تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
انتہا پسندانہ عسکری نظریہ مسلم دنیا کے لیے بڑا خطرہ ہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 1 جمادی الثانی 1436هـ - 22 مارچ 2015م KSA 11:07 - GMT 08:07
انتہا پسندانہ عسکری نظریہ مسلم دنیا کے لیے بڑا خطرہ ہیں

انتہا پسندی اور عسکریت پسندی دو بہت بڑے چیلنج ہیں جن کا ملت اسلامیہ کو ان دنوں سامنا ہے۔ محققین یقین رکھتے ہیں کہ شدت پسندی پر مبنی خیالات رکھنے والے مسلم علماء ہماری نئی نسل کو گمراہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو عسکری و دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی ہونے کی باآسانی اجازت دے رہے ہیں۔

مسلم حکومتوں نے اس خطرے سے نمٹنے، انتہا پسندی کو بے نقاب کرنے اور معصوم مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے والے ان دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر مہم شروع کر رکھی ہے۔ تاہم یہ مہم اس وجہ تک کمزور ہے کہ مسلم علماء اپنے فرقہ وارانہ اختلافات کی وجہ سے باپمی جھگڑے ختم کرنے کی پوزیشن میں نہیں آ سکے ہیں۔ نہ ہی وہ اسلام کا تحمل و برداشت کا حقیقی پیغام عام کر سکے ہیں۔ انہیں ایک مضبوط بیانیے کے ساتھ آگے بڑھ کر عسکری اسلام کے پھیلاو کا سد باب کرنے کے لیے اسلام سے متصادم خیالات کی تردید کرنی جانی چاہیے۔

ماضی میں شرعی علوم کے ماہرین مختلف مکتبہ فکر کے لیے زیادہ احترام پر مبنی رویہ رکھتے تھے۔ افکار کے اس تنوع نے شریعت کو ہمیشہ تقویت بخشی ہے، اسے کمزور نہیں کیا ہے۔ بد قسمتی سے آج ماہرین شریعت بالعموم باہم عدم برداشت کا شکار ہیں اور زیادہ رجعت پسندی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال میں اسلامی تعلیمات کے لیے زیادہ بردباری کی سوچ کی ضرورت ہے۔

یہ افسوسناک بات ہے کہ عراق، شام لیبیا اور یمن میں بعض مسلمان باہمی تصادم کا شکار ہیں۔ وہ ہر اس شخص کو نیست و نابود کر دینا چاہتے ہیں جو ان کے مسخ کردہ تصورات کو قبول نہیں کرتا ہے۔ سعودی عرب میں مفتی اعظم، علماء کی مجلس اور بہت ساری مساجد کے آئمہ حضرات ایسے جہادیوں کے تکفیری نظریات کو رد کرتے ہیں اور اعتدال پسندی کی ترویج کرتے ہیں۔ لیکن ایسے بھی ابھی موجود سے ہیں جو دینا کو مسلمان اور غیر مسلمان میں تقسیم کرنے کے علاوہ مسلمانوں کے اندر بھی تقسیم کرنے اور دوسروں کو مسلمان تسلیم نہ کرنے پر اڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح کی استردادی آوازیں آج بھی سعودی عرب اور دوسری اسلامی دنیا میں بڑے خطرے کی صورت موجود ہیں۔

اب وقت ضائع کیے بغیر ضرورت ہے کہ اس طرح کے انتہا پسندانہ کلچر کو مسترد کرنے کے لیے مسلم کمیونیٹیز کو مضبوط بنایا جائے، تاکہ اعتدال پسندی کا فروغ ہو سکے۔ مسلمانوں کو یاد رہنا چاہیے کہ اسلام میں اہل کلیسا کی طرح کی مذہبیت یا ملائیت نہیں ہے۔ اللہ کے نزدیک تمام مسلمان برابر ہیں۔

مسلمانوں میں عدم برداشت کی بڑی وجہ تکفیری خیالات کی موجودگی ہے۔ اس وجہ سے بہت سے مسلمان اس حوالے سے پر اعتمادی کے ساتھ اپنے مذہبی اعتقادات اور تصورات کو عملی شکل دینا مشکل سمجھتے ہیں۔ انہیں خوف رہتا ہے کہ ان پر توہین مذہب کا الزام نہ عاید کر دیا جائے۔ خود ساختہ طور پربنے اسلام کے ٹھیکیداروں کو جاننا چاہیے کہ کسی کی وفاداری کا تعین کرنے کا حق صرف اللہ کو ہے اور وہی اس فیصلے کے کرنے کا حق رکھتا ہے۔

تمام مسلمان اسلام کے پانچ بنیادی ارکان پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ کوئی بھی انتہا پسندوں کے تصورات کا پابند نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں یہ سخت گناہ ہے کہ کسی کلمہ گو کے ایمان میں شک نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح یہ بھی گناہ ہے کہ اسلام میں انتہا پسندوں کی تعبیرات کو شامل نہ کیا جائے اور مسلمانوں کے لیے مشکلات بڑھائی جائیں۔ اسلام میں جبر نہیں ہے۔ اسلامی علماء کو چاہیے کہ وہ ایک موثر مہم چلا کر اسلام کے ماننے والوں کو بچائیں اور یہ واضح کریں کہ ہم مذہب یا فرقوں کی بنیاد پر کسی کے خلاف جنگ کے ساتھ نہیں ہیں۔ پوری دنیا کے مسلم علماء کی اعلی مجالس کو چاہیے کہ اس سلسلے میں موثر حکمت عملی کے ساتھ آگے آئیں اور مسلم دنیا کے لیے خطرہ بننے والے انتہا پسندوں کا تدارک کریں۔

بہت سارے مسلمانوں کو ان مسخ شدہ نظریات سے متعارف کرایا گیا ہے، انہیں رہنمائی اور موقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ روشن خیال ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں زیادہ اعتدال پسندی اور لچک پر مبنی ماحول دیا جائے۔ تعلیمی اداروں سے کہا جائے کہ وہ عسکری ادب اور اسلام کی مسخ کردہ تعبیرات پر نظر رکھیں جس کی وجہ اسلام کو جذباتی تاثر بنایا جا رہا ہے۔ مسلمان ایک طویل عرصے سے اس معاملے میں غیر متعلق یا غیر فعال رہے ہیں اور اس وجہ سے جذباتیت نے تقریبا ہر ملک میں جگہ بنا لی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ انتہا پسندی کے خلاف عوامی سطح پر بات کریں اور عالمی امن و خوش حالی کے لیے خطرہ بننے والے ان نظریات کو روک دیں۔ سعودی عرب اور دوسرے مسلم ممالک میں اس حوالے سے آگے بڑھنے کے لیے ہمیں نظریاتی بحران کا خاتمہ کرنا ہوگا اور انتہا پسند نظریات کا توڑ کرنا ہو گا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند