تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صفائی مہم
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 25 ذوالحجہ 1441هـ - 15 اگست 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 29 جمادی الاول 1436هـ - 20 مارچ 2015م KSA 08:42 - GMT 05:42
صفائی مہم

قوم کو مبارک ہو کہ دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ اس صفائی کا سہرا جنرل راحیل شریف کے سر ہے جنہوں نے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کررکھا ہے ان کا مقصد صرف اور صرف ایک ہی ہے کہ مادر وطن کو دہشت گردی سے پاک کردیا جائے۔ اس نیک مقصد کیلئے دہشت گردوں پر تابڑ توڑ حملے جاری ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر بہت سے دہشت گرد انجام تک پہنچائے جارہے ہیں۔ یہ صرف دہشت گرد ہیں اگر یہ کسی مذہب کے ماننے والے ہوتے تو اس طرح انسانیت سے دشمنی نہ کرتے۔ ویسے بھی دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی کا پیغام نہیں دیتا۔ اس سلسلے میں اسلام کے واضح احکامات ہیں۔ اسلام تو ہر شہری کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ خواہ وہ شہری کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اسلام میں بچوں، بزرگوں، عورتوں اور اقلیتوں سمیت سب کے حقوق ہیں، یہ دنیا کا واحد مذہب ہے جو جانوروں کو بھی حقوق دیتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض نام نہاد لوگوں نے اسلام کے نام پر دہشت گردی شروع کررکھی ہے۔ ایسے لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ گمراہ لوگ ہیں، یہی وہ خارجی ہیں جن کا تذکرہ ہمیں اسلام کے آغاز میں بھی ملتا ہے، دراصل یہ منافق ہیں، خود کو بہترمسلمان تصور کرتے ہیں، یہ دہشت گرد گلی محلوں کے بچوں کو گمراہ کرتے ہیں، ان کی گھنائونی گمراہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ معصوم طالبعلموں کو جنت کا خواب دکھاتے ہیں مجھے ان کی ایسی حرکتیں دیکھ کر یہ شعر بہت یاد آتا ہے کہ

ربا تیری جنت پچھے
دنیا دوزخ ہوگئی اے

قوم کو ایک مرتبہ پھر مبارک ہو کہ ان کے سپہ سالار کا جذبہ جوان اوراٹل ہے۔ اس سلسلے میں امن پسند جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ ….. ’’شہر ہوں یا دور دراز علاقے، دہشت گردوں کو ان کے ٹھکانوں میں دبوچا جائے گا، ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھا رہے ہیں، سیکورٹی ادارے بے خوفی سے آپریشن جاری رکھیں…..‘‘ یہ وہ عزم ہے جو دہشت گردی کے خلاف لڑنے والوں کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔ اسی جذبے کے باعث دہشت گردوں کو چھپنے کیلئے جگہ نہیں مل رہی۔ اب ختم ہوتے ہوئے یہ دہشت گرد ادکا دکا واردات کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے لاہور میں گرجا گھروں پر حملے کئے۔ ان حملوں کے ذریعے انہوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ پس پردہ پھر بھارت ہے کیونکہ یہ کوشش بھارت کی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی اور اقلیتوں پرحملوں کے حوالے سے بدنام کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے یہ دہشت گرد آلہ کار بنتے ہیں۔ ایسوںکو صرف سزائے موت ہونی چاہئے جو اپنے ملک میں مختلف کارروائیوں کیلئے دشمن سے پیسہ لیتے ہیں، ایسے لوگوں کو جینے کا حق نہیں ہونا چاہئے۔ معاشرہ ایسے لوگوں سے صاف ہونا چاہئے۔

لاہور میں گرجا گھروں پر حملوں کے بعد بھارتی میڈیا جاگ گیا۔ بھارتی میڈیا کویہ یاد ہی نہ رہا کہ ان کے ’’سیکولر بھارت‘‘ میں بہت سی مساجد اور گرجاگھروں کو گرا کر وہاں مندر تعمیر کئے گئے۔ انہیں یاد ہی نہ رہا کہ ان کے ’’سیکولر بھارت‘‘ میں سکھوں کے گوردوارے گولڈن ٹمپل کی بے حرمتی ہوئی تھی، حضرت بل شریف پر ہونےوالی بے حرمتی دنیا ابھی نہیں بھولی۔ انہیں یاد ہونا چاہئے تھا کہ ان کے وزیراعظم نریندر مودی کو محض اس لیے امریکہ کا ویزا نہیں ملا تھا کہ وہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے طور پر اقلیتوں کے قتل میں ملوث تھے۔ بھارتی میڈیا کو امریکی سینیٹ کی وہ رپورٹ بھی پڑھ لینی چاہئے تھی جو بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں ہے۔ بھارتی میڈیاکو یہ کیوں نہ یاد رہ سکا کہ ’’سیکولر بھارت‘‘ کے مشہور پروفیسر بلراج مدہوک کا فرمان ہے کہ ….. ’’بھارت میں بسنے والے سب لوگ ہند و نام رکھیں۔ ان کے ناموں سے ہندوازم کی خوشبو آنی چاہئے…..‘‘

جنرل راحیل شریف کی حکمت عملی کی رہنمائی میں دہشت گردوں کی صفائی کا کام خوش اسلوبی سے جاری ہے۔ ایک طرف یہ کام دور دراز علاقوں میں جاری ہے تو دوسری طرف بڑے چھوٹے شہروں میں بھی پوری آب و تاب سے جاری و ساری ہے۔ کراچی میں دہشت گردوں پر زور دار ہاتھ ڈالا ہے ۔ کراچی پہلی مرتبہ کئی سالوں بعد آزاد ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ قوم کو پھانسیوں پر ترس نہیں کھانا چاہئے بلکہ اس پر خوش ہونا چاہئے کہ یہ ان لوگوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں جو معاشرے کے امن کے دشمن تھے، جو اغوا برائے تاوان کرتے تھے، جو بھتے وصول کرتے تھے، جنہوں نے لوگوں کا جینا محال کیا ہوا تھا۔

صولت مرزا نے موت سے پہلے کئی کڑوے سچ بول دیئے ہیں مرزا صاحب نےصاف صاف بتا دیا ہے کہ وہ کس کے حکم پر، کس کے کہنے پر قتل کیا کرتے تھے۔ آخری پیغام میں صولت مرزا نے آگاہی کا پیغام بھی دیا ہے کہ ان سے عبرت پکڑی جائے۔ ابھی اور بہت سے لوگوں کی طرف سے پیغامات سامنے آئیں گے، پیغامات کا ایک سلسلہ لاہور سے بھی شروع ہوگا ان پیغامات کو دیکھ کر مجھے آسناتھ کنول کے اشعار یاد آرہے ہیں کہ؎

زندگی کو ثبات دے جاتے
مسکرا کر جو مات دے جاتے
بانجھ ہوتی نہ خواب کی وادی
نیند کو گر حیات دے جاتے

ایم کیو ایم کے وہ تمام کارکن جنہیں محض زبان اور قومیت کے نام پر بہکایاگیا، اب جب ان میں سے کچھ گرفتار ہو چکے ہیں تو وہ اپنی بپتا سناتے ہیں، پریشان ہوتے ہیں کہ کیسے وہ اس جماعت میں آئے اور اب ان کا کوئی پرسان حال بھی نہیں۔الطاف بھائی کیا پوچھیں۔ افواہ ہے کہ انہیں خود بہت سی بیماریاں ہیںاوران بیماریوں کے باعث ان کے پائوں کی انگلیاں کٹ چکی ہیں، یہ بھی افواہیں ہیں کہ وہ خود چلنے پھرنے سے قاصر ہیںاورانہیں سہارا دے کر وہیل چیئر پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ ایسا بیمار کسی کی کیا خبر لے۔ گرفتار شدگان کی حالت کو بیان کرنا مشکل ہے، بس پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ بشیر کی شعری زبان ہی سے حق ادا ہوسکتا ہے کہ؎

کوئی نقطہ اجالے کا دکھائی بھی نہیں دیتا
مرا صیاد پنجرے سے رہائی بھی نہیں دیتا
سفر میں ہمسفر ایسا ملا مجھ کو کہ میرا دل
کرے جو بین تو اس کو سنائی بھی نہیں دیتا
زمیں سے تافلک ہے ایک ہی منظر مرے آگے
کوئی خوش کن مناظر تک رسائی بھی نہیں دیتا

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند