تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وزیراعظم صاحب! توجہ دیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 1 جمادی الثانی 1436هـ - 22 مارچ 2015م KSA 07:56 - GMT 04:56
وزیراعظم صاحب! توجہ دیں

کارخانہ حکومت کا معاملہ بھی مختلف ہے ۔ریاست اپنے تین اہم ستون عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کے بل بوتے پر ترقی کی منازل طے کرتی چلی جاتی ہے۔مگر جب ان میں سے کوئی ایک ستون بھی اپنی ذمہ داریوں سے انکاری ہوجائے تو پوری ریاست کا نظام داؤ پر لگ جاتا ہے۔ ملک میں سب سے اہم اور حساس ذمہ داری سول افسران پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ ریاست کا یہ ستون ارباب و اختیار کی آنکھ اور کان ہوتا ہے۔ اگر آنکھ اور کان ہی درست سمت میں کام کرنے سے انکار کردیں تو پھر پورے جسم کا نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ جس کی اولین مثال حالیہ پٹرولیم بحران میں نظر آئی۔ تاریخ کا جائزہ لیں تو سیدنا حضرت ابوبکرؓ،حضرت عمر فاروق ؓاور سیدنا حضرت علی ؓکے فرمودات سرکاری عہدیداران کو نہ صرف درست سمت میں دیانت داری کے ساتھ کام کرنے کی رہنمائی کرتے ہیں بلکہ ناپسندیدہ چیزوں سے باز وممنوع رہنے کی ہدایت بھی دیتے ہیں۔ ۔کتنی اچھی طرح امیرالمومنین نے اس اہل کار پر واضح کردیا کہ، یہ مال مجھے تحفے میں ملا ہے اور یہ میں نے سرکار کا حق وصول کیا ہے۔ آپ نے فرمایا اگر تم اس منصب پر فائز نہ ہوتے تو میں دیکھتا کہ تمھیں یہ تحفہ کیسے ملتا ہے؟آپ نے پر تعش زندگی بسر کرنے پر گورنر مصر کو معزول کر کے بیت المال کے اونٹ چرانے پر معمور کردیا۔ یہ انصاف ہی تھا جس نے اسلام کی وسعت کو عرب کے ایک کونے سے دنیا کے آخری کونے تک پھیلانے میں اہم کردار اد اکیا۔ مگر آج سول افسران میں انصاف نظر نہیں آتا۔نوکر شاہی اپنے ساتھ مخلص نہیں ہےتو حکومت کے ساتھ انصاف کیسے کرے گی؟

مضمحل ہوگئے قویٰ ٰغالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں

وزیراعظم پاکستان کی وطن میں غیر موجودگی کے دوران پٹرول بحران اس قدر شدت اختیار کرگیا کہ دنیا پاکستان پر ہنس رہی تھی۔ یہ ایک ایسا بحران تھا کہ دنیا عراق، لیبیا ،زمبابوے اور ازبکستان کے تاریخی پٹرول بحران کو بھول کر پاکستان کا تذکرہ کررہی تھی۔ حالات کا یہ عالم تھا کہ بچے اسکول جانے سے محروم تھے تو والدین دفاتر کا رخ نہیں کر پا رہے تھے۔ جس شخص کو گھر میں جو چیز ملی وہ ہاتھ میں تھام کر پٹرول پمپس کا رخ کررہا تھا۔ مگر حکومت کی جانب سے فوری اور بااثر اقدامات کرنے کی وجہ سے بحران تو ٹل گیا مگر ابتدائی تحقیقات میں جن افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ان میں سیکرٹری پٹرولیم، ایم ڈی پاکستان اسٹیٹ آئل ،ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز پاکستان اسٹیٹ آئل ،ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پٹرولیم تھے۔ اور انہیں معطلی کا پروانہ تھمایا گیا۔ جس کے بلاشبہ یہ افسران مستحق تھے مگر حکومت نے جب یہ فیصلہ لیا تو اس عاجز نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے 22 جنوری کے کالم میں لکھا تھا کہ ایسے سنگین بحران میں معطلی کا فیصلہ درست ہے مگر جو اس بحران کے اصل ذمہ دار ہیں تو انہیں کیوں سزا نہیں دی گئی۔ اوگراایکٹ کے سیکشن 6 کے تحت چئیرمین اوگرا کی ذمہ داری ہے کہ مارکیٹ میں کم از کم 20 دن کے اسٹاکس برقرار رکھے اور اس مقصد کے لئے اس کے پاس 231 افسران پر مشتمل ایک Enforcement Directorate بھی موجود تھا۔ مگر پھر بھی ملک کے سب سے بڑے صوبے میں پٹرول غائب رہا اور عوام کئی روز تک پٹرول پمپوں پر لمبی قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرتے رہے۔ جس پر حکومت کے ارباب و اختیار نے کہا تھا کہ چئیرمین اوگرا واقعی اس سارے معاملے کے ذمہ دار ہیں مگر وزیراعظم انہیں برطرف یا معطل نہیں کرسکتے۔ اس سارے معاملے کے لئے ریفرنس کا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ ہمارے نظام میں کس قدر خامیاں موجود ہیں کہ ملک کا چیف ایگزیکٹیو چاہتے ہوئے بھی ایک ذمہ دار افسر کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کرسکتا۔ بلکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب وفاقی سیکریٹری پٹرولیم کی معطلی کے احکامات جاری ہوئے تو یہ عاجز اقتدار کی علامت ایک بلند بانگ عمارت میں بیٹھا ہوا تھا۔ پتہ چلا کہ میاں نوازشریف نے اس بار وزارت عظمی کا منصب سنبھال کر منفرد کارنامہ کیا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے ایک بھی وفاقی سیکرٹری اپنی مرضی سے نہیں لگوایا بلکہ اس وقت کے اپنے سیکرٹری کو کہا کہ ایسے افسران دی اک ٹیم بناؤجیہڑے ایماندار تے قابل ہون اور اناں دی شہرت وی اچھی ہوئے‘‘ اور صاحب موصوف سیکرٹری پٹرولیم بھی ان صاحب کا انتخاب تھے۔ بہرحال ملک میں سول افسران کی غفلت کے حوالے سے بات ہورہی تھے۔ پٹرولیم بحران میں جب حکومت نے تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ۔جس نے چیئرمین اوگرا پر واضح الفاظ میں ذمہ داری عائد کی اور وزیراعظم پاکستان سے سفارش کی کہ انہیں جبری رخصت پر بھیج دیا جائے تو مجھے سابق چیئرمین اوگرا کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کاایک فیصلہ یاد آگیا۔ جس میں عدالت نے حکم دیا تھا کہ ریگولیٹری اداروں میں ایسی صورت حال پیدا ہونے پر بظاہر ذمہ دارافسر کو جبری رخصت پر بھیجا جا سکتا ہے تا کہ وہ انکوائری کے نتائج پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ وفاقی حکومت کے بقول چیئرمین اوگرا کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے اسی فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے جبری رخصت پر بھیجا جارہا ہے تاکہ اس دوران فیڈرل پبلک سروس کمیشن اوگراایکٹ کے تحت معاملے کی انکوائری کر کے اپنی سفارشات پیش کرے اور کوئی بھی افسر انکوائری پر اثر اندا ز نہ ہو۔مگر شاید اب ایسا نہ ہوسکے۔سول افسران کو تو انیتا تراب کیس کے ذریعے تحفظ فراہم مل چکا ہے کہ انہیں اب پولیٹیکل ماسٹر بننے کے بجائے ریاست کے معاملات کو بہتر کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ حکومت وقت کو بھی قوانین میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔ملک کے چیف ایگزیکٹیو کو اختیار ہونا چاہئے کہ غیر ذمہ داری کا ثبوت دینے والے افسران کو گھر بھیجنے کا پروانہ تھما سکے۔ اس سارے معاملے میں عدل و انصاف سے کام لینے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ عدل تقویٰ کے قریب ہے ،روز حشر جب کسی کی مجال نہ ہوگی کہ خداوندکریم کی اجازت کے بغیر لب کشائی کرسکے۔ عادل حاکم کو رب ذوالجلال کے سائے میں پناہ ملے گی۔ جب تک ملک میں چند عہدوں پر براجمان افسران کے لئے اصلاحات نہیں آئیں گی معاملات اس طرح سنگین رہیں گے۔کیونکہ حکمران !یاد رکھیں کہ جب بھی پٹرولیم بحران کا پاکستان کے حوالے سے تذکرہ ہوگا۔ کسی کو یہ یاد نہیں ہوگا کہ اس وقت کونسا افسر براجمان تھا یا چیئرمین اوگرا کون تھا۔بلکہ تذکرہ ہوگا کہ 2015میں پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف تھے۔تاریخ کا جبر ہے کہ تاریخ دان کبھی کسی کو معاف نہیں کرتا۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند