تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان کا نیا اسکرپٹ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 5 جمادی الثانی 1436هـ - 26 مارچ 2015م KSA 10:55 - GMT 07:55
پاکستان کا نیا اسکرپٹ

پہلے چند ایک الفاظ پریڈ کے بارے میں۔۔۔اس کے ساتھ ہونے والا رواں تبصرہ اتنا جوشیلا کیوں تھا؟میں نے گیارہ بجے، یا شاید چند منٹ پہلے، ٹی وی آن کیا تو ولولہ انگیزالفاظ کاایک منہ زور دریا تھا جو بہہ رہا تھا۔ قطع ِ نظر اس کے کہ کمنٹری کرنے والی آوازیں میل تھیں یا فی میل، مردانہ وار، بلا تکان، کشتوں کے پشتے لگا ئے جارہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے کوئی لشکر کسی میدان کو روندتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے اوراس کی دھمک سے دھرتی کا دل دہل رہا ہے۔ ایک سوچ، کہ اگر دفاعی اداروں نے بھی الفاظ کے استعمال میں اختصار سے کام نہیں لینا سیکھا تو باقی قوم سے اس ہنر کی کیا توقع کی جاسکتی ہے؟اس جوشیلی کمنٹری کی وجہ سے میں اس پریڈ کو دو منٹ سے زیادہ برداشت نہ کر سکا۔ اس کے علاوہ صدر صاحب کا بھی پرکشش چہرہ تھا، لیکن چہروں کے بارے میں ابن ِ انشا بہت کچھ کہہ چکے ہیں، اس لئے اصل موضوع کی طرف واپس لوٹتا ہوں۔

حب الوطنی یا اس کا اظہار کوئی مسئلہ نہیں، لیکن مجھے بر ِ صغیر میں مسلمانوں کی طاقت ، جرات و شجاعت، کی عکاسی کرنے والی داستانیں دیومالائی دکھائی دیتی ہیں ۔ دنیا کے اس حصے میں مسلمانوں کی طاقت شاہ جہاں اور اورنگ زیب عالمگیر کے ادوار میں پورے عروج پر تھی۔ اورنگ زیب ایک عظیم حکمران تھا لیکن ان کے دورمیں ہی سلطنت میں کمزوری کی علامات آشکار ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ مغل دربار دکن اور مرہٹوں کے خلاف بلاضرورت بہت زیادہ طاقت جھونک چکا تھااور پھر عمر رسیدہ بادشاہ بھی وقت کی گھاٹی میں اتررہاتھا۔ قیادت میں ولولہ رہا تھا اور نہ شعلگی۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یورپی افواج نے نئی طرز ِحرب اپنا لی تھی جبکہ مغل افواج اورنگ زیب کے وقت تک پرانی جنگی حکمت عملی پر ہی گامزن تھیں۔ درحقیقت تمام اسلامی دنیا اُ س وقت تک جدید فوج کے تصور سے ناآشنا تھی۔ اورنگ زیب 1707 میں فوت ہوگئے اور پھر بتیس سال کے اندر اندر تیموری سلطنت ایرانی بادشاہ، نادرشاہ کی یلغار کی تاب نہ لا سکی ۔ نادر شاہ نے دہلی کو تاراج کیا، خزانہ لوٹا، تخت طائوس اور کوہ ِ نور ہیرے کوبزور ِ شمشیر چھین کر لے گیا۔ مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کی ایک بیٹی کو نادر شاہ کا ایک بیٹا اپنی بیوی کے طور پر لے گیا جبکہ ہزاروں مسلمان اور ہندو لڑکیوں کو غلام بنا لیا گیا۔ افغانستان اور پنجاب مغل سلطنت سے نکل گئے۔

اس کے بعد پنجاب میں سکھوں نے سراٹھانا شروع کردیا، بر ِ صغیر میں ہر طرف شورش پھیل چکی تھی اور اسی دوران انگریزوں کو بنگال میں قدم رکھنے کا موقع مل گیا اور یوں ہندوستان میں مسلم طاقت دم توڑ گئی۔معنی خیز بات یہ ہے کہ بر ِ صغیر میں انگریزوں کی آمد نے مسلمانوں کے زوال کے عمل کو ایک طرح سے روک دیا۔ لاہور کی سکھ سلطنت کا خاتمہ مسلمانوں نے نہیں بلکہ انگریزوںکے ہاتھوں انجام پایا۔ یہ انگریز سرکار تھی جس نے خصوصی سلوک کے لئے مسلم لیگ ۔۔۔جب 1905 میں مسلمان قائدین کا وفد لارڈ منٹو سے ملاقات کے لئے شملہ گیا۔۔۔کی عاجزانہ درخواست کو ملحوظ ِخاطر رکھا ۔1940 تک مسلمان آبادی، خاص طور پر اس کے اکابرین کی توجہ کا مرکز ایک الگ ریاست کے حصول سے زیادہ ہندواکثریت سے نجات تھی۔ان کی جدوجہد انڈیا سے برطانیہ کو نکالنے کے لئے نہیں تھی، بلکہ سوچ کا محور یہ فکر تھی کہ اگر انگریز چلے گئے تو پھر کیا ہوگا۔ اس طرح یہ بات برملا کہی جاسکتی ہے کہ تحریک ِ پاکستان کو خوف اور غیر یقینی پن نے مہمیز کیا۔ اب یہ خوف ایسا دامن گیر ہوا کہ برس ہا برس بیت گئے لیکن میزائلوں، ٹینکوں اور جوہری ہتھیاروں کے باوجود ہمارے فیصلہ ساز حلقے اس سے پیچھا نہیں چھڑا پائے۔

ترکی نے اتاترک کی قیادت میں ماضی سے جان چھڑا لی، انقلاب ِ روس نے زار خاندان کی ملوکیت کو زمین بوس کردیا ، مائو اور کمیونسٹ پارٹی نے ماضی کی تمام علامتیں مٹا کر چینی فکر کو جدت وجلا بخشی۔ اگر مسلم قوم کے دانش ور حلقے ایک جدید ترقی پسند معاشرے کی تعمیر میں دلچسپی رکھتے تو وہ بھی ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لیتے اور پھر ان سے جان چھڑاکر آگے بڑھ جاتے اور ایک نئے معاشرے کی بنیاد رکھتے۔ چین کے کمیونسٹوں نے پرانے چین کی ظاہری علامتوں، جیسا کہ لباس اور ہیراسٹائل تک کوبدل ڈالا۔ اتاترک نے روایتی ترک معاشرے کی علامت، ترکی ٹوپی، پر پابندی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کھیتوں میں ہل چلانے والے کسان بھی مغربی لباس پہنیں۔ 1947 کی مسلم لیگ کے قائدین کی کسی بھی اجتماع میں تصاویر دیکھیں تو کم و بیش تمام اکابرین مجسم احتیاط اور احترام ۔۔۔اُن قابل ِ احترام چہروں پر دلیری یا غیر معمولی جرات کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔

ہمیں اگر چھ ماہ نہیں تو بھی ایک سال کے اندر اندر آئین سازی کر لینی چاہیے تھی۔ قائد ِ اعظم کو بنگالی زبان کی اہمیت کو مد ِ نظر رکھنا چاہیے تھا۔۔۔۔ بلکہ اس نوزائیدہ ریاست میں زبان کا کوئی مسئلہ پیدا ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ لینڈ ریفارمز کے ذریعے بڑی بڑی جاگیروں کو توڑ کر چھوٹے کسانوں اور ہاریوں میں بانٹتے ہوئے جاگیرداری کا خاتمہ ہوجاتا۔ اس نئی ریاست میں نسل اور عقیدے کی کوئی تخصیص نہیں ہونی چاہیے تھی اور نہ ہی القابات، جیسا کہ مخدوم، ملک، چوہدری، وغیرہ کی کوئی گنجائش نکلنی چاہیے تھی۔ تاہم ہوا یوں کہ مغربی پاکستان کی قیادت پر جاگیرداروں نے قبضہ کرلیا اور ان کی توجہ کا مرکز اپنی جاگیروں اور اثاثوں کا تحفظ تھا نہ کہ ایک ترقی یافتہ معاشرے کا قیام۔ کشمیر کی جنگ ، جب ایک مرتبہ شروع ہوگئی تھی، تو اسے پوری طاقت کے ساتھ لڑا جاتا کیونکہ سری نگر کا دفاع مضبوط نہیں تھا اور اس پر قبضہ کیا جاسکتا تھا۔ قبائلی لشکر نے قبضہ جمالیا تھا لیکن پھرہمارے پاس ایسے باصلاحیت اور دلیر افسران نہیں تھے جو موقع سے فائدہ اٹھاتے۔ ہجرت کے بعد متروکہ جائیداد کی تقسیم(جویقینا کوئی آسان کام نہ تھا) کوقدرے بہتر ، مختلف اور منظم انداز میں کیا جاسکتا تھاکہ ہجرت کرکے آنے والے ہر شخص کو ایک چھوٹاسا مکان ، یا مکان کا ایک حصہ دے دیا جاتا، لیکن ہمارے ہاں متروکہ زمین پر قبضہ کرنے کی دوڑ شروع ہوگئی، جھوٹے کلیم داخل کیے گئے اور یہ معاملہ ایک اچھا خاصاسقم بن گیا۔ آزادی اور تقسیم ِ ہند سے بننے والے بہت سے ہنگامی خدوخال مٹ گئے ، لیکن اس نئی ریاست میں جائزو ناجائز طریقے سے جائیداد جمع کرنے کی ہوس کا خاتمہ ابھی باقی ہے۔

پاکستان امریکی کیمپ میں چلا گیا اور یوں سرد جنگ میں عالمی طاقت کے ایک مہرے کے طور پر استعمال ہوا کیونکہ بیوروکریٹس اور جاگیرداروں پر مشتمل پاکستانی قیادت کے پاس ریاست کی نائو نئے پانیوں میں کھیلنے کے لئے درکار تخیلات کا فقدان تھا۔ شاعری کا ذوق رکھنے اور اچکن زیب تن کرنے والے مسلم لیگ کے اکابرین متحد ہندوستان میں خوفزدہ رہتے تھے، چنانچہ آزادی کے بعد بھی خوف اور عدم تحفظ کا احساس ان کے دل سے نہ نکل سکا۔ خوف اور عدم تحفظ کا یہ احساس اس نئی ریاست کا ’’طرۂ امتیاز‘‘ بن گیا۔
تاہم یہ ماضی ہے… آج یہ دوسو ملین نفوس پر مشتمل ایک بڑی قوم ہے جسے اس نئی دنیا میں بہتر اور زیادہ قابل ِ اعتماد طریقے سے قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ یقینا ہمارے ہاں نہ تو کوئی اتاترک ہے، نہ چینی کمیونسٹ پارٹی جبکہ سیاسی طبقہ روایتی تصورات اور وقتی اور ہنگامی اقدامات کی دنیا سے باہر جھانک کردینے کے قابل نہیں ، لیکن کیا معاشرے کے ترقی پسند دھارے بھی خشک ہوچکے ہیں… وہ دھارے جن کی سوچ کوپروان چڑھنے اور معاشرے کو تشکیل دینے کے لئے ایوانوں کی حاجت نہیں ہوتی؟

کیا ہمارے پاس موجودہ حمام گرد ِ باد سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں؟ کیا تمام امیدیں دم توڑ چکیں؟نہیں، ہمارے سامنے توقعات کی دنیا اتنی تاریک نہیں ، اور یہ ہوبھی نہیں سکتی۔ کیا عسکری ادارے نئی منزل کی طرف جادہ پیمائی نہیں کر رہے؟ اس ضمن میں ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے، لیکن اہم بات یہ کہ اسکی ابتداہوگئی ہے۔اب قوم کو پوری سنجیدگی کے ساتھ جہان نو کی طرف بڑھنے اور عالم ِ پیر کو دفن کرنے میں کتنی دیر لگے گی؟ ہم ایک مردہ تہذیب کے وارث ہرگز نہیں ہوسکتے۔ ہم پرانے نعروں پر سر دھنتے ہوئے عقیدے کی نام نہاد تشریح کے پیچھے پناہ نہیں لے سکتے اور نہ ہی یہ طرز ِعمل ہمارے مسائل کا کوئی حل پیش کرسکتا ہے۔ سیاسی محاذ پر ہمیں زیادہ تاب و تواں ، جدت پسند تخیل اور قدرے بہتر رہنمائوں کی ضرورت ہے ، لیکن کیا ہمارے معاشرے میں اتنی سکت موجودہے کہ اس میں نئے اور انقلابی رہنما بیدار ہو سکیں؟بے شک ہمارے ہاں انقلابی نعرے لگانے والے رہنمائوں کی فوج ِ ظفر موج ہانکادیئے رہتی ہے ، لیکن ان پر نظر پڑتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے۔ درست ، کہ ابھی ان سے مفرممکن نہیں، لیکن پھر صحرا میں پھول اُگانے کے لئے پہلے تمام ریت کے ختم ہوجانے کا انتظار نہیں کیا جاتا۔

جو جگہ ملے تبدیلی کا پودا کاشت کر دیں، ورنہ پاکستان اس دلدل سے کبھی نہیں نکل پائے گا۔ اور پھر ہمارے ہاں تو تبدیلی کی ہوائیں چل نکلی ہیں۔ ایک سال پہلے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ایکشن کا کوئی دھندلا سا امکان تک ہویدا نہ تھا۔ ایک ماہ پہلے تک کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ایم کیو ایم پر اس طرح بھی ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے۔ ابھی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہیں لیکن ان کے ملنے سے بننے والا اجتماعی منظر نامہ حوصلہ افزا ہے۔ اس تبدیلی کو تیز کرنے اور قوم کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ لمحہ کبھی آئے گا یا پھر ہم قسمت اور تاریخ کی ستم ظریفی کے اسیر ہوکر اسی تنزلی اور عامیانہ پن کو انقلابی تبدیلی سمجھتے رہیں گے؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند