تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
غیر ملکی لابیاں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 22 جمادی الثانی 1436هـ - 12 اپریل 2015م KSA 10:52 - GMT 07:52
غیر ملکی لابیاں

تاریخ وسیاست اور بین الاقوامی روابط کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے سوا دنیا کا کوئی ملک نہ اس قدر بیرونی طاقتوں کی جولان گاہ رہا ہے اور نہ ہی کبھی اتنی پراکسی جنگوں میں ملوث رہا ہے۔ پراکسی وار یعنی پرائی جنگوں کے نتیجے کے طور پر پاکستان میں جتنی غیر ملکی لابیاں معرض وجود میں آ چکی ہیں اور وہ جس طرح زور آزمائی کرتی ہیں اس کی بھی دنیا کے دوسرے ممالک میں مثال نہیں ملتی۔

بیرونی قوتوں کی لابیاں کچھ دوسرے ممالک میں بھی موجود ہیں لیکن انہیں یوں کھل کر کھیلنے کی اجازت نہیں ملتی اورنہ ہی فیصلہ سازی کے عمل کو اس قدر متاثر کرتی ہیں جس طرح پاکستان میں ہوتا ہے۔ یہ موضوع کتاب کا ہے اسے کالم میں سمویا نہیں جا سکتا لیکن یہ حقیقت ذہن میں رکھیں کہ اس صور ت حال کی بنیادی وجہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور اہمیت ہے اور دوسری بڑی وجہ ہمارے حکمرانوں کی کاسہ لیسی اور غیروں پر انحصار ہے۔

یہ سلسلہ 1951-52ء میں شروع ہوا تھا جس کے سبب پاکستان سیٹو نیٹو میں شامل ہو کر روس جیسی خطرناک سپر پاور کا حریف بن گیا اور پھر وہ مشہور واقعہ ہوا کہ روس نے پشاور کے قریب بڈھ بیر ہوائی بیس سے اڑنے والے خفیہ امریکہ طیارہ یوٹو مار گرایا اور روسی وزیر اعظم آنجہانی خروشیف نے اقوام متحدہ میں میز پر اپنا جوتا مارتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان کے اردگرد سرخ دائرہ لگا دیا گیا ہے۔ جہاں پاکستان عالمی قوتوں کی سازشوں، حریفانہ چالوں اور عالمی گروہ بندی کا شکار رہا وہاں پاکستان کےاندر بھی امریکی، روسی اور ہندوستانی لابیاں نہ صرف پروان چڑھتی رہیں بلکہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئیں۔ اسرائیل نے بھی جگہ بنانے کی کوشش کی، اپنے ایجنٹ بھی ڈھونڈھے لیکن ناکام ہو کر امریکی دامن میں پناہ لے لی۔

کئی دہائیوں تک امریکی لابی کھل کھیلتی رہی، روسی لابی زیر عتاب اور خفیہ ایجنسیوں کا پسندیدہ شکار رہی اور ہندوستانی لابی بین بین راستہ بناتی رہی۔ یو ایس ایس آر (USSR) کے ٹوٹنے کے بعد امریکی اور ہندوستانی لابیاں متحرک اور دلیر (Vocal) ہوتی چلی گئیں۔ اب تو نوبت ایں جا رسید کہ میاں محمد نواز شریف جیسا نظریاتی، پیدائشی اور ذہنی پاکستانی لیڈر بھی سیفما کے اجلاس میں پوچھتا اور کہتا ہے کہ ہم اور ہندوستانی ایک ہی خوراک کھاتے، ایک ہی طرح لگتے اور رہتے ہیں تو پھر درمیان میں یہ لکیر کیسی۔ یہ وزیر اعظم بننے سے پہلے کی باتیں ہیں لیکن وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے ہندوستان کی قربت حاصل کرنے کیلئے جو پاپڑ بیلے اس سے اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کے اندر موجود ہندوستانی لابی کے زیر اثر ہیں۔ بہرحال کچھ تلخ تجربات کے بعد اب وہ سنبھل گئے ہیں۔ اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان سے دوستانہ تعلقات قائم نہ کیے جائیں۔ کہنے کا مطلب فقط یہ ہے کہ قومی وقار کو ہر حال میں ترجیح دی جائے اور تاریخ کے شعور کو مشعل راہ بنایا جائے۔

بات قدرے دور نکل گئی۔ کہنا میں یہ چاہتا تھا کہ پاکستان میں جتنی سیاسی اور مذہبی غیر ملکی لابیاں موجود ہیں اور وہ جس طرح اثر انداز ہوتی ہیں اس کی مثال دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملتی۔ بین الاقوامی سیاست کے شاخسانے کے ساتھ ساتھ مذہبی حوالے سے بھی پاکستان میں طاقتور لابیاں پائی جاتی ہیں جو کبھی کبھی پراکسی وار کا نتیجہ بھی بنتی ہیں اور خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔

گلف وار اپنے عروج پر تھی۔ امریکی صدر بش سینئر عراق اور بغداد پر ہوائی حملوں کے ذریعے ٹنوں کے حساب سے بارود برسا رہا تھا اور صدام حسین کو اقتدار سے محروم کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا۔ ان دنوں صدام حسین کی حمایتی لابی پاکستان میں نہ صرف جلوس نکال رہی تھی بلکہ امریکا کے خلاف مزاحمت کے نام پر گلیوں اور شاہراہوں پر صدام حسین کی تصویریں بھی سجا رہی تھی۔ صدام حسین خود پاکستان، سعودی عرب اور عالم اسلام کا کتنا بڑا دوست تھا اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔ صدام حسین غائب ہوا تو یہ لابی بھی غائب ہو گئی اور اس کے کچھ سرکردہ مذہبی راہنما دوسرے اسلامی ممالک کی لابیوں میں گھس گئے۔

گلف وار کے دوران وزیر اعظم نواز شریف کچھ اسلامی ممالک کے دورے پر گئے جن میں شام، لیبیا، تیونس اور الجیریا شامل تھے۔ اتفاق سے میں بھی سرکاری وفد میں شامل تھا۔ ہم لیبیا پہنچے تو صدر قذافی سے ملاقات کرنے میں خاصی دقت ہوئی لیکن بالآخر جب وزیر اعظم پاکستان صدر قذافی سے ایک ریگستانی خوبصورت خیمے میں ملے تو ان کی ملاقات جلد ہی خوشگوار روپ دھار گئی۔ وزیر اعظم پاکستان ملاقات کے بعد رخصت ہونے لگے تو صدر قذافی مرحوم نے ان پر اظہار شفقت فرماتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کچھ مذہبی شخصیات کا ان سے گہرا رابطہ ہے۔ اگر وہ کسی وقت آپ کیلئے مشکل کا باعث بنیں تو مجھے بتایئے گا میں ان کی کہنی مروڑوں گا۔ انہوں نے کچھ اسمائے گرامی بھی لیے اور یہ عندیہ بھی دیا کہ انہیں لیبیا سے مالی امداد ملتی ہے۔

یہ سن کر میں گہری سوچ میں ڈوب گیا اور میری تصوراتی نگاہوں کے سامنے دوسری بڑی اسلامی قوتوں کی لابیوں کے متحرک اراکین کے چہرے ابھرنے اور گھومنے لگے جن میں قابل ذکر ہیں سعودی لابی، ایرانی لابی اور ماضی کی عراقی لابی۔ ان کے سخت گیر حکمران اپنے ملک کے اندر تو پاکستانی لابی کو سر اٹھانے نہیں دیتے لیکن دوسرے ممالک میں اپنی لابیوں کو مالی امداد دینا اور انہیں متحرک اور موثر بنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ان کی بادشاہت اور ہماری جمہوریت ہے۔ یہ الگ بات کہ یہ ممالک پاکستان کے دوست رہے ہیں اور دوست ہیں لیکن اپنے اپنے مفادات اور بعض اوقات حریف سے طبع آزمائی کیلئے ان لابیوں کی سرپرستی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہماری حب وطن مذہبی شخصیات کو استعمال کرتے ہیں۔ افغان وار کا ذکر کیا کرنا پاکستان میں کبھی کبھار مذہبی فرقہ وارانہ قتل و غارت بھی اسی سیاست کا شاخسانہ ہوتا ہے۔

کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ قذافی کے لیبیا نے ایٹمی پروگرام کی کامیابی کیلئے پاکستان کی بہت مدد کی اور امریکی دبائو بھی برداشت کیا۔ جب ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی چڑھانے کا ساز وسامان ترتیب دیا تو ضیاء الحق پر سب سے زیادہ دبائو قذافی نے ڈالا اور مرحوم قذافی آخری وقت تک بھٹو کو بچانے کی ترکیبیں سوچتا رہا۔ سعودی عرب نے بھی اپنے طور پر بھرپور کوششیں کیں کیونکہ سعودی عرب پاکستان کا خیر خواہ اور مخلص دوست ہے لیکن ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں کیونکہ ان کو ایک ’’مرد حق مرد مومن سے‘‘ پالا پڑا تھا لیکن جب جنرل پرویز مشرف نے وہی ڈرامہ میاں نوازشریف کے ساتھ رچایا اور طیارہ کیس میں سزائے موت کا اعلان کر دیا تو مشرف پر سعودی دبائو کارگر ثابت ہوا۔

سکندر مرزا کی جلا وطنی کی مثال موجود تھی لیکن لیبیا، یو اے ای اور سعودی عرب کی مخلصانہ مساعی بھٹو کو جلا وطن نہ کروا سکی جبکہ میاں صاحب کو سعودی دبائو جلاوطن کروانے میں کامیاب ہو گیا۔ سندھ اور پنجاب کے وزیر اعظم کی مثالیں دے کر صوبائیت کا زہر پھیلانے والے اور سندھی ووٹر کو ’’پکا‘‘ کرنے والے شاید مقدر سے واقف نہیں یا مقدر کے منکر ہیں جبکہ اصل بات یہ ہے کہ اپنا اپنا مقدر ہوتاہے اور زندگی وموت کے آسمانی فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ بھٹو کی پھانسی پر میں بھی رویا تھا لیکن ہم جیسے مسکینوں کے آنسو کسی کا مقدر نہیں بدل سکتے۔

مختصر یہ کہ نئے عالمی تناظر میں ایک بار پھر پاکستان میں کچھ لابیاں اور کچھ مذہبی گروہ متحرک ہو چکے ہیں۔ آپ عاقل و بالغ ہیں۔ ان پر نگاہ رکھیں اوران کی سرگرمیوں کو سمجھنے کی کوششیں کریں۔

----------------------

نوٹ: 'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند