تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یمن کا مسئلہ اور حرم کا تقدس
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 19 جمادی الثانی 1436هـ - 9 اپریل 2015م KSA 12:06 - GMT 09:06
یمن کا مسئلہ اور حرم کا تقدس

یمن اور سعودی عرب کا حالیہ تنازع حکومت کے لئے ایک آزمائش کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ڈر ہے کہ کہیں حکومت وقت کے لئے ایسی صورتحال نہ پیدا ہو جائے جس میں آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہو۔میاں نوازشریف کے لئے ایک طرف سعودی عرب سے دیرینہ تعلقات آڑے آرہے ہیں تو دوسری طرف پارلیمنٹ کی اکثریتی جماعتوں کا دباؤ بھی ہے۔سعودی عرب نے ماضی سے لے کر آج تک ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی مددکی ہے۔جو ہم پر قرض ہے۔پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جو سعودی عرب کی مدد کرنے پر مخالفت کرے لیکن اس بار مسئلہ کچھ اور ہے۔میاں نوازشریف نہیں بلکہ پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو۔وہ ان حالات میں کسی کی خاطر یمن میں براہ راست لڑنے کے لئے فوج نہیں بھیج سکتی ہے۔مسئلہ صرف یمن کے باغیوں کا ہوتا تو معاملہ کب کا کسی کنارے لگ چکا ہوتا۔

سعودی عرب اور ایران کے دیرینہ تنازعات اس معاملے کی اصل وجہ ہیں۔حکومت اور عسکری حلقوں کو برملا بتایا گیا ہے کہ اگر پاکستان براہ راست یمن جنگ میں کودا تو دو ممالک کی جنگ پورے خطے کی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ایران اس وقت ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔امریکہ جیسی عالمی طاقت کو بھی ایران کی اہمیت کا اندازہ ہے ،اسی لئے حالیہ معاہد ہ وجود میں آیا ہے۔آج کے کالم میں یمن کی صورتحال اور پاکستان کے خطے میں کردار کے حوالے سے چند حقائق قارئین کے گوش گزار کروں گا۔

یمن کا مسئلہ خطے میں دراصل اجارہ داری کی جنگ ہے۔سعودی عرب کا ماننا ہے کہ حوثی باغی ایران کی مدد سے یمن میں صورتحال خراب کرکے سعودی عرب کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے خطے میں اختلافات کی وجہ سے یہ مسئلہ پروان چڑھ رہا ہے ۔ بلکہ ایک برطانوی جریدے نے تو یہاں تک لکھ دیا تھا کہ یمن: سعودی عرب اور ایران کی جنگ کا مرکز تو نہیں؟ بہرحال یہاں تک تو بات درست ہے کہ ایران کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ یمن میں سعودی اجارہ داری قائم ہو اور خلیجی ممالک میں سعودی عرب مزید مضبوطی کی طرف گامزن ہو۔ یمن میں حوثی قبائل کی صدر عبدالربوہ منصورہادی کے مضبوط گڑھ عدن کی جانب پیش قدمی سے معاملے نے شدت اختیار کی تھی۔عدن کے نزدیک بحیرہ احمر کی آبنائے المندب بھی ہے جہاں سے سالانہ بیس ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں۔اس لئے معاملے سے نپٹنے کے لئے سعودی عرب کو میدان میں کودنا پڑا۔سعودی عرب کا اس معاملے میں یہ موقف بھی رہا ہے کہ حوثی زیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے ہیں اور انہیں ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

مگر حکومت کے ساتھ ساتھ سنی قبائل بھی ان کے سخت مخالف ہیں ۔یمن سمیت خطے میں عام رائے ہے کہ حوثی باغیوں کو سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حمایت حاصل ہے ۔ کیونکہ وہ عبدالربوہ منصورہادی کی حکومت جسے اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔سعودی عرب اس سارے معاملے میں ایران پر حوثی باغیوں کی مدد کرنے کا الزام عائد کررہا ہے۔مگر باغی اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق حوثی باغیوں کے اہم رہنماؤں کو ایران کے مقدس شہر قم میں دیکھا گیا ہے۔جبکہ برطانوی جریدوں کی رپورٹ ہے کہ ایرانی پائلٹ یمنی طیارے اڑارہے ہیں۔ایسے میں خلیجی ممالک کے لئے خطے میں صورتحال انتہائی پریشان کن ہے ۔کیونکہ خلیجی حکومتیں سمجھتی ہیں کہ ان کے ہمسائے میں ایران نواز باغیوں کا قبضہ ہونے والا ہے۔سعودی عرب نے 2010ء میں بھی ایک بار حوثیوں پر فضائی بمباری کی تھی۔

ان کی رائے ہے کہ وہ خطے میں کسی کو فرقہ واریت کا بیج نہیں بونے دیں گے۔قارئین کےگوش گزار کرتا چلوں کہ یمن جنگ چھڑنے سے قبل ہی سعودی عرب نے یمن کے ساتھ ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے باڑ لگانا بھی شروع کی تھی اور بحیرہ احمر کی بندر گاہ جزان میں واقع اپنے بحری اڈے کو بھی مضبوط اور فعال بنانے کے لئے کام کرنا شروع کیا ہوا ہے۔جس پر معروف برطانونی جریدہ دی اکانومسٹ مفصل اندازہ میں لکھ چکا ہے۔مگر یہاں پر سعودی عرب سمیت خطے کے تمام ممالک کے لئے چند غور طلب معاملات ہیں۔

امریکہ ہمیشہ سے سعودی عرب کا اہم اتحادی اور دوست ملک رہا ہے۔ مگر جب سعودی عرب پر آزمائشی وقت آیا تو امریکہ نے ایرا ن سے برسوں پرانے اختلافات ختم کرکے ایک تحریری معاہدہ کرلیا۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ خلیجی ملکوں کو بھی اپنے دوستوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ امریکہ کبھی کسی کا دوست نہیں ہے۔ اگر خلیجی ممالک بشمول پاکستان ایک طرف ہوجاتے ہیں اور اس جنگ میں باقاعدہ اتحادی کا کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ایران دوسری طرف کھڑا ہوجاتا ہے تو یہ تنازع سنگین صورتحال کی طرف چلا جائیگا۔ کیونکہ پوری دنیا کے معروف روزنامے لکھ رہے ہیں کہ یمن میں جاری جنگ کو صرف خلیج تعاون کونسل اور ایران کے درمیان جنگ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں ساٹھ کی دہائی کی طرح نہ ہو جب مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے یمن میں جمہوریت پسندوں کی حمایت میں اپنی فضائیہ بھیجی تھی۔ ویسے یمن میں بیرونی مداخلت بہت پرانا معاملہ ہے 1967ء تک عدن اور اس سے ملحقہ صوبوں کا انتظام برطانیہ کے پاس تھا۔ جنوبی یمن پر روس کے حمایت یافتہ کمیونسٹوں کی حکومت تھی ۔ 1994ء کی شمالی اور جنوبی یمن کی خانہ جنگی میں سعودی عرب نے شمالی یمن کا ساتھ دیا تھا۔ لیکن یمن کے حوالے سے اس بار معاملہ سنگین ہے۔ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل نہ کیا گیا تو یہ خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

میری ذاتی رائے میں پاکستان کو ترکی کے ساتھ مل کر سعودی عرب اور یمن کا مسئلہ بات چیت سے حل کرانا چاہئے۔ایران اور سعودی عرب کے اختلافات دور کرانے کے لئے بھی نوازشریف کو کردار ادا کرنا ہوگا۔میاں صاحب کی مسلم لیگ میں ہی ایسے لوگ ہیں جن کی عرب حکومت بھی اتنی ہی عزت کرتی ہے جتناپاکستان کی اپنی حکومت۔ سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ مشترکہ دوست رکن قومی اسمبلی پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم جیسے لوگوں سے مشاورت کرکے ان کی خدمات لینی چاہئیں۔ حافظ عبدالکریم کو سعودی عرب میں نہ صرف عزت دی جاتی ہے بلکہ ان کی رائے کی بھی اہمیت ہے۔ پاکستان کو ایرانی وزیرخارجہ کو سعودی عرب سے بات چیت پر قائل کرنا چاہئے ۔جبکہ ترکی کی اعلیٰ قیادت کو چاہئے کہ سعودی عرب سے ایران کے معاملے پر بات چیت کرے۔ پاکستان اور ترکی مل کر ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کرا کر غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کریں۔

یہی خطے میں امن کا واحد حل ہے اور پاکستان کو اسی مثبت کردار کو فروغ دینا چاہئے۔خلیجی ملکوں کو بھی امریکہ کے حالیہ کردار کے بعد معاملات پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ مسلم ملکوں میں فرقے کا اختلاف تو ہوسکتا ہے مگر ہیں تو سب مسلمان۔ سب کےلئے حرم شریف بہت مقدس ہے ایران سمیت کوئی مسلمان ملک حرم کی حرمت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا ۔حرم کی پاسبانی کے لئے مسلمانوں کو ایک ہونا ہوگا۔وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مسلمان ممالک فرقوں سے بالاتر ہوکر صرف اس بات پر غور کریں کہ ہم سب محمدﷺ کے امتی ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند