تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مشترکہ اسلامی فوج کی تشکیل۔ وقت کی اہم ضرورت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 3 رجب 1436هـ - 22 اپریل 2015م KSA 08:15 - GMT 05:15
مشترکہ اسلامی فوج کی تشکیل۔ وقت کی اہم ضرورت

یمن کے حالیہ تنازع میں خلیج کے عرب ممالک میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ دیگر اسلامی ممالک اُن کے ساتھ نہیں اور عرب ممالک کی سیکورٹی صرف عربوں کی ذمہ داری ہے جس کی غمازی خلیجی ملک کے وزیر خارجہ کے اس بیان سے بھی ہوئی جس میں انہوں نے پارلیمنٹ میں منظور ہونے والی قرارداد کے بعد کھلے الفاظ میں یہ موقف اختیار کیا کہ ’’خلیج عرب اس وقت خطرناک جنگ میں ہیں اور ان کی اسٹریٹجک سیکورٹی خطرے کے دہانے پر ہے، ایسی صورتحال میں لیبیا سے لے کر یمن تک کی سیکورٹی کی ذمہ داری عرب ریاستوں کی ہے لیکن اسلام آباد، انقرہ کیلئے خلیجی ممالک کے بجائے تہران زیادہ اہم ہے۔‘‘ شاید یہی وہ سوچ تھی جس کی بناء پر پاکستان اور ترکی، یمن کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار تھے لیکن خلیجی ممالک آمادہ نظر نہ آئے اور انہوں نے او آئی سی کا اجلاس بلانے کے بجائے عرب لیگ کا اجلاس بلانے کو ترجیح دی۔

مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقد کئے گئے عرب ممالک کے سربراہان کے مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ عرب ممالک کے 40 ہزار فوجیوں پر مشتمل ’’عرب فوج‘‘ تشکیل دی جائے جس کی اولین ترجیح تمام عرب ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہو، یہ فوج عارضی نہیں بلکہ مستقل بنیاد پر قائم کی جائے جو رضاکارانہ طورپر عرب ممالک کی منشاء کے مطابق کسی بھی جگہ کارروائی کرسکے۔‘‘ عرب ممالک کی مشترکہ فوج کی تشکیل کیلئے رواں ہفتے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں تمام عرب ممالک کے فوجی سربراہان کا اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں مذکورہ تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن میں پراکسی جنگ جاری ہے جس میں ایک برادر عرب ملک اور ایران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں لیکن حالیہ دنوں میں یمن کے تنازع نے مزید شدت اختیار کرلی ہے اور یمن پر عرب اتحادی افواج کے حملوں میں تیزی آگئی ہے جس پر ایران نےدھمکی دی ہے کہ ’’اگر یمن میں فوجی کارروائی بند نہ کی گئی تو ایران، سعودی عرب کے خلاف فوجی کارروائی سے بھی گریز نہیں کرے گا۔‘‘ موجودہ صورتحال میں اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ دو اسلامی ممالک کے مابین ہونے والی یہ جنگ کسی وقت بھی بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اسلامی ممالک کی قیادت کو چاہئے کہ وہ اپنے اختلافات کو اتنا نہ بڑھائیں کہ یہ جنگ کسی بڑی جنگ میں تبدیل ہوجائے کیونکہ یمن میں جو کچھ ہورہا ہے، اگر یہ اسی طرح جاری رہا تو پھر یہاں امریکہ و یورپی طاقتیں داخل ہوسکتی ہیں جو یمن کے ہمسایہ ممالک کیلئے مزید خطرناک صورتحال اختیار کرسکتی ہیں۔ غیر عرب ممالک کو عربوں سے ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ وہ پہلے عرب اور بعد میں مسلمان کہلانا پسند کرتے ہیں اور عرب ممالک کے مفادات ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یمن تنازع کے حل کیلئے سعودی عرب اور اتحادی ممالک او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے اور پاکستان و ترکی جیسے اہم ممالک ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرتے مگر شاید عرب اور اتحادی ممالک کو یہ گوارہ نہ تھا جنہوں نے او آئی سی کے بجائے عرب لیگ کا اجلاس بلانے کو ترجیح دی۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یمن کا بحران ہو یا شام و عراق میں جاری لڑائی، لیبیا ہو یا کوئی اور مسلمان ملک، نقصان صرف مسلمانوں کا ہورہا ہے اور 56 اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کسی بھی معاملے میں اپنا فعال کردار ادا کرنے سے قاصر اور بے بس دکھائی دیتی ہے۔

میں پہلے بھی اپنے کالم میں تحریر کرچکا ہوں کہ یمن تنازع عالمی طاقتوں کی سازش ہے تاکہ مسلمانوں کو سنی، شیعہ، عرب و غیر عرب میں تقسیم کرکے ان کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ختم کیا جاسکے لیکن افسوس کہ مسلمان عالمی طاقتوں کی سازشوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور مغرب کے بچھائے گئے جال میں پھنستے جارہے ہیں، مسلمان ایک طرف عالمی طاقتوں سے بے تحاشہ اسلحہ خرید رہے ہیں تو دوسری طرف اس ہی اسلحے کو دوسرے مسلمانوں کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور ترکی یمن تنازع کے حل کیلئے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کریں اور مشترکہ عرب افواج کی تشکیل کے بجائے نیٹو کی طرز پر اسلامی ممالک پر مشتمل دفاعی فوج کی تشکیل کی تجویز پیش کریں جو اسلامی ممالک میں امن کے قیام کو یقینی بنانے، تصفیہ طلب امور کو نمٹانے اور اسلامی ممالک کے درمیان تنازعات حل کرانے میںPeace Keeper کا کردار ادا کرے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے جب نیٹو کی شکل میں فوج قائم کرسکتے ہیں تو اسلامی ممالک کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی مشترکہ فوج تشکیل دیں۔

دنیا میں اس وقت 56 اسلامی ممالک ہیں جن کی آبادی تقریباً ڈیڑھ ارب ہے جبکہ ان ممالک کے پاس ایک کروڑ سے زائد تربیت یافتہ فوجی ہیں۔ یہ اسلامی ممالک اپنے دفاع پر ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں لیکن اگر وہ مشترکہ فوج تشکیل دیں اور اپنے دفاعی بجٹ کا صرف 10 فیصد حصہ مشترکہ فوج پر خرچ کریں تو اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج، دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط فوج بن کر ابھرے گی جس کے پاس نہ صرف اسلامی جذبہ بھی ہوگا بلکہ جدید تکنیک اور مہارت بھی ہوگی۔ اسلامی فوج کی تشکیل یقینا دشوار گزار مرحلہ ہوگا جس میں کئی پیچیدگیاں درپیش ہیں لیکن اگر یہ ممکن ہوگیا تو اس سے نہ صرف مسلمانوں کے مابین فرقہ واریت کے اثرات کو زائل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مسلمانوں میں باہمی اخوت و بھائی چارگی پیدا ہوگی۔

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا شمار اسلامی دنیا کے اُن لیڈروں میں ہوتا ہے جنہوں نے او آئی سی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان، او آئی سی کی پرامن فوج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے کیونکہ ایٹمی طاقت ہونے کے باعث پاکستان اسلامی فوج کی تشکیل و پیشہ وارانہ تربیت میں اہم کردار اداکرسکتاہے۔ موجودہ صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی تمام تر توانائیاں مشترکہ دشمن کے خلاف استعمال کریں نہ کہ اُنہیں باہمی جھگڑوں کی نذر کیا جائے۔ اگر اسلامی ممالک مشترکہ فوج کی تشکیل کیلئے متحد ہوجائیں تو ہم عالمی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے فلسطین و کشمیر جیسے مسائل خود ہی حل کرسکتے ہیں بلکہ تمام اسلامی ممالک کا تحفظ یقینی بناسکتے ہیں۔

---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند