تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مارچ کامہینہ۔ ہماری تاریخ کا سنگ ِ میل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 29 جمادی الاول 1436هـ - 20 مارچ 2015م KSA 08:36 - GMT 05:36
مارچ کامہینہ۔ ہماری تاریخ کا سنگ ِ میل

مارچ کامہینہ ہماری قومی زندگی میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یوں تو مارچ کے مہینے میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے لیکن میری رائے میں جن تین اہم ترین واقعات نے مارچ کو ہماری تاریخ میں یادگار اور سنگ میل ماہ کی حیثیت دی وہ قرارداد ِ لاہور جسے بعدازاں قراردادِ پاکستان کہا گیا، قرارادِ مقاصد جو 12مارچ 1949 کو منظور ہوئی اور ہمارے 1956اور 1973کے دساتیر کا حصہ بنی اور تیسرااہم ترین واقعہ یا کارنامہ 1956کے آئین کی منظوری تھی جسے 23مارچ 1956سے نافذ کیا گیا۔ ان تینوں کارناموں نے ہماری تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے اور قومی زندگی کے دھارے کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار سرانجام دیا۔

عام طور پر قرارداد ِ پاکستان کو 23مارچ سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن میں روزنامہ جنگ میں 1989,88,87 میں چھپنے والے مضامین میں کئی بار وضاحت کرچکا ہوں کہ قراردادِ پاکستان اگرچہ 23مارچ کو مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ لاہور میں پیش کی گئی لیکن اسے منظوری 24مارچ کو ملی۔ اگر مسلم لیگ کے لیڈران اور قائداعظمؒ چاہتے تو 21مارچ کو قراردادِ پاکستان کادن قرار دے دیتے لیکن یہ انہی کافیصلہ تھا کہ اسے 23مارچ سے منسوب کیا جائے۔ پاکستان 15اگست1947کو وجود میں آیا لیکن ہماری قیادت کا فیصلہ تھا کہ یوم آزادی 14اگست کو منایا جائے۔ ظاہرہے کہ قراردادِ لاہور قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کی اعلیٰ ترین قیادت کی نگرانی میں ڈرافٹ ہوئی، تشکیل پائی اور انہی کی نگرانی میں مسلم لیگ کے اجلاس میں شیربنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی اور انہی کے سامنے 24مارچ کو منظور ہوئی اس لئے اس فیصلے کا اختیار بھی انہی کے پاس تھا کہ اسے پیش ہونے والے دن یا منظور ہونے والے دن سے منسو ب کریں۔ ظاہر ہے کہ اتنی ذہین، بصیرت مند اور تجربہ کار قیادت کے پیش نظر کچھ وجوہ ہوں گی جن کی بنیاد پر قرارداد لاہور کے لئے 23مارچ کا دن مخصوص کیاگیا۔ آپ کو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ خود مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے 22فروری 1941کو یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس قرار داد کوجسے قرارداد ِ پاکستان کے نام سے پکارا جاتا ہے ہر سال 23مارچ کو منایا جائے گا اور اس روز اس قرارداد کی وضاحت اور تشہیر کی جائے گی۔اسی سال جب مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 12-15اپریل 1941مدراس میں منعقد ہوا تو قرارداد ِ لاہور کو ایک ریزولیشن کے ذریعے مسلم لیگ کے مقاصد کاحصہ بنالیاگیا (فائونڈیشن آف پاکستان، شریف الدین پیرزادہ۔ جلد دوم صفحہ 371-72) اسی اجلاس میں 14اپریل کو اپنے صدارتی خطبے میں قائداعظمؒ نے باربار زور دیا کہ وہ پاکستان حاصل کئے بغیر چین سےنہیں بیٹھیں گے اور یہ کہ قراردادِ پاکستان لینڈ مارک ہے۔ انہوں نےکہا کہ ’’پاکستان ہمارے لئے زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ (ص 388) اسے برطانوی حکومت کو تسلیم کرلیناچاہئے۔ ہم کسی قیمت پر بھی فلسطین کی تاریخ کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘ لطف کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں دانشوروں کا ایک گروہ مسلسل پراپیگنڈہ کر رہا ہے کہ قائداعظمؒ نےکبھی اپنی تقریروں میں آئیڈیالوجی کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اس جھوٹ کو رد کرنےکے لئے صرف اس اجلاس میں قائداعظمؒ کا صدارتی خطبہ پڑھ لیں جس میں انہوں نے صرف ایک پیراگراف میں مسلم لیگ کی آئیڈیالوجی اور آئیڈیالوجی برائے آزادمملکت کے الفاظ دو بار استعمال کئے۔ یہ کہنا کہ نظریہ پاکستان کی اصطلاح قیام پاکستان کے بعد کی ایجاد ہے، تاریخ کو مسخ کرنے اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے بعد قیام پاکستان تک قائداعظمؒ آئیڈیالوجی آف پاکستان یا مسلم قومیت کے تصور کا ذکر بار بار کرتے رہے۔

قیام پاکستان کے بعد قراردادِ پاکستان خاص بحث اور اختلاف کاموضوع رہی ہے اورجی ایم سید کی جئے سندھ سے لے کر شیخ مجیب الرحمٰن، مولوی فضل الحق اور مولانا بھاشانی اور کبھی کبھی پختونستان کا نعرہ بلند کرنے والے عام طور پراسی قراردا د کاسہارا لیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس قرارداد کے مطابق صوبوں کو آزادمملکتیں ہونا تھا جبکہ ان کے مخالفین کاموقف تھا کہ 1945-46 کے انتخابات کے بعدمسلم لیگ کے منتخب اراکین اسمبلی نے 1946 کے دہلی کنونشن میں آزادمملکتوں (States) کو دفن کردیا تھا ا ورمشرقی اورمغربی پاکستان پر مشتمل ایک ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔ بلاشبہ اگر قرارداد ِ لاہور کے متن کامطالعہ کیا جائے تو اس میں آزاد ریاستوں کاتصور ملتا ہے اور اگر اسے بنظر غائر پڑھا جائے تو مسلم اکثریتی علاقوں پرمشتمل دو آزاد ریاستوں کا تصور ابھرتا ہےیعنی بنگال اور وہ صوبے جو مغربی پاکستان کاحصہ بنے، ان دونوںیونٹوں کومقتدر (Sovereign) اور آزاد ہونا تھا اور صوبوں کو اٹانومی حاصل ہونا تھی لیکن جہاں تک قائداعظمؒ کا تعلق ہے، وہ واضح طور پر قرارداد ِ لاہور کو ایک ریاست کا مطالبہ ا ور منشور سمجھتے تھے۔ لگتا ہے کہ جب مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی نے کئی ڈرافٹوں یعنی مسودوں کو ایک قرارداد میں یکجاکرنے کی کوشش کی تو اس میں کنفیوژن پیدا ہوا۔ آج ہم ریاست (State)کو مکمل طور پر آزادملک سمجھتے ہیں لیکن اس دور میں یہ لفظ خودمختارصوبوں کے لئے بھی استعمال ہوتاتھا۔ مسلم لیگ کے ممتاز لیڈر حسین امام کے بقول کہ اس وقت کی مسلم لیگی قیادت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے دستورسے متاثرتھی جس میں ریاستوں کو داخلی معاملات میں مکمل آزادی حاصل ہے۔لیکن امریکہ کی پچاس ریاستیں فیڈریشن کی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں۔شیر بنگال ورکنگ کمیٹی کے اس اجلاس میں شامل نہیں تھے جس نے یہ قرارداد ڈرافٹ کی لیکن وہ دوسرے دن سیدھے مسلم لیگ کےاجلاس میں پہنچے اور قرارداد پیش کرنے کاتاریخی اعزاز حاصل کیا۔ ان کے متعدد بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ فضل الحق کے ذہن میں اس قرارداد کا مطلب دو آزاد ریاستیں تھیں لیکن قائداعظمؒ نے اسی دن اخباری رپورٹروں سے گفتگو میں یہ بیان دے کر قرارداد کے مقدر کا فیصلہ کردیا کہ ہم صرف ایک ملک کا مطالبہ کر رہے ہیں (بحوالہ ’’جناح آف پاکستان‘‘از سٹینلے والپرٹ صفحہ نمبر 185)

مارچ کے حوالےسے د وسرا اہم واقعہ قراردادِ مقاصدکی منظوری تھی، جسے پاکستان کی پہلی دستور سازاسمبلی نے 12مارچ 1949 کو منظور کیا۔ اسی پس منظر میں اسے دستور کی بنیادقراردیا جاتا ہے۔ اسمبلی میں چند ایک غیرمسلم نمائندوں نے اس قرارداد پر کڑی تنقید کی۔ انہیں اعتراض اس بات پر تھا کہ اس قرارداد میں اقتدار ِ اعلیٰ کو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قرار دیاگیا ہے جس کا سادہ سامفہوم یہ ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت کے خلاف قانون نہیں بن سکے گا۔ عام طور پر مغربی جمہوریتوں میں جنہیں ہم سیکولر جمہوریتیں کہتے ہیں عوام کو ’’اقتدار ِ اعلیٰ‘‘قراردیاجاتا ہے اوراس حوالےسے ان کےمنتخب کردہ نمائندوںکو ہر قسم کا قانون بنانے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ اسی آزادی کا سہارالے کر بعض ممالک میں ہم جنس پرستی پر بھی قانونی مہرلگادی گئی ہے۔ ظاہرہے کہ اسلام کی بنیاد پر بننےوالے مسلمان اکثریتی ملک میں پارلیمنٹ کو مادرپدر آزادی نہیں دی جاسکتی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل جب قائداعظمؒ پیر آف مانکی شریف سے ملنےصوبہ سرحد گئے توپیرصاحب کے سوال کے جواب میں قائداعظم ؒنے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں کبھی بھی قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکے گی۔ قیام پاکستان سے قبل قائداعظمؒ نے لاتعداد بار وضاحت کی کہ ہماراآئین قرآن اورپاکستان کے آئین کی بنیاداسلامی اصولو ں پر رکھی جائے گی۔ آج اگر آپ ان حضرات کے بیانات پڑھیں جو قرارداد مقاصد کی مخالفت میں ہلکان ہو رہے ہیں تو آپ کو ان میں وہی دلائل نظرآئیں گے جو دستورساز اسمبلی میں غیرمسلم اراکین نے دیئے تھے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ یہ روشن خیال دانشور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس وقت کی کابینہ کے رکن جوگندر ناتھ منڈل قرارداد منظور ہوتے ہی ہندوستان بھاگ گئے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قراردادِ مقاصد 12مارچ 1949کو منظور ہوئی اور جوگندر ناتھ منڈل نے16دسمبر 1950 کے دن ہندوستان ہجرت کی یعنی وہ قراردادکے منظور ہونے کے ڈیڑھ برس بعد تک کابینہ کے رکن رہے۔

مارچ کو تیسرا اعزازیہ حاصل ہے کہ ہمارا پہلا دستور 23مارچ 1956 کو نافذ کیا گیا۔ اگرچہ دستور سازی میں تقریباً 9 برس ضائع کردینا ناقابل معافی جرم تھا لیکن بہرحال یہ ایک بہت بڑا کارنامہ تھا جس میں متحدہ، جمہوری اوراسلامی پاکستان کی ضمانت موجود تھی۔ اس دستور میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا تھا اور اسے مشرقی و مغربی پاکستان کے منتخب اراکین نےمنظورکیاتھا۔ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اگراکتوبر 1958 میں سکندرمرزا اور ایوب خان مارشل لا لگاکر اس دستور کومنسوخ نہ کرتے اور عام انتخابات ہو جاتے تو مشرقی پاکستان کبھی بھی علیحدگی کی راہ پر نہ چلتا۔ اس مارشل لا نے دونوںصوبوں کی منظوری سے بننےوالے آئین کو منسوخ کرکے وہ بنیاد ہی ختم کردی جس پر پاکستان کھڑا تھا۔ (مصنف کی زیرطبع کتاب ’’پاکستان: میری محبت‘‘ سے اقتباس)

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند