تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یمن تنازع۔ پاکستان کی سفارتکاری کا امتحان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 20 ذوالحجہ 1440هـ - 22 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 25 جمادی الثانی 1436هـ - 15 اپریل 2015م KSA 08:43 - GMT 05:43
یمن تنازع۔ پاکستان کی سفارتکاری کا امتحان

یمن تنازع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کی جانے والی متفقہ قرارداد اور خلیجی ملک کے وزیر خارجہ کے جارحانہ بیان نے صورتحال کو گمبھیر بنادیا ہے جسے مزید خراب ہونے سے بچانے کیلئے گزشتہ دنوں سعودی وزیر مذہبی امور ہنگامی دورے پر پاکستان پہنچے جنہوں نے پارلیمنٹ کی قرارداد کو پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ مشکل وقت میں پاکستان، سعودی عرب کا ساتھ دے گا جس کے بعد وزیراعظم نواز شریف کو بھی یہ واضح موقف اختیار کرنا پڑا کہ خلیجی ممالک پارلیمنٹ کی قرارداد کو سمجھ نہ سکے، سعودی عرب اسٹریٹجک اتحادی ہے جس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر چلیں گے اور پاکستان اپنے دوستوں اور اسٹریٹجک پارٹنرز کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

یمن تنازع پر پارلیمنٹ کا غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ یقینا آسان فیصلہ نہ تھا کیونکہ فوج بھیجنے کی درخواست ایسے ملک کی جانب سے کی گئی تھی جس کے پاکستان پر بے شمار احسانات ہیں۔ ہم وہ دن کبھی نہیں بھول سکتے جب 1998ء میں ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی گئی تھیں اور ایسی مشکل صورتحال میں سعودی عرب وہ واحد ملک تھا جس نے عالمی پابندیوں کے باوجود پاکستان کی ہر طرح سے مدد کی تھی۔ اسی طرح کچھ ماہ قبل جب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر آگئے تھے، سعودی عرب نے کسی شرائط کے بغیر پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی گرانٹ دی جبکہ سعودی عرب و خلیجی ممالک میں 30 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق حکومت نے پارلیمنٹ میں یمن تنازع کو غیر سنجیدہ طریقے سے ہینڈل کیا اور تنازع پر پاکستان کے غیر جانبدار رہنے کی غلط طریقے سے تشریح کی گئی، اگر قرارداد میں یہ واضح کر دیا جاتا کہ پاکستان کے غیر جانبدار رہنے کا تعلق یمن یا سعودی عرب سے ہے تو یہ ابہام نہ پیدا ہوتا اور نہ ہی وزیراعظم کو مذکورہ بیان دینے کی ضرورت پیش آتی۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل حکومت نے وزیر دفاع کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد جس میں چیف آف جنرل اسٹاف سمیت مسلح افواج کے سینئر نمائندے بھی شامل تھے، کو سعودی عرب بھیجا جس سے یہ تاثر ابھرا کہ پاکستان، سعودی عرب کے دفاع کیلئے پرعزم ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کے پہلے دن وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کو صرف یہ بتایا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے فوج، لڑاکا طیارے اور بحری جہاز مانگے ہیں جس کی انہوں نے کوئی تفصیلات پیش نہیں کیں کہ آیا برادر ملک کو پاکستانی افو اج اپنے دفاع کیلئے چاہئے یا حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کیلئے جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے بھی پارلیمنٹ میں اپنی مختصر تقریر میں یمن تنازع پر کوئی وضاحت پیش نہیں کی اور پارلیمنٹ میں جو تقریریں ہوئیں، وہ بھی سطحی معاملات کی تھیں۔

وزیر دفاع نے سعودی درخواست کو پارلیمنٹ میں جس انداز میں پیش کیا، اس سے یہ تاثر ابھرا کہ سعودی عرب، پاکستان کے دفاعی سازو سامان کا محتاج ہے حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ سعودی عرب کے پاس پاکستان سے زیادہ دفاعی سازو سامان موجود ہیں اور سعودی عرب گزشتہ سال 6 ارب ڈالر سے زائد کا اسلحہ خرید کر اسلحہ خریدنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سعودی درخواست پر پارلیمنٹ میں مختلف جماعتوں کے اراکین کا سخت ردعمل دیکھنے میں آیا جس سے سعودی عرب میں یہ تاثر ابھرا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں (ن) لیگ ہی وہ واحد جماعت ہے جو سعودی عرب کی حمایتی ہے جبکہ دیگر جماعتیں مخالف ہیں۔ شاید حکومت سعودی عرب کو یہی پیغام دینا چاہتی تھی کہ وہ سعودی عرب کی مدد کیلئے تیار ہے مگر دیگر جماعتیں راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں ۔ واضح ہو کہ سعودی عرب میں پہلے ہی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی حکومت ایران اور (ن) لیگ حکومت سعودی نواز ہے۔

قرارداد کی منظوری کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ برادر ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی مشکلات کو سمجھا جائےگا مگر دوست ممالک کیلئے یہ قرارداد غیر متوقع تھی جس سے انہیں شدید مایوسی ہوئی اور خلیجی ملک کے وزیر خارجہ کا یہ سخت بیان سامنے آیا کہ ’’یمن تنازع پر پاکستان و ترکی کا جھکائو ایران کی جانب ہے اور پاکستان کو یمن تنازع پر متضاد و مبہم رائے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘‘ خلیجی ملک کے وزیر کے مذکورہ بیان پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے خاموشی اختیار کئے رکھی تاہم چوہدری نثار وہ واحد حکومتی وزیر تھے جنہوں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بیان کو پاکستان کی توہین اور عوام کی عزت نفس کی ہتک کے مترادف قرار دیا۔ بیان پر پاکستان کے عوام میں بھی ردعمل دیکھنے میں آیا جن کی بے شمار ای میلز اور ٹیلیفون کالز مجھے موصول ہوئیں۔ ایک ای میل میں تحریر تھا کہ ’’پاکستان 180 ملین افراد کا نیوکلیئر ملک ہے جس کے عوام کسی ملک کے وزیر کی دھمکی سے مرعوب ہونے والے نہیں۔

ای میل میں مزید تحریر تھا کہ مڈل ایسٹ کی ریاستوں کی ترقی میں پاکستان کے محنت کشوں کا خون پسینہ شامل ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہےکہ وہ ان پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے کی دھمکی دے کر پاکستانی عوام کو مرعوب کرلیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے کیونکہ پاکستان کے محنت کش خالی پیٹ بھی اپنا سینہ تان کر عزت سے جینا جانتے ہیں، ان دھمکیوں سے وہ پاکستانی سیاستدان مرعوب ہوں گے جنہیں یہ ڈر ہے کہ کہیں ان کی کرپشن سے حاصل کی گئی دولت جو ان ریاستوںکے بینکوں میں موجود ہے اور رئیل اسٹیٹ میں کی گئی سرمایہ کاری ان کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ واضح ہو کہ پاکستانی امراء اور سیاستدانوں نےایک خلیجی ملک کے رئیل اسٹیٹ میں 20 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور یہ پاکستانی گزشتہ سال خلیجی ملک میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے دوسرے نمبر پر رہے تھے جس پر میں گزشتہ ماہ کالم بھی تحریر کرچکا ہوں۔

یمن تنازع پر ثالثی کیلئے وزیراعظم پاکستان کے دورہ ترکی اور ترک صدر کے دورہ ایران کے بعد گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ پاکستان تشریف لائے جنہوں نے یمن میں جنگ بندی پر زور دیا لیکن ہمارا برادر ملک ایسا کرنے پر راضی نہیں کیونکہ یمن کے صدر منصور الہادی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے حوثی باغیوں جنہیں ایران کی پشت پناہی حاصل ہے اور ایران انہیں روزانہ 3 بحری جہازوں کے ذریعے اسلحہ فراہم کررہا ہے، کو وہ یمن پر برسراقتدار نہیں دیکھنا چاہتا، اگرایسا ہوا تو یمن میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا جس سے سعودی عرب کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے۔ سعودی عرب نے مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ یمن تنازع پر بحث کیلئے زیادہ اچھا ہوتا کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلاکر متفقہ قرارداد منظور کی جاتی تاکہ اراکین پارلیمنٹ کی تقاریر سے دوست ملک کی دل آزاری نہ ہوتی تاہم موجودہ صورتحال میں اچھی سفارتکاری یہ ہے کہ سعودی عرب کی توقعات بھی پوری ہوجائیں اور پاکستان، یمن تنازع پر غیر جانبدار بھی رہے جو سفارتکاری کا اصل امتحان ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ یہ باور کرائے کہ پاکستان نے تاریخی طور پر ہمیشہ خود کو امت مسلمہ کے تنازع سے الگ رکھا ہے بالخصوص ایسے تنازعات جن میں فرقہ واریت کے عنصر شامل ہوں کیونکہ ایسے تنازعات میں شامل ہونے سے فرقہ واریت کی آگ پاکستان میں بھی پھیل سکتی ہے۔

حکومت یہ بھی واضح کرے کہ پارلیمنٹ کی قرارداد سعودی عرب و اتحادی ممالک کے خلاف ہرگز نہیں اور اگر یمن تنازع کی وجہ سے سعودی عرب کی خود مختاری و سالمیت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ محسوس کیا گیا تو پاکستان، سعودی عرب کا بھرپور دفاع کرے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند