تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یمن کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی جغرافیائی تقسیم
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 10 جمادی الثانی 1436هـ - 31 مارچ 2015م KSA 09:28 - GMT 06:28
یمن کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی جغرافیائی تقسیم

یمن میں حوثیوں نے مسلح کارروائیوں کے بعد یمن کے اقتدار پر ستمبر 2014ء سے گرفت قائم کرنی شروع کر دی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں عالمی طاقتوں نے دو میدانِ جنگ (Battlefields) چنے ہیں، ایک عراق اور شام کی سرحدوں کے آرپار اور دوسرا یمن اور سعودی عرب کی سرحدوں کے آر پار۔ شام و عراق میں سجایا جانے والا جنگی تھیٹر ابھی تو اپنے عروج کے آغاز پر ہے۔ نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) اس جنگی تھیٹر کے مستقبل کو سمجھنے میں اہل فکر لوگوں کے لیے کافی ہے۔ عراق میں امریکہ کی مداخلت کے بعد عراق کا جس طرح شیرازہ بکھرا ہے، اس بارے میں 2002ء سے پہلے دنیا تصور بھی نہیں کر رہی تھی کہ عراق میں امریکی مداخلت کے بعد عراق اور اس کے اردگرد خطوں کی کیا صورتِ حال اُبھرے گی۔ نام نہاد عرب بہار نے جس طرح عرب دنیا کے Pride کو ملیامیٹ کیا، اس بارے میں عرب دنیا کے مفکرین ہی بہتر جانتے ہیں۔ اس عرب بہار کا بڑا میدان بلادِ شام چنا گیا ہے۔

شام خطے کی اہم ریاست تھی جو اسرائیلی ریاست کے بالکل سامنے ایک عرب حصار تھا اور یہ حصار اب اپنی طاقت کھو چکا ہے۔ شام کے بڑے حصے پر ’’مجاہدین‘‘ کے مختلف گروہوں کا قبضہ ہے جن کو امریکہ اور اس کے اتحادی سرکاری سطح پر سپورٹ کرتے ہیں۔ داعش کاظہور کم علم لوگوں کے لیے ایک معمہ ہے، لیکن اس کی حقیقت شام میں لڑنے والے دوسری ’’مجاہدین‘‘ تنظیموں سے مختلف نہیں۔ پچھلے چار برسوں میں عراق اور شام کی ریاستوں کی چولیں ہل گئی ہیں۔ اس خطے میں ابھرنے والے تنازعات میں امریکہ نے مداخلت کا آغاز کیا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ خطے میں امریکہ کو تو اثرورسوخ حاصل ہوا ہی، جو ریاست اس تنازعاتی خطے میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہی ہے، وہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے اور یوں ایران اپنی صدیوں پرانی سلطنت کی بحالی کا خواب دیکھنے کو انگڑائیاں لے رہا ہے۔ یہ صدیوں بعد ہوا ہے کہ ایک غیر عرب قوم، ریاست اور تہذیب (ایران) کو عراق، شام، لبنان اور دیگر عرب خطوں میں دیکھا جارہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا یہ حصہ (بلادِ شام) نئی گنجلک صورتِ حال میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران کی عرب خطوں میں مداخلت، موجودگی اور اثرورسوخ کے ساتھ طیب اردوآن نے بھی انہی خطوں میں مداخلت اوراپنی گمشدہ سلطنت عثمانیہ کی بحالی کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ اور امریکہ کے تضادات سے کھیلا، جبکہ طیب اردوآن نے امریکہ کے اتحادی کے طور پر کھیلنے کی کوشش کی۔ ترکی کی اپوزیشن جماعتوں نے اردوآن حکومت کو اس الاؤ سے دُور رکھنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں۔ یہ ترکی میں جمہوریت کے سبب ممکن ہے کہ ترک حکومت جو پہلے اردوآن کی قیادت میں قائم تھی، اب ان کے چہیتے وزیراعظم احمت دعوت اولو کی قیادت میں عثمانی سلطنت کے خواب دیکھنے کے لیے پرتول رہی ہے۔ اردوآن کا خواب عثمانی سلطنت کے فیصلہ کن زوال میں کردار کرنے والے انور پاشا جیسا ہے، جس نے زوال یافتہ عثمانی سلطنت کو جنگوں میں دھکیل کر ملیا میٹ کر دیا۔

ترکی، مشرقِ وسطیٰ کا ایک اہم Player ضرور ہے لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ اس کھیل کا آخری نشانہ ترکی ہی ہے۔ ترکی کی تاریخ ایران سے مختلف ہے۔ گیارھویں صدی میں اناطولیہ کے میدانوں میں خانہ بدوش ترک قبائل کی آمد مشرقِ وسطیٰ میں عرب، ایرانیوں اور اس کے گرد روسی یورپی تہذیبوں کو آج تک کھٹکتی ہے۔ امریکی امپیریل ازم نے بلادِ شام میں جو جنگی میدان سجایا ہے، اس میدانِ جنگ میں وہ وسعت چاہتا ہے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ اس میدانِ جنگ میں ترک ریاست کو زیادہ سے زیادہ داخل ہونے پر مائل کیا جائے، جس کے لیے اقتدار کے حریص صفت اردوآن ہر وقت تیار ہیں۔ دجلہ و فرات کے دونوں دریاؤں کے آرپار فرقہ پرستی کے ایسے بیج بوئے جارہے ہیں جو خطے میں جنگ عظیم اوّل کے بعد کے مشرقِ وسطیٰ کے Reshapping of Middle East کی تاریخ دہرائے جانے سے مختلف نہیں۔ شام اور عراق کی بعث پارٹیوں اور دیگر ترقی پسند اور قوم پرست تحریکوں کو امریکی امپیریل ازم نے پہلے اس خطے میں مذہب کے نام پر روندا اور اب اس کی راکھ پر فرقوں کی بنیاد پر قوموں کو تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

یہ جنگ اگلی ایک دو دہائیوں میں خطہ کا سیاسی جغرافیہ بدل سکتی ہے اور قوموں کو غربت اور پسماندگی کا شکار بنا دے گی۔ یورپ کے مشرقِ وسطیٰ کے دروازے (ترکی) کا مستقبل اس جنگ کے داؤ پر لگاہے۔ بلادِ شام اور دجلہ و فرات کے خطے میں جنگی تھیٹر کی کامیابی کے بعد امریکی امپیریل ازم نے کامیابی سے مشرقِ وسطیٰ کے قدیم عرب خطوں یعنی یمن اور سعودی عرب میں دوسرے اہم میدانِ جنگ کو اب کھل کر سجا دیا ہے۔ یہاں بھی امریکی مداخلت نے تو اثر قائم کیا ہی ہے لیکن یہاں بھی ایران ہی وہ دوسری غیر عرب ریاست، تہذیب ہے جو اس تنازعاتی خطے میں ایک اہم Player کے طور پر اپنا وجود ظاہر کر رہی ہے۔ سعودی عرب نے اس جنگی تھیٹر میں براہ راست جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور دیگر خلیجی ریاستوں کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے، حتیٰ کہ جنوبی ایشیائی ریاست پاکستان بھی اس جنگ میں شمولیت کے لیے پرتول رہی ہے۔

یمن اور سعودی عرب کی سرحدوں کے آرپار جس فکر نے اپنی بنیاد قائم کی ہے، وہ ہے فرقہ اور مسلک۔ اور یوں ہم دیکھ رہے ہیں،بحیرۂ روم یعنی شام اور لبنان سے لے کر بحیرۂ عرب و ہند تک مسلمان خطوں کو فرقوں میں تقسیم کرکے مشرقِ وسطیٰ کی نئی تقسیم کی جا سکے۔ کیا اس جنگ کا میدان صرف یمن تک محدود رہے گا؟ ہرگز نہیں! اس جنگ کا حتمی میدان یمن سے پھیل کر آلِ سعود کے نام پر قائم ہونے والی سرزمین تک پھیلا دیا جائے گا اور اس کے لیے فرقہ پرستی کے بیج بوئے جا چکے ہیں۔ اس کی فصلیں سعودی عرب اور بحرین تک کاٹی جانے کی منصوبہ بندی طے ہو چکی ہے۔ اس آگ کا ایندھن بننے والے فرقہ پرستی پر قائم نام نہاد مجاہدین تنظیمیں ایندھن کا فریضہ سرانجام دیں گی، جس کی ابتدا افغانستان کے مجاہدین (1979ء) اور بعد میں القاعدہ نے کی تھی۔

اگلی دہائیوں میں بلادِ شام، دجلہ و فرات اور عرب صحراؤں میں امریکی امپیریل ازم، مذہب اور فرقہ پرستی کے تضادات سے کھیلے گا اور خطے میں نیا سیاسی جغرافیہ اُبھرے گا۔ بالکل جیسے پہلی عالمی جنگ کے بعد ان خطوں کو برطانیہ، فرانس اور بعد میں امریکی امپیریلسٹ ریاستوں نے مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم کے منصوبے پر عمل درآمد کیا۔ امریکیوں کے پاس گو طاقتور ترین وار مشینری ہے لیکن امریکی امپیریل ازم کی اس منصوبہ بندی میں سب سے بڑا ہتھیار اس خطے میں بسنے والے مسلمانوں کے فرقہ وارانہ تضادات ہیں، جہاں ہر فرقہ ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے تیار کھڑا ہے، یہی عالمی طاقتوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ یمن اور سعودی عرب میں سجایا جانے والا جنگلی تھیٹر خطے کا نقشہ بدل دے گا اور اس کا پہلا Victim خود سعودی عرب ہو گا اور اس کے بعد دولت کی ریل پیل سے لطف اندوز ہونے والی خلیجی ریاستیں اورپاکستان کو اس جنگ میں اسی طرح استعمال کیا جائے گا، جیسے جنگ عظیم اوّل میں برٹش انڈیا کی فوج کو سلطنت عثمانیہ لپیٹنے کے لیے اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے مخالف قوتوں کے خلاف جنگی محاذوں پر مرمٹنے کے لیے قربانی کے سپاہی کے طور پر استعمال کیا گیا۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند