تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حوثیوں کو روکا جانا چاہیے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 23 جمادی الثانی 1436هـ - 13 اپریل 2015م KSA 22:08 - GMT 19:08
حوثیوں کو روکا جانا چاہیے!

میرا وطن یمن اس وقت ریڈیکل حوثی ملیشیا فورسز کے نرغے میں ہیں۔ انھیں دہشت اور تباہی کی مہم کے لیے ایرانی رجیم کی سیاسی اور عسکری حمایت حاصل ہے اور یہ ایرانی رجیم خطے میں اپنی بالادستی چاہتا ہے۔ اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ یمن میں افراتفری ایران کی اقتدار کے لیے ہوس اور پورے خطے کو کنٹرول کرنے کے لیے خواہش کا نتیجہ ہے۔

حوثیوں کے یمنی عوام اور میری آئین کی رو سے جائز حکومت کے خلاف جارحانہ حملوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ یمن کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت پر بھی حملہ ہے۔ حوثی باغی ایرانی حکومت کے آلہ کار ہیں اور ایران کی حکومت کو عام یمنیوں کی قسمت سے کوئی سروکار نہیں۔ اس کو صرف خطے میں اپنی بالادستی سے مطلب ہے۔ میں تمام یمنیوں کی جانب سے طوائف الملوکی اور افراتفری کے علمبرداروں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور دوسروں کی خواہشات پر چلنے سے باز آ جائیں۔

میری قوم کی تخریب اور تباہی کا سلسلہ فی الفور بند کر دیا جائے۔ اس میں کوئی تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔ حوثی مذاکرات کی میز پر آئیں اور وہ میدان جنگ میں اپنے ہم وطنوں کو دہشت زدہ نہ کریں۔ ایک محفوظ اور مستحکم یمن کا قیام ان کی خواہش ہونی چاہیے۔ یمنیوں کو آئین سے جڑے رہنے سے روکا نہیں جانا چاہیے۔ قومی مذاکرات کے نتیجے میں انتقال اقتدار کے عمل اور معرض وجود میں آنے والی پارلیمان سے انحراف نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس پارلیمان میں شمال اور جنوب کی بالکل منصفانہ نمائندگی موجود ہے۔ اس کے علاوہ خلیج تعاون کونسل کے اقدام کے تحت سیاسی انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہونا چاہیے کیونکہ اقوام متحدہ نے بھی اس اقدام کی توثیق کی تھی۔

لیکن حوثیوں اور ان کے سرپرست یمن کے دھتکارے ہوئے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے اس نقشہ راہ (روڈ میپ) پر عمل پیرا ہونے سے ہی انکار کر دیا ہے جس سے انھوں نے ماضی میں اتفاق کیا تھا۔ مسٹر صالح کو یمن میں طوائف الملوکی کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے اور بلاجواز خونریزی کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

سعودی عرب کی قیادت میں ''آپریشن فیصلہ کن طوفان'' میری حکومت کی درخواست پر اور یمن کی امداد کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اگر حوثی شہروں کو خالی نہیں کرتے اور اپنی ملیشیا کو غیر مسلح کر کے سیاسی مذاکرات کے عمل میں دوبارہ شریک نہیں ہوتے تو ہم اتحاد سے کہیں گے کہ وہ ان کے خلاف اس فوجی مہم کو جاری رکھے۔
تباہی کے کنارے

دو ہفتے قبل یمن تباہی کے کنارے کھڑا تھا۔ عربوں اور بین الاقوامی بے مثال حمایت کے نتیجے میں ہم تباہی سے بال بال بچے ہیں۔ وہ بالکل واضح پیغام دے رہے ہیں:''ایران خطے کے دوسرے ممالک کی سالمیت اور سکیورٹی کی قیمت پر اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا سکتا''۔

ہمارے ہمسایہ ممالک جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ اس کے بارے میں بالکل واضح ہیں:''ہمارے پڑوس میں ایک مکان جل رہا ہے، اس آگ پر سب سے پہلے قابو پایا جانا چاہیے اور اس کے بعد پورے خطے کو راکھ کا ڈھیر بننے سے بچایا جانا چاہیے''۔

ہمیں میدان جنگ میں اب مسلسل بین الاقوامی حمایت کی ضرورت ہے اور لڑائی کے خاتمے کے بعد ہمیں اپنے سول اداروں کے لیے امداد درکار ہو گی تاکہ میری حکومت قیادت کے لیے دارالحکومت صنعا میں واپس آ سکے۔

آبنائے باب المنداب کے دوسرے کنارے ایک مخالف حکومت قوموں کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ اہم آبی تجارتی گذرگاہ نہر سویز کی جانب جاتی ہے۔ اگر حوثیوں کو روکا نہیں جاتا ہے تو وہ ایران کی پشتی بانی میں ایک اور حزب اللہ بننے جارہے ہیں اور وہ اس خطے اور اس سے ماورا علاقوں کے لوگوں کو ڈرائیں دھمکائیں گے۔ بحیرہ احمر سے گذرنے والے تیل کے ٹینکر خطرات سے دوچار ہوں گے اور القاعدہ اور دوسرے ریڈیکل گروپ فروغ پاتے رہیں گے۔

---------------------------
(عبد ربہ منصور ہادی فروری 2012ء سے یمن کے صدر چلے آ رہے ہیں۔ قبل ازیں وہ 1994ء سے 2012ء تک یمن کے نائب صدر رہے تھے۔ یہ مضمون نیویارک ٹائمز میں 12 اپریل کو شائع ہوا تھا۔ یمنی صدر نے اس میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو/العربیہ نیوز کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند