تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سری لنکن صدر کا دورئہ پاکستان اور ایٹمی تعاون
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 21 جمادی الثانی 1436هـ - 11 اپریل 2015م KSA 08:57 - GMT 05:57
سری لنکن صدر کا دورئہ پاکستان اور ایٹمی تعاون

سری لنکا کے صدر رواں ہفتے پاکستان کے دورے پر تشریف لائے اور تین روزہ قیام کے بعد اب اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور سری لنکا کی اٹامک انرجی اتھارٹی نے باہمی طور پر دستخط ثبت کیے ہیں۔

صدرِ سری لنکا میتھری پالا سری سینا کو 31 مارچ 2015ء میں دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آنا تھا مگر انھوں نے بوجوہ اسے مؤخر کر دیا۔ جناب سری سینا کا یہ دورہ اس لیے بھی پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل تھا کہ انھوں نے منتخب ہوتے ہی اپنا پہلا دورہ، فروری 2015ء کے وسط میں، بھارت کا کیا تھا۔

وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ان کی ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں ہوئیں۔ اس سے قبل گزشتہ برس، اگست 2014ء میں، سابق صدرِ سری لنکا مہندا پاکسے کو پاکستان آنا تھا لیکن انھوں نے بھی پاکستان کے مخدوش سیاسی حالات کے پیشِ نظر اپنے دورے کو مؤخر کر دیا تھا۔ پچھلے سال ہی چینی صدر نے بھی پاکستان کے دورے پر آنا تھا لیکن عمران خان کی پارٹی کے پیدا کردہ حالات نے انھیں بھی پاکستان میں قدم نہ رکھنے دیا۔

پھر کہا گیا کہ چینی صدر صاحب 23 مارچ 2015ء کے یومِ پاکستان میں شرکت فرمائیں گے لیکن یہ محض افواہ ثابت ہوئی۔ پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ سری لنکا کے عوام کی مدد کی جائے۔ یکم مارچ 2015ء کو انگریزی معاصر نے اسی حوالے سے ایک رپورٹ شایع کی۔ مذکورہ اخبار کی ایک رپورٹر جب سری لنکا کے ایک دیہی علاقے میں سابق سری لنکن صدر مہندا راجہ پاکسے سے ملیں تو انھوں نے انٹرویو کے دوران کہا: ’’پاکستان نے (بھارت کے اعانت یافتہ سری لنکن) تاملوں کی بغاوت اور شورش کو کچلنے میں بہت مدد کی۔

اس حوالے سے ہم خصوصاً جنرل پرویز مشرف کے بہت شکر گزار ہیں۔‘‘ اسی انٹرویو میں راجہ پاکسے نے مزید کہا: ’’دیکھئے یہ امریکا، مغربی ممالک اور یورپ ہمارے دوست نہیں۔ اورپاکستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے، ان کے پیچھے ’’را‘‘ کا ہاتھ ہے۔‘‘ سری لنکا کی ایک نہایت ذمے دار شخصیت، جو صدارت کے عہدے پر بھی فائز رہی، کی طرف سے ’’را‘‘ کی فساد انگیزیوں اور شیطانیوں کی جانب انگشت نمائی ایک چشم کشا واقعہ ہے۔

3 مارچ 2009ء کو لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر تقریباً ایک درجن مسلح دہشت گردوں نے قاتلانہ حملہ کیا لیکن خدا کا شکر ہے کہ اس میں کسی سری لنکن کھلاڑی کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

اس حملے کی ذمے داری طالبان نے قبول کی تھی لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ طالبان کی پشت پر بھارتی ’’را‘‘ تھی تا کہ پاکستان کو اتنا بدنام اور غیر محفوظ ثابت کر دیا جائے کہ آیندہ کوئی بھی عالمی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ نہ کر سکے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے 6 سال سے کوئی بھی غیر ملکی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ نہ کر سکی۔ اور یہ بھارت ہی تھا جس نے اکیس اپریل 1987ء کو سری لنکن دارالحکومت، کولمبو، میں آئی نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پر اس وقت حملہ کرایا تھا جب میچ کا آغاز ہونے والا تھا۔ اس حملے میں درجنوں بے گناہ تماشائی ہلاک ہو گئے تھے۔

تامل باغیوں کے ذریعے یہ خود کش حملہ کیا گیا تھا کیونکہ سری لنکا میں صدر جے وردھنے کی حکومت نے بھارتی اشاروں پر ناچنے سے انکار کر دیا تھا لیکن بھارت اب بھی سری لنکا سے لِپٹا ہوا ہے۔ چند ماہ قبل سری لنکا میں صدارتی انتخابات کے آخری دنوں میں سری لنکا نے اپنے دارالحکومت میں بھارتی سفارتخانے میں تعینات ’’را‘‘ کے سینئر خفیہ کارندوں کو ملک سے نکال دیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مہندا راجہ پاکسے کی انتخابی شکست میں ’’را‘‘ نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔

بھارت دراصل چین کے خوف کے پیشِ نظر بھی سری لنکا کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے سری لنکا میں فوجی آپریشنوں کے دوران متاثرہ تاملوں کو 24 ہزار نئے مکانات تعمیر کر کے دیے ہیں۔ مارچ 2015ء کے وسط میں جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سری لنکا کا سرکاری دورہ کیا تو انھوں نے ’’جافنا‘‘ جا کر انھی متاثرہ تاملوں کے ہاتھ میں 24 ہزار نئے مکانوں کی چابیاں تھمائیں۔ گویا بھارت نے اپنے تئیں تالیفِ قلب کے لیے ایک سعی کی ہے۔

یہ واقعہ ہے کہ سری لنکا میں بار بار کی بھارتی مداخلتوں نے سری لنکن عوام اور سری لنکا کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان نے بھی سری لنکا کے آئی ڈی پیز کے مکانات کی تعمیر کے لیے دس لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔

کیا اسے ہماری بد قسمتی نہیں کہنا چاہیے کہ سری لنکا میں تعینات پاکستان کے ایک سابق ہائی کمشنر کے بعض ’’کارناموں‘‘ کی وجہ سے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تعلقات کو زک پہنچی تھی؟ جنرل پرویز مشرف کے دور میں، بڑی محنت کے بعد، سری لنکا اور پاکستان کے باہمی تعلقات پھر سے گہرے اور مضبوط ہوئے تھے لیکن بعد میں آنے ولے ہمارے حکمران اسے سنبھال نہ سکے۔

اس دوران آگے بڑھ کر، بھارت اندر ہی اندر، سری لنکا میں اپنے پاؤں جماتا رہا۔ بھارت کے سابق وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ نے اپنی سوانح حیات One life is not Enough میں واضح الفاظ میں بتایا ہے کہ بھارت اور اس کے خفیہ اداروں نے سری لنکا میں کیسے دور تک پاؤں پھیلائے۔

یہاں تک کہ سری لنکا کا سب سے بڑا باغی اور غدار (پربھاکرن) بھی بھارتی صوبے تامل ناڈو کے وزیراعلیٰ کے گھر میں پناہ گزین رہا اور وہ اسے خفیہ فنڈز سے کروڑوں روپے بھی فراہم کرتا رہا۔ ان حالات میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور ہمارے حکمرانوں کو بھی، ملک کے وسیع تر مفاد میں، سری لنکا کو اپنے ساتھ ملانے اور اسے ممکنہ تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کرتے رہنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر ہمیں ہر جگہ بھارتی گھیراؤ اور بھارت کے کھینچے گئے حصار کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت زور لگانا پڑیگا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند