تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یمن میں کشمکش اور پاکستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 9 ربیع الثانی 1442هـ - 25 نومبر 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 6 جمادی الثانی 1436هـ - 27 مارچ 2015م KSA 09:48 - GMT 06:48
یمن میں کشمکش اور پاکستان

عالمی افق پر ایک نیا جنگی محاذ کھل چکا ہے، پاکستانی شمولیت کا جس میں امکان ہے۔ یمنی صدر منصور ہادی کی درخواست پر خلیجی ریاستوں نے حکومت پر قابض حقثی قباءل کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ ایران نے فوری طور پر اس کی مذمت کی ہے۔ محاذ جنگ کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف سعودی عرب کے 100 جنگی ہوائی جہاز اور ڈیڑھ لاکھ فوجی اس میں شریک ہیں۔ خلیجی ذرائع ابلاغ کے مطابق خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان نے بھی اس جنگ میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ دوسری طرف دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے پاکستانی مدد طلب کی ہے جسکا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایک دہائی سے دہشت گردی کی جنگ میں ہم گردن تک دھنسے ہوئے تھے اور بمشکل تمام اب بتدریج باہر نکل رہے ہیں۔ اس صورت حال میں ہمیشہ سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

مشرق وسطی اور اس سے ملحق خطے میں اثر و رسوخ اور اپنی حامی حکومتوں کے قیام کی عرب ایران کشمکش کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ گزشتہ دہائی میں خطے میں ایرانی مفادات تیزی سے آگے بڑھے ہیں۔ افغانستان اور عراق میں طالبان اور صدام حسی کی صورت میں ایران مخالف حکومتوں کا خاتمہ ہوا ۔ 2006ء کی جنگ میں ایرانی بنیادیں رکھنے والی حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف سخت مزاحمتی قوت کا اظہار کیا۔ مصر کی فوجی حکومت سعودی عرب کی قریبی حلیف سمجھی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اخوان کا تختہ الٹ کر دوبارہ جب فوج برسر اقتدار آئی تو اسے ہر ممکن مدد فراہم کی گئی۔

شام کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ بشار الاسد کے خلاف مظاہرے اور مسلح کارروائیاں شروع ہوئیں تو خلیجی ممالک پرجوش تھے۔ وہ اس انداز میں شامی حکومت گرائے جانے کے خواہشمند تھے جس طرز پر لیبیا میں قذافی کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ عراق اور لیبیا وہ مثالیں ہیں جہاں وقتی مفاد کی خاطر امریکی اتحاد نے مرکزی حکومت کا خاتمہ تو کر دیا لیکن اسکے بعد انہیں خانہ جنگی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ بات صاف ظاہر تھی کہ بشار الاسد کی حکومت گری تو شام پکے ہوئے پھل کی طرح مشرق وسطی میں غلبہ پاتی انتہا پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جھولی میں جا گرے گا۔ امریکہ اور مغرب عوامی سطح پر اور ایوانوں میں سخت ترین رد عمل کے پیش نظر شام میں مداخلت سے باز رہے۔ سعودی عرب نے اس پر اپنے پرانے حلیف امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایرانی حلیف بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ خللیجی ریاستوں کے لیے سنہری خواب تھا، تاحال جو تعبیر سے ہمکنار نہیں ہو سکا۔

عرب ایران تنازے میں طرفین نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے ہمسایہ عرب ممالک میں حکومتیں بدل دینے کا خواب دیکھا، حالانکہ زیادہ تر ریاستوں میں شیعہ اقلیت تھے۔ دوسری طرف تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاستیں دفاعی میدان میں لاچار تھیں۔ اپنی دفاعی کمزوریوں کی وجہ سے خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ نے انہیں ضرورت سے زیادہ پریشان کر دیا۔ ادھر امریکی و مغربی ممالک کے لیے یہ ان خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور کھربوں ڈالر کا دفاعی سازوسامان بیچنے کا ایک عمدہ موقع تھا، جس سے انہوں نے خواب فائدہ اٹھایا۔ 2014ء میں سعودی عرب دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہتھیار درآمد کرنے والا ملک تھا۔

برسبیل تذکرہ پچھلے پانچ برس کا ڈیٹا لیا جائے تو بھارت فوجی ساز و سامان خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس صورت حال نے پاکستان کو مستقل دبائو کا شکار کر رکھا ہے۔ وہری پروگرام پر عائد عالمی پابندیوں نے ارانی معیشت کو سخت بحران سے دوچار کر رکھا تھا۔ پہلی بار فریقین 31 مارچ تک کسی قابل عمل معاہدے تک پہنچنے کیلئے پرامید ہیں۔ ایران کو محدود مقداریں یورینیم افزودگی کی اجازت دے دی جائے گی۔ گو کہ اس بات کے امکانات بہت کمم ہیں کہ سخت عالمی نگرانی میں وہ ایٹمی ہتھیار بنا پائے گا۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ بہر حال وہ ایک خطرناک ٹیکنالوجی سیکھتا چلا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں دو ہفتے قبل ایک سعودی شہزادے نے یہ بیان دیا تھا : ایٹ٘ی معاملے پر عالمی برادری جو کچھ ایران کو دے گی، سعودی عرب کو بھی وہی کچح دینا ہوگا۔ عالمی پابندیوں کے خاتمے سے تیل و گیس کے ذخائر سے مالامال ایرانی معیشت دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گی۔ دوسری طرف دفاعی طور پر خطے میں وہ ایک مضبوط اور منفرد طاقت ہے۔

یمن کے ساتھ سعودی عرب 1800 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔ یہاں حالات کی خرابی سے براہ راست اسے خطرہ درپیش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یمنی سرحد پر وہ سینسر اور کیمروں سمیت جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس دیوقامت باڑ لگا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں بار بار یہ بات سننے میں آتی ہے کہ سعودی عرب پاکستان سے فوجی مدد مانگ رہا ہے، جو مستقل طور پر جزیرہ نما عرب میں مقیم رہے۔

یمن کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ یہاں ایرانی حمایت یافتہ حوثی شیعہ قبائل ہی نہیں، سنی قبائل ، القاعدہ ، دولت اسلامیہ ، ایران اور خلیجی ممالک کی صورت میں بہت سے متحارت حریف بھی موجود ہیں۔ حال ہی میں دولت اسلامیہ نے حوثی قبائل پر خودکش حملے کیے۔ گزشتہ برس ستمبر میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔ اب تک تین بڑے شہروں پر وہ حاوی ہو چکے ہیں۔ عدن ان میں سب سے اہم ہے۔ ایشیا اور افریقہ کے درمیان بہنے والا بحیرہ احمر یہاں ایک تنگ گزرگاہ آ بنائے باب المندب میں بدل جاتا ہے۔ یہاں سالانہ بیس ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں ۔ عدن پر حوثی اور مضبوط اور دیر پا قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو سعودیوں سمیت خطے کے لیے یہ ایک تکلیف دہ صورت ہوتی۔ ادھر ریاست کا اہم جنگی سازوسامان حوثیوں کے قبضے میں ہے۔

یمن میں فوجی مداخلت سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں جوہری تبدیلی ہے۔ خلیجی ممالک، ایران عرب کشمکش اور خود پاکستان کے لیے بھی یہ عظیم اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ پاکستانی فوجی و سیاسی قیادت کو خوب سوچ سمجھ کر باہم مشورے سے اس پیچیدہ صورت حال ممیں اپنا لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ مشرق میں بھارت اور مغرب میں افغان سرحد پر شدید خطرات پہلے ہی سے لاحق ہیں۔ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہمارے لیے انتہائی خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ یہ بات بہر حال طے ہے کہ یمنی جنگ کے نتیجے میں ایران عرب کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید