تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مرگ بر امریکہ اب کہاں؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 18 جمادی الثانی 1436هـ - 8 اپریل 2015م KSA 11:56 - GMT 08:56
مرگ بر امریکہ اب کہاں؟

لوزانے سوءٹزرلینڈ میں کئی ماہ کسفارتی مذاکرات کے بعد پی فائو پلس ون ممالک اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بڑی پذیرائی ہو رہی ہے۔ نہ صرف ریاست پاکستان کے سرکاری ترجمان بلکہ بڑے سیاستدان بھی اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں لیکن جو کچھ طے پایا ہے وہ کوئی معاہدہ نہیں ہے بلکہ ایک معاہدے کی طرف فریم ورک پر اتفاق کا سمجھوتہ ہے۔ الجزیرہ کے مطابق امریکہ ایران اور دوسری عالمی قوتوں کے درمیان جو اتفاق رائے ہوا ہے وہ حتمی اور جامع سمجھوتے کو تین ماہ میں مکمل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ پریس کانفرنس میں یورپی یونین کے امور خارجہ کی نمائندہ فیڈریکا موگرینی کا کہنا ہے کہ ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا جا چکا ہے۔

مذاکرات کے دوران اور سمجھوتےکے بعد اسرائیل کے بنیاد پرست وزیر اعظم نے اس عمل کے خلاف بیان بازی کی جارحانہ مہم جاری رکھی ہے۔ ایران کا علاقائی اثر و رسوخ بڑھنے کے امکانات سے اسرائیل کی عسکری بالادستی کو خطرہ لاحق ہے۔ ایران کی جوہری طاقت اور ایٹم بم بنانے کی صلاحیت کو مبالغہ آرائی سے پیش کر کے اسرائیل کے حکمران مغرب میں اپنی حمایت بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ادھر امریکہ کی سیاسی و ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے ری پبلکن دایاں بازو اسرائیل کی حمایت میں پیش پیش نظر آ رہا ہے/ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے اپنے پاس اس وقت 200 سے زاءد ایٹمی وارہیڈز ہیں۔ سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ کے مطابق آج سے 28
سال قبل ہی اسرائیل ایک ہزارایٹم بموں سےزیادہ تباہی پھیلانے والا ہائیڈروجن بم بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مغربی سامراج کی اسرائیل کو حاصل آشیرباد کی وجہ سے کارپوریٹ میڈیا پر اس عمل کو بڑی حد تک پوشیدہ رکھا گیا۔ اتنے بڑے اور تباہ کن ایٹمی پروگرام پر سامراج کی یہ مجرمانہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ سامراجی قوتوں کے مالی اور سٹریٹیجک مفادات کے سامنے انسانی حقوق سے لے کر عالمی امن تک سب کچح ہیچ ہے۔

بارک اوباما حکومت ایران کے ساتھ معاہدے کیلئے اس لئے زور لگا رہی ہے کہ عالمی سطح پر بالعموم اور مشرق وسطی میں بالخصوص امریکی سامراج کی تمام سفارتی اور عسکری پالیسیاں بری طرھح سے ناکام ہو رہی ہیں۔ شام پر حملے کی تیاری مکمل کر کے بحری بیڑے بھیج دینے کے بعد بالکل آخری وقت پر امریکہ کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ عراق کی صورت حال سب کےسامنے ہے۔ فلسطین اسرائیل مذاکرات ڈرامے کی حد تک بھی امریکی حکمران نہیں کروا پا رہے ہیں۔ اوباما کے اقتدار میں فلسطینیوں کی زندگی اور اسرائیل کی جارحیت بد سے بدتر ہوئی۔ ہر طرف سے نامرادی کا سامنا کرنے کے بعد اپنی ساکھ بچانحے کے لیے اوباما حکومت یہ تاریخی معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

امریکی سامراج کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل کا مذہبی جنونی حکمران دھڑا اس حد تک سرکش ہو چکا ہے کہ امریکی صدر کو چڑانے کیلئے اس کی مرضی اور اجازت کے بغیر ری پبلکن پارٹی کی مدد سے نتین یاہو نے نہ صرف امریکی کانگریس سے خطاب کیا بلکہ اوباما کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ شاید ہی امریکہ کی تاریخ میں اسکے اتحادی اسرائیل کی جانب سے امریکی صدر کی اتنی تذلیل کی گئی ہو۔ یہ سب کچھ اس مہلک بیماری کی سیاسی سفارتی اور عسکری علامات ہیں جو امریکہ کی معیشت کو مفلوج کرتی جا رہی ہے۔ امریکی سامراج کی بے بسی کا فائدہ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ اسکے دوسرے اتحادی بھی اٹھا رہے ہیں۔ عراق اور افغانستان میں شرمناک شکست کے بعد علاقائی طاقتوں کی یہ خودسری خاصی بڑھ چکی ہے۔ روم سے لے کر سلطنت عثمانیہ تک ہر سامراجی طاقت اسی انجام سے دوچار ہوئی ہے۔

دوسری طرف ایران بحی اس متوقع معاہدے کو اپنے داخلی اور خارجی مفادات کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے ایرانی ریاست کے محدود جوہری پروگرام اور اثاثوں کو تحفظ ملے گا۔ اگلے 10-15 سال تک اگرچہ وہ پلوٹونیم یا یورینیم کی افزودگی روکنے کے پابند ہوں گے لیکن بدلے میں جوہری تنصیبات پر حملہ نہ ہونے کی گارنٹی دی جائے گی۔ معاشی پابندیاں اٹھنے سے ایران کے حکمران طبقے کو فائدہ ہوگا جس کے ثمرات غریب ایرانیوں اور محنت کشوں تک پہنچنے کے امکانات کم ہی ہیں۔ نتیجتا طبقاتی تضاد اور بھی شدید ہوگا اور مذہبی اشرافیہ کے خلاف عوام کی نفرت بڑھے گی۔ ایرانی حکمرا خواب دیکھ رہی ہیں کہ اس معاہدے کے ذریعے وہ پہلوی بادشاہت کی طرح خطے پر امریکی تسلط میں حصہ دار بن جائیں گے جوکہ خارج ازامکان نہیں ہے۔

اپنے اقتدار اور ایرانی عوام پر حکمرانی کو جواز فراہم کرنے کے لیے یہ مذہبی اشرافیہ گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل خارجہ دشمن تراشنے اور نئے محاذ کھولنے کی حکمت عملی اپناتی رہی ہے۔ ان جعلی دشمنیوں میں امریکہ مخالفت سب سے اہم تھی اور افغانستان اور عراق میں امریکی سامراج کی در پردہ حمایت کے باوجود مرگ برامریکہ کے نعرے کے ذریعے ایران عوام کو فریب دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ دولت اور طاقت کی ہوس میں امریکہ سے مصالحت کے ذریعے ریاستی جبر کا سب سے بڑا جواز ختم کر کے مذہبی اشرافیہ اپنے پیر پر ہی کلہاڑی مار رہی ہے۔

امریکہ دشمنی سے پسپائی کا ازالہ کرنے کیلئے ایرانی ریاست شیعہ سنی تضاد اور سعودی عرب دشمنی کو ابھارنے کی کوشش کرے گی جس سے خطے کا خلفشار بڑھے گا، پراکسی جنگیں شدت اور وسعت اختیار کریں گی۔

خلیجی حکمران ہوں، شام ہو یا یمن ، اسرائیل کے ساتھ انکے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ خچے میں اس وقت تین بڑے متحارب اتحاد پراکسی جنگوں میں سرگرم ہیں۔ پہلا اتحاد ترکی، قطر اور اخوان المسلمین کاہے جو سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور کویت کے الحاق سے برسر پیکار ہے۔  علاقائی قوت کے طور پر ایران کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے جسکا ایک دوسرے سے برسر پیکار ان دو اتحادیوں سے بالواسطہ ٹکرائو تیزی سے براہ راست جنگ میں تبدیل ہو رہا ہے۔ فرقہ واریت کے نام پر لڑی جانے والی پراکسی جنگوں کی آگ پھیلتی جا رہی ہے۔ عالمی اور علاقائی سامراجی گدھ ان ممالک کو نوچ رہے ہیں۔ تیل اور دوسری معدنیات کی دولت اور اسٹریٹیجکاہمیت کو اس نظام نے خطے کے عوام کیلئے عذاب بنا کے رکھ دیا ہے۔ لیکن مشرق وسطی کو برباد کرنے والے ان حکمرانوں کے خلاف انکے اپنے ممالک میں شدید نفرت موجود ہے اسرائیل میں صہیونی ریاست کے خلاف ایک اور تحریک پک رہی ہے۔ 2011ء کے عرب انقلاب کے دوران پورے خطے میں محنت کشوں اور نوجوانوں کی بغاور اور اس نظام کو جڑ ساکھاڑ دینے کی صلاحیت کا مظاہرہ سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

عالمی سرمایہداری کبحران جوں جوں بڑھے گا، سامراجی قوتوں کے اتحاد بننے اور ٹوٹنے کا عمل اتنا ہی تیز ہوگا۔ مالی مفادات کے لیے حکمرانوں کی وفاداریاں بدلتی رہیں گی۔ یہ حکمران طقے کے مفادات ہیں جن کا عوام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ عوام کے مفادات سے متضاد ہیں۔

صورت حال جتنی تیزی سے بدل رہی ہے اسکے پیش نظر امریکہ ایران معاہدے کی تکمیل سے پہلے ہی ایسے واقعات ہو سکتے ہیں جو ان سامراجی معاہدوں کے پرخچے اڑا دیں۔ ایرانی اشرافیہ کے خلاف 2009ء میں بڑے عوامی مظاہرے ہوئے تھے۔ اسکے بعد بھی مختلف چھوٹی تحریکیں ابھرتی رہی ہیں۔ ایک بڑی عوامی بغاوت کے ابھرنے کے وسیع امکانات اب بھی موجود ہیں جو پوری ریاست کو اکھاڑ سکتی ہے۔ اسی طرح عرب انقلاب کی نئی لہر عرب اور خلیج کے ممالک تک پہنچ سکتی ہے۔ 2011ء کی تحریک زائل ہونے سے جو وحشت مسلط ہوئی ہے اسکا ازالہ ایک اور انقلاب ہی کر سکتا ہے جسےبالشویزم کے نظریات سے لیس کر کے اس نظام زر کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے جو تمام تر بربادی اور خونریزی کی بنیادی وجہ ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند