تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب سے ہمارا رشتہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 9 جمادی الثانی 1436هـ - 30 مارچ 2015م KSA 09:35 - GMT 06:35
سعودی عرب سے ہمارا رشتہ

سعودی کرائون پرنس پاکستان کے وزیر اعظم کو فون کرکے سعودی عرب کو لاحق خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے پاکستان کی مدد کی درخواست کرتے ہیں جس پر پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے یک زبان ہو کر جواب دیا کہ برادر اسلامی ملک کے دفاع کے لیے ہم سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔اس پر پاکستان کے کچھ سیاسی رہنماؤں بشمول خورشید شاہ اور عمران خان نے خفگی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کو اس مسئلہ سے مکمل طور پر باہر رہنا چاہیے۔ کاش معاملہ واقعی اتنا ہی آسان ہوتا،جس کا اظہار خان صاحب اور شاہ صاحب یا ہمارے بہت سے تبصرہ نگار اور تجزیہ نگار کر رہے ہیں۔

مشورہ دیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کو انکار کر دیں کہ ہم اُس کا ساتھ نہیں دے سکتے۔یہ بھی بحث کی جا رہی ہے کہ پرائی جنگوں نے ہمیں پہلے ہی بہت کمزور کر دیا ہے اور اب ایک اور پرائی جنگ میں اپنے آپ کو جھونک کر ہم اپنے لیے مزید بربادی کا ساماں پیدا نہیں کر سکتے۔ اگر واقعی معاملہ اتنا ہی سیدھاہے تو بہتر ہو گا کہ اعلیٰ حکومتی و عسکری وفد کی بجائے خورشید شاہ ، عمران خان کی سربراہی میں اعتراض کرنے والوں کا ایک وفد سعودی عرب بھیجا جائے جو سعودیوں کو ٹکا سا جواب دے کر واپس لوٹ آئے اور یوں ہم ایک نئی مصیبت سے بچ جائیں گے۔ افسوس اس انتہائی نازک معاملہ پر بھی یہاں سیاست اور مخالفت برائے مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔بجائے اس کے کہ کوئی بہتر حل تجویز کیا جائے ایسی باتیں کی جا رہی ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہی خراب ہو جائیں۔ میری ذاتی رائے میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے سعودی حکومت کو جس قسم کی حمایت کا یقین دلایا اُس سے بہتر کوئی دوسرا فوری رد عمل نہیں ہو سکتا تھا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے فیصلہ کیا ہے وہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے اور یہی بات سعودی حکمرانوں کو بتائی گئی۔ گزشتہ رات میری وزیر اعظم کے ایک اہم مشیر سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے بتایا کہ جہاں تک یمن میں جاری خانہ جنگی اور سعودی عرب اور کچھ دوسرے عرب ممالک کے فضائی حملوں کا تعلق ہے، اس بارے میں نہ تو سعودی عرب نے ہمیںشامل ہونے کے لیے کہا اور نہ ہی پاکستان کی قیادت نے کوئی ایسا فیصلہ کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان یمن میں کسی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔

سعودی حکومت اور اُس کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ماضی میں ایسا ہوا بھی مگر یہ کہنا کہ سعودی عرب کو اس موقع پر سرخ جھنڈی دکھا دی جائے، ایسا پاکستان کے لیے ممکن نہیں۔ سعودی حکمران کوئی بھی ہو، حرمین شریفین کا تقدس اور اُن کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ یہ ہمارا ایسا رشتہ ہے جو کسی بھی دوسرے تعلق اور رشتہ سے مضبوط ہے۔ بنیادی طور پر اسی رشتہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک ایسا تعلق ہمیشہ قائم رکھا جس کا کسی دوسرے ملک سے تقابل کیا ہی نہیں جا سکتا۔ذوالفقار علی بھٹو ہوںیا جنرل ضیاء الحق، نواز شریف ہوں یا جنرل پرویز مشرف پاکستان کا ہمیشہ سعودی عرب نے بڑے بھائی کی طرح خیال رکھا اور ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا۔ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر دے کر خرید لیا اور اب اُسی قیمت کے نتیجے میں ہماری فوج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اگر یہ سچ ہے تو پھر ایٹمی دھماکوں کے بعد سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو اربوں ڈالر کا مفت تیل فراہم کرنے کا کیا مقصد تھا۔ ہم سے اُس وقت سعودی عرب نے جواب میں کیا مانگا یا ہم نے اُسے کیادیا۔ پاکستان کی معیشت میں بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھجوائے جانے والے زرمبادلہ کا اہم کردار ہے اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ پیسیہ سعودی عرب سے ہی پاکستان بھجوایا جاتا ہے۔ ہر سال تقریباً تین سے چار لاکھ پاکستانیوں کو سعودی عرب میں نوکریاں دی جاتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ان گہرے تعلقات کو سیاست اور پوائنٹ سکورنگ کر کے بگاڑنے کی بجائے ہمیں سنجیدگی سے سعودی عرب کو اپنی سالمیت سے متعلق خطرات کا سامنا کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں حکومت کا فیصلہ انتہائی مناسب اور معقول ہے۔

یہ بات بھی درست ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جاری سرد جنگ اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں سے پوری مسلم امہ کو شدید خطرات ہیں جس کے لیے پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنا فوری طور پر ممکن نہ ہو مگر یہ وہ اہم ذمہ داری ہے جو ہمیں ہر حال میںادا کرنی چاہیے ۔ یمن کے معاملہ میںجہاں ایک طرف سعودی عرب کی طرف سے باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کو جلد از جلد روک کر وہاں امن قائم کرنے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف ایران کو بھی یمن، بحرین اور دوسرے علاقوں میں سعودی مخالف پراکسی وار سے باز رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ پراکسی وار کس حد تک خطرناک ہو چکی اس کا اندازہ ایک خبر سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق ایران کی مدد سے یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی بارڈر کے قریب سکڈ میزائل نصب کر دیے ہیں۔ اگرچہ ایران نے حوثی باغیوں کی مدد کرنے کی تردید کی ہے مگر ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی اور خارجہ کمیٹی کے سربراہ نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب ایران کے لیے خطرہ بننے کے لیے بہت چھوٹا ملک ہے۔

خارجہ کمیٹی کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ایران یمن پر سعودی کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہے اور یہ کہ سعودی عرب کی یہ کارروائی ناکام ہو گی۔ حقیقت میں یمن میں امن کی بحالی کے لیے اگر سعودی عرب کا کردار اہم ہے تو یہ بات بھی یقینی ہے کہ ایران کے مثبت کردار کے بغیر یہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ باقی جو لوگ امریکا کی جنگ میں پاکستان کے کردار کو سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے پاکستان کے تعاون کو گڈ مڈ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اُن سے کوئی کیا بحث کرے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند