تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سِلک روٹ اور پاکستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 29 جمادی الاول 1436هـ - 20 مارچ 2015م KSA 08:29 - GMT 05:29
سِلک روٹ اور پاکستان

پاکستان چین کو چھوڑ سکتا ہے اور نہ ہی چین پاکستان کو یہ ایک زندہ حقیقت ہے ،ایک ایسی حقیقت جس کی گہری بنیادیں زمینی حقائق میں ہیں۔ چین کے موجودہ وزیرِخارجہ وانگ یائی پاک چین تعلقات کو آہنی بھائی چارہ کہتے ہیں۔1951میں چین اور پاکستان کے درمیان دوستی شروع ہوئی۔ بین الاقوامی سیاست میں چار پارٹنر شپس بہت اہم ہوتی ہیں یعنی سیاسی ،اقتصادی،تجارتی اور فوجی،ان چاروں ہی میں پاکستان اور چین کی پارٹنر شپ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتی رہی ہے اور ان میں ایک اضافی پارٹنر شپ ایٹمی تعاون بھی ہے ۔چین کی ترقی کی تیز رفتاری کا اس بات سے اندازہ لگائیں کے صرف پانچ سال پہلے 2010میں چین دنیا کا سب سے بڑا برآمدی ملک بنا اور پھر 2014میں وہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بھی بن گیا۔جمہوریت چین کا مسئلہ تو ہے نہیں، وہاں پہلے دن سے آج تک سنگل پارٹی سسٹم رہا ہے،دوسری پارٹی بنانے کی اجازت ہی نہیں۔ اسے کوئی غیر جمہوری سمجھے یا نہ سمجھے،یہ ایک حقیقت ہے ۔اس طرح چین کو تبدیلی اور انقلاب کے نعرے لگانے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی یہ دنیا کا مستحکم ترین ملک ہے۔ کیونکہ وہاں ہر شعبہ ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے ایک مخصوص رفتار لیکن طے شدہ سمت میں آگے بڑھتا ہے۔اکیسویں صدی کا چین اقتصادی اور فوجی اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنتا دکھائی دے رہا ہے ،اس لئے یورپ یا امریکہ سے کسی کا اس خطے میں مزیدگھسے رہنا اب ممکن نہیں رہا۔

چین کی سرحد چودہ ممالک سے ملتی ہے اور ایک دو کو چھوڑ کروہ تقریباً ان تمام ممالک میں اقتصادی طور پر کسی نہ کسی حیثیت میں پارٹنر ہے لیکن پاکستان سے اس کی پارٹنر شپ انتہائی خصوصی ہے ۔عالمی با لادستی کے لئے امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگ کے زمانے میں بہت سےدانشور دعوی کرتے تھے کہ سرد جنگ کے ختم ہونے کے بعد پاک چین دوستی میں گرم جوشی باقی نہیں رہے گی،مگر اس کے برعکس پاک چین دوستی پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہے چینی حکمران پاکستان سے دوستی کو All-Weather Friendship قرار دیتے ہیں۔جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، پانچ ہزار سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ایک دفعہ بھی اپنی موجودہ حدود سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔اس کا جغرافیہ اس کی حدود کا تعین قدرتی طورپر کردیتا ہے۔ کچھ سالوں میں جب سے بھارت نے بحرِہند پر حکمرانی کا خواب دیکھنا شروع کیا ،چین نے بحرِہند میں اپنا کنٹرول مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے۔اب یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ امریکہ یا یورپ بحرِہند کو چین سے چھین کر بھارت کو دے دیں۔بھارت کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ صرف وہیں تک محدود رہے جہاں وہ پانچ ہزار سال سے ہے۔

پاک چین دوستی گزشتہ 65سال سے مضبوطی کی طرف گامزن ہے گزشتہ ایک سال کے واقعات نے اس میں اور تیزی پیدا کر دی ہے۔ نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ سے اپنے تعلقات کو مزید وسعت دی ہے۔اس سال کے شروع میں بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر امریکی صدر کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا اور عسکری و اقتصادی طاقت دکھانے کا بھرپور مظاہرہ کیا ساتھ ہی دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ہم امریکہ کے قریبی دوست اور حلیف ہیں ،عین اُس وقت پاکستان کے آرمی چیف چینی قیادت کے ساتھ بیجنگ میں موجود تھے جو بھارت اورامریکہ کے لئے پیغام تھا۔ اب خبر ہے کہ چین کے وزیرِاعظم23مارچ کو یومِ پاکستان کے موقع پرمہمانِ خصوصی ہوں گے ان کے اس دورے سے پاکستان دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ چین اس کا عظیم دوست ہے۔چینی وزیرِاعظم کے دورے کے موقع پرمتعدد ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح بھی متوقع ہیں ان کے دورے میں چین سے3ہزار میگا واٹ بجلی کی ترسیل پر بھی حتمی بات چیت ہوگی۔ چین کا اپنے مشرق میں پہلے ہی مکمل کنٹرول ہے،اسے مغرب میں کنٹرول کےلئے پاکستان کے ذریعے رسائی درکار ہے۔ گوادر کی بندرگاہ کے راستے مشرقِ وسطی،ترکی اور یورپ تک اس کا کنٹرول ہو جائے گا۔اسی طرح چین کو توانائی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات اس کے مغرب میں واقع ایران،ترکمانستان اور مشرقِ وسطی سے پوری ہوگی،ان ضروریات کو پاکستان کے راستے ہی پورا کرنا ہے۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد اس کا کنٹرول بھی چین کے پاس ہو گا اور اسے اس ضمن میں پاکستان کابھرپور تعاون چاہئے۔ عالمی سفارت کاری میں پاک چین تعلقات کا موازنہ امریکہ اسرائیل تعلقات سے کیا جاسکتا ہے۔چین میں کئے گئے ایک سروے میں 90فیصد سے زائد لوگوں نے پاکستان کو چین کا سب سے قریبی دوست قرار دیا۔پاکستان اور چین کے درمیان فری ٹریڈ کا معاہدہ موجودہ ہے۔ پاکستان چین اقتصادی کوریڈور کے منصوبے میں چین 50ارب ڈالرسے زائد کی سرمایہ کاری پاکستان میں صنعتی و تجارتی زونز،گوادر بندرگاہ اور چین سے گوادر تک شاہراہیں اور ریلوے نیٹ ورک بنانے کے لئے کرے گا۔ پاکستان میں توانائی کا بحران ختم کرنے کے لئے پاور کے منصوبے اور چشمے میں مزید ایٹمی بجلی کے پلانٹ بھی لگائے جا رہے ہیں۔ اس طرح ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں بھی چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

پاک چین دفاعی تعاون میں جدید جیٹ فائٹر طیارے اور ہر طرح کی اسلحہ سازی سے لے کرمیزائل اور ایٹمی ٹیکنالوجی تک سب کچھ شامل ہے۔ چینی صدر زی جن پنگ عنقریب پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں جس کے بعد پاک چین دوستی ایک نئے پیرائے میں داخل ہوجائے گی۔چینی صدر کے دورہ پاکستان پر دنیا کی نظریں مرکوز ہیں کیونکہ یہ دورہ خطے میں انتہائی اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان کو ملتوی کرانے کی سازش کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ تھا وقت آنے پر اس پردے سے بھی حقیقت عیاں ہوجائے گی۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان میں بہت اہم منصوبوں پرباقاعدہ عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ چین کا خواب سلک روٹ جس کی تعمیر میں پاکستان کا رول انتہائی اہم ہے اس روٹ کے پانچ حصے ہیں۔

(1)سلکِ روٹ اکنامک بیلٹ جو چین کو بذریعہ وسطی ایشیا یورپ سے منسلک کرے گی۔
(2)سمندری سِلک روٹ جو چین کو یورپ ،امریکہ اور آسٹریلیا سے منسلک کرے گا۔
(3)چین ،میانمار،بنگلہ دیش راہداری۔
(4)چین،تھائی لینڈ راہداری۔

(5)اور آخر میں چین پاکستان راہداری جو چین اور پاکستان دونوں کے لئے انتہائی اہم ہے بلکہ مستقبل میں چین اور پاکستان کی مشترکہ شہ رگ بن سکتی ہے۔یہ راہداری چین کے صوبے سنکیانگ سے بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ تک تعمیر ہو گی۔ ہمارے دشمنوں نے اس عظیم منصوبے کے خلاف سازشیں شروع کردی ہیں اور ہمارے چند نادان دوست بھی اس منصوبے کا دانستہ طور پر حصہ بن رہے ہیں۔ہمارا دشمن کبھی بھی پاکستان کو مضبوط اور مستحکم نہیں دیکھنا چاہتا اس کی کوشش ہے کہ کالا باغ ڈیم کی طرح ان منصوبوں کو بھی متنازعہ بنادیا جائے اسی مقصد کے لئے اس نے ڈالروں کی بارش شروع کر رکھی ہے۔

ہمیں اپنے دشمن کی سازش کو سمجھنا ہو گا اور مل کر ان منصوبوں کی تکمیل میں اپنا رول ادا کرنا ہو گا۔یہ کسی سیاسی جماعت کا منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا منصوبہ ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند