تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وزیر اعظم، آرمی چیف سعودی عرب جائیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 16 ربیع الثانی 1441هـ - 14 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 23 جمادی الثانی 1436هـ - 13 اپریل 2015م KSA 10:39 - GMT 07:39
وزیر اعظم، آرمی چیف سعودی عرب جائیں

احتیاط بلکہ انتہائی احتیاط کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ پاکستانی قیادت کو معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے۔کسی صورت میں بھی پاک سعودی تعلقات نہیں بگڑنے چاہییں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد میں اُن نزاکتوں اور احتیاطوں کا خیال رکھا جاتاجس کی بنا پر پاکستان کے فارن آفس نے ایک محتاط قرارداد کا ڈرافٹ تیار کیا لیکن اُس میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کر دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے ضد کر کے قرارداد میں نہ صرف پاکستان کا اس سارے معاملہ میں”Neutrality” کا لفظ ڈلوایا بلکہ یہ بیان بھی ڈرافٹ سے نکلوا دیا کہ پاکستان یمنی باغی حوثیوں کی شدت پسندی کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی سمجھتا ہے۔ معاملات کی سنگینی کو سمجھے بغیر تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اگر اُن کی طرف سے تجویز کی گئی ترامیم کو قرارداد میں شامل نہ کیا گیا تو وہ پارلیمنٹ سے واک آوٹ کر جائیں گے۔

حکومت کی عقل و دانش کا حال دیکھیں کہ انہوں نے متفقہ قرارداد کے چکر میں ایسی قرارداد پاس کروا دی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہی کشیدہ ہو گئے۔ اگر ہم سعودی عرب کی اُس طرح مدد نہیں کر سکتے جس کی وہ ہم سے توقع رکھتا ہے تا ہم کم از کم ہمیں ایسے behave نہیں کرنا چاہیے جس سے سعودی عرب کا دل ہی ہم سے کھٹا ہو جائے۔ ہم نے امریکی ڈالروں کے لیے تو سب کچھ کیا، اپنے آپ کو تباہ و برباد کر دیا مگر جب سعودی عرب کو یمن میں ایرانی حمایت یافتہ باغیوں سے اپنی سلامتی کے متعلق شدیدخطرات لاحق ہیں تو ہم کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس معاملہ میں نیوٹرل ہیں۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت تو پہلے ہی سعودی عرب کی یمن پالیسی کی حمایت کر چکے ہیں۔ اب ہم کس منہ سے یمنی باغیوں اور سعودی عرب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی بات کر رہے ہیں۔ ایک شرارتی طبقہ جو ہمیں ہر حال میں سعودی عرب سے دور کرنا چاہتا ہے، وہ پاکستان میں اس معاملہ کو سعودی عرب اور یمن کے درمیان لڑائی کے طور پر کیوں پیش کر رہا ہے۔ حالاں کہ سعودی عرب یمن کی قانونی حکومت کی درخواست پر ایسے باغی طبقہ سے لڑ رہی ہے جن کے ہاتھ میں بندوق ہے اور جو گولی کے زور پر حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

ایسے میں پاکستان اگر سعودی عرب کی مدد نہیں کر سکتا تو کیا یہ زیادتی نہیں کہ ہم نیوٹرل پوزیشن لینے کی بات کریں۔ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان کے علیحدگی پسند اگر بندوق کے زور پر حکومت پر قبضہ کی کوشش کریں اور اُس صورت حال میں ہم اپنے کسی دوست مسلمان ملک سے حمایت کی درخواست کریں تو ہمیں کوئی neutrality کا سبق پڑھائے تو ہمیں کیسا محسوس ہو گا۔ افسوس کا مقام یہ بھی ہے ہم سعودی ایکشن پر تو معترض ہیں مگر کوئی ایران کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف اُس کے بارڈر کے پار یمن میں آگ پھیلانے کے کھیل پر کھل کر بات کیوں نہیں کرتا۔ ایران کو ناراض نہیں کرنا مگر سعودی عرب کے خلاف جو دل میں آئے بکتے جانا ہے۔عمران خان صاحب کا حال دیکھیں کہ وہ امریکا کی جنگ کا سعودی عرب کا یمنی باغیوں کے خلاف ایکشن سے موازنہ پیش کر رہے ہیں جیسے دونوں میں کوئی فرق ہی نہیں۔ اگر خان صاحب فوج کو یمن میں بھیجنے کے مخالف ہیں جس کے بارے میں اکثریت کی یہاں یہی رائے ہے تو ایسی بات تو نہ کریں کہ جیسے کوشش کی جا رہی ہو کہ سعودی ہم سے چڑ جائیں۔سعودی عرب نے پاکستان کے لیے وہ کچھ کیا جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور جس کا کسی دوسرے ملک سے تقابل نہیں۔

جیسے کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ حرمین شریفین ہم دونوں ملکوں کو جوڑنے کابنیادی سبب ہے لیکن اس کے علاوہ بھی سعودی حکمرانوں نے پاکستان پر بغیر کسی لالچ کے بے پناہ احسانات کیے۔اب جب اُن کو ہماری ضرورت محسوس ہوئی تو بجائے اس کے کہ ہم ان سے ہمددری کریں، اُن کے مسئلہ کو سمجھیں اور جس حد تک ممکن ہو ان کی مدد کریں، ہم ان سے اس لہجہ میں بات کر رہے ہیں جیسے کوئی جان پہچان ہی نہیں۔ ہماری حکومت اور پارلیمنٹ سب نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں مگرعملی طور پر ابھی ہم نے کچھ نہیں کیا۔ یمن میں فوج بھیجنے میں احتیاط لازم ہے مگر ہمیں سعودی عرب کو جلد از جلد جو ممکن ہو پیش کرنا چاہیے۔ اس پیشکش میں انٹیلیجنس کی مدد، جنگی سازو سامان کی فراہمی، پاک فوج کی جنگی مہارت اور حکمت عملی سے متعلقہ تعاون اور دوسری ہر ممکنہ مدد شامل ہو سکتی ہے۔ مناسب ہو گا کہ وزیر اعظم نواز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد جس میں آرمی چیف بھی شامل ہوں، کے ساتھ فوری سعودی عرب کا دورہ کر کے ایسے معاملات کو فوری طے کریں۔ جہاں تک عرب امارات کے ڈپٹی وزیر خارجہ کے پاکستان کے خلاف انتہائی سخت بیان کا تعلق ہے، پاکستان کے لیے بہتر ہو گا کہ اُسے عوامی سطح پر ignore کیا جائے۔

پاکستان اور عرب دنیا کے درمیان اختلافات اور غلط فہمیوں کو بڑھانے کی بجائے انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے درمیان کوئی بدگمانی جگہ نہ لے سکے۔ ہمیں ایسی طاقتوں اور طبقات سے بھی باخبر رہنا ہو گا جو ہمارے اور عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تعلقات میں خرابی کے خواہاں ہیں۔ اس سلسلے میں میڈیا کو بھی مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند