب تو اس شدت سے مسئلے کو اچھال رہے تھے گویا ہارس ٹریڈنگ کے بغیر انتخاب ہو ہی نہیں سکتے۔ پھر قوم نے دیکھ لیا کہ یہ ہارس ٹریڈنگ کے بغیر مکمل ہوگئے۔ صرف ایک رہنما کو ایک کروڑ کی پیشکش ہوئی تھی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت چھوٹے پیمانے پر کہیں روپے کا لین دین ہوا ہو اور وہ سطح پر آجائے اس کے بعد توپوں کا رخ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کی جانب مڑگیا۔ مگر یہاں بھی ناکامی ہوئی اور چیئرمین کا انتخاب تو متفقہ طور پر ہوگیا۔ بلکہ یہاں ایک اچھی روایت قائم ہوگئی ڈپٹی چیئرمین کے لئے ایک جہاں دیدہ، تجربہ کار سیاست داں کے مقابلے میں ایک ناتجربہ کار نوجوان کو کھڑا کیا جس کو بری طرح شکست ہوئی اور یہ مرحلہ بھی بخیر و خوبی مکمل ہوگیا۔ سینیٹ کے جملہ ممبران اور عہدے داران نے حلف بھی اٹھالئے۔

اب حکومت بھی مطمئن ہوگئی اور جیتنے والوں نے بھی اطمینان کا سانس لیا لہٰذا اب سب کو ملک کےburning مسائل پر توجہ دینا چاہئے، مسائل لاتعداد ہیں، عوام پریشان ہیں۔ کیا اچھا ہو کہ ان کی ایک فہرست بنالی جائے اور اہم ترین مسئلے کو ترجیح دی جائے۔ کالم نگار کے خیال میں سب سے اہم مسئلہ تھر میں غذائی قلت کا ہے جو گزشتہ چار مہینوں سے چل رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف نوزائیدہ اور کم سن بچے بلکہ مائیں بھی ہلاک ہورہی ہیں۔ پینے کے پانی کا انتظام ہوگیا ہے حکومت سندھ کے پاس گندم کی کوئی کمی نہیں پچھلے سال کا کافی فاضل غلہ موجود ہے وہ اس کا دسواں حصہ بھی تھر منتقل کردے تو غذا کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ تھر میں اونٹ، گائے اور بکریوں کی کمی نہیں کم سن بچوں کے لئے دودھ آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے، انتظامیہ کو کم سن بچوں کے لئے خصوصی غذا، دوائوں اور مویشی کےلئے چارے کا انتظام کرنا ہوگا۔

انسانوں کو موت سے بچانا حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے۔ پٹرولیم کی مصنوعات خصوصاً پیٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل اور فرنس آئل غذائی اشیا کے بعد سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اشیا ہیں۔ جنوری میں بالائی علاقوں میں پیٹرول کی جو قلت ہوئی تھی اس سے سب واقف ہیں۔ پی ایس او وہ ادارہ ہے جو ملک کی ضروریات کا 90 فی صد تیل برآمد کرتا ہے، اب اس کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ پی ایس او کے پاس فرنس آئل کا مستقل کوئی ذخیرہ نہیں اور اس کو توانائی کے شعبے سے 152 ارب کی رقم وصول کرنی ہے۔ حکومت نے جنوری میں 40 ارب روپے ادا کئے تھے فی الحال روزانہ 17,000 ٹن توانائی کے شعبے کو فراہم کیا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ فرنس آئل کی فراہمی کی بے قاعدگی، قیمت کی عدم ادائیگی، مشرق وسطیٰ میں خراب موسم کی وجہ سے رسد کا سلسلہ ڈگمگا رہا ہے اور امکان ہے کہ اپریل یا مئی میں فرنس آئل کی قلت ہوجائے، کمیٹی جو جنوری میں قلت کی وجوہ معلوم کرنے کے لئے مقرر کی گئی تھی اس نے پی ایس او کے مینجمنٹ بورڈ کو قلت کا ذمہ دار ٹھہرا یا ہے۔

دوسری طرف ملک میں پیٹرول کی درآمد بڑھ رہی ہے جنوری میں 320,000 ٹن، فروری میں 356,000 ٹن اور مارچ میں 398,000 ٹن پیٹرول درآمد ہوا۔ جنوری میں 4لاکھ ٹن اور فروری میں 451,000 ٹن تیل فروخت ہوا۔ تیل کی قیمت میں کمی سے کچھ اضافہ روٹین صارفین نے کیا مگر زیادہ اضافہ نئے صارفین کی بدولت ہوا ملک میں موٹروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور موٹرسائیکلیں نیم شہری اور دیہی علاقوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور تیل کی خریدرہی ہیں۔ حکومت کو قیمتیں کم ہونے سے جو نقصان ہورہا تھا وہ کچھ تو مقدار میں اضافے سے اور باقی سیلز ٹیکس سے وصول ہوجائے گا۔ گیس کی قیمت میں یکم اپریل سے 15 سے 64 فی صد اضافے کا امکان ہے، وزیر پٹرولیم اور قدرتی وسائل نے انکشاف کیا کہ ایل این جی کا پروجیکٹ مکمل ہوگیا ہے اور یکم اپریل سے وہ ایل این جی کو قدرتی گیس میں تبدیلی کا عمل شروع کردے گا۔ مگر اس کے ساتھ وزارت کو پی ایس او پر نگاہ رکھنی چاہئے تاکہ دوبارہ جنوری جیسی صورت حال پیدا نہ ہو۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے