تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تھینک یو جونئیر ہالبروک!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 5 رجب 1436هـ - 24 اپریل 2015م KSA 17:51 - GMT 14:51
تھینک یو جونئیر ہالبروک!

نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ پڑھ کر فارغ ہوا ہوں۔ بڑے عرصے سے ایک کردار کی تلاش تھی جو اس سٹوری میں مل گیا۔ یہ ایک ڈاکومنٹری ہے جو امریکہ کے آنجہانی سفارت کار رچرڈ ہالبروک کے بارے میں ہے اور جس کا عنوان ’’دا ڈیپلومیٹ‘‘ ہے۔ یہ ڈاکومنٹری بالبروک کے بیٹے نے بنائی ہے اور یہ ان آڈیو ٹیپس کے بارے میں ہے جو ہالبروک نے محفوظ کر کے رکھی تھیں۔ وہ جہاں بھی جاتے وقت نکال کر اپنی آواز میں اہم واقعات اور باتوں کو اس ٹیپ میں محفوظ کر لیتے۔ ان کی موت کے بعد وہ ٹیپس انکے بیٹے کے ہاتھ لگیں تو اس نے ڈاکومنٹری بنا لی کہ انکے والد، جنہوں نے امریکہ کے مختلف صدور کے ساتھ کام کیا تھا، زندگی کے اہم مواقع پر کیا کر رہے تھے۔

جن باتوں نے مجھے اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور کیا وہ دو تھیں۔ رچرڈ ہالبروک کے بیٹ؁ نے کہا اگرچہ انکے باپ کو ٹاپ ڈپلومیٹ سمجھا جاتا ہے، اس لیے ڈاکومنٹری کا نام دی ڈیپلومیٹ دکھا ہے۔ تاہم اسکا جی چاہتا تھا کہ اسکا نام نام ڈپلومیٹ رکھیں کیونکہ انکے باپ میں وہ عناصر شاید نہیں تھے جو سفارتکاروں میں ہونے چاہئیں۔

دوسرے ہالبروک صدر اوباما کے قریب نہیں ہو سکے تھے کیونکہ اوباما پر امریکی فوج کے کمانڈروں کا زیادہ اثر و رسوخ تھا۔ ہالبروک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حامی تھے جبکہ جنرل پیٹریس سمجھتے تھے کہ اس معاملے کا فوجی حل نکلے گا۔ جب تک فوجی کارروائیوں کے ذریعے طالبان کی کمر نہیں توڑی جائے گی، وہ بات چیت پر راضی نہیں ہوں گے۔ تاہم ہالبروک کی اوباما کے دربار میں اس طرح شنوائی نہ ہو سکی جسکی وہ توقع رکھتے تھے اور اوباما نے انکا ایک ایسا نک نیم رکھا ہوا تھا جو ہالبروک کو شاید ناپسند تھا، جبکہ ہالبروک اپنے ماضی کے کارناموں پر فخر کرتے تھے کہ انہوں نے بل کلنٹن کے دور میں بوسنیا میں سول وار کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس طرح کا رول وہ اب افغانستان میں ادا کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ان آڈیو ٹیپس سے لگتا ہے ہالبروک کی دال نہیں گل رہی تھی۔ ایک اور بات جس نے مجھے ہالبروک کے بیٹے کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور کیا وہ اپنے باپ کے رویوں اور اپروچ پر تنقید تھی۔ وہ بھی ایسے باپ پر جواب اس دنیا میں موجود نہیں تھا۔

مجھے یاد آیا ایک دن دنیا ٹی وی کے مارننگ نیوز شو میں شازیہ اکرام اور سعید قاضی نے پوچھ لیا، آپ کی بچوں کے حوالے سے کیا خواہش ہےَ میں نے کہا : بڑی عجیب سی خواہش ہے۔ جب شازیہ نے اصرار کیا تو میں نے کہا، میری دو خواہشیں ہیں۔ پہلی یہ کہ میں نے کوشش کی ہے جب میرے بچے بڑے ہوں تو انہیں میری وجہ سے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور جب میں نہ رہوں تو میری روح کو انکی وجہ سے تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ دوسرے جب میں زندہ نہ رہوں تو وہ کبھی میرا پبلک لائف میں دفاع نہ کریں۔ ہاں وہ میرے بچے ہیں۔ وہ مجھے ہمیشہ اچھا سمجھیں گے۔ محبت کریں گے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ پوری دنیا کو بھی مجبور کریں، سب انکے باپ کو اچھا سمجھیں اور اس سے اسی طرح محبت کریں جیسے وہ کرتے ہیں۔ میں آج جو بھی کر رہا ہوں، لکھتا ہوں، بولتا ہوںِ انکو اسکا علم نہیں ہے۔ میں ان سے پوچھے بغیر فیصؒے کرتا ہوں، پھر کل کو وہ میرے ان فیصلوں کا دفاع کیوں کریں گےیا لوگوں سے کیوں لڑتے پھریں گے کہ انکے باپ کے بارے میں کوئی غلط بات نہ کی جائے یا ان پر تنقید نہ کی جائے؟

جن فیصلوں میں وہ کبھی شریک ہی نہ تھے وہ ان فیصلوں کا دفاع صرف اس لیے کریں گے کیونکہ وہ غلط فیصؒے کرنے والا انکا باپ تھا؟ وہ میرے مرنے کے بعد اپنی زندگی انجوائے کریں، اچھے انسان بن کر رہیں۔ انکی وجہ سے لوگوں کو آسانیاں ہوں، تکلیف نہ ہو۔ ہاں اگر وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو پھر انکے کسی ایکشن کی وجہ سے میری روح کو تکلیف نہ ہوَ بس اتنا چاہتا ہوں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

شاید سعید قاضی اور شازیہ کو میرے یہ الفاظ یاد ہوں ۔ اس لیے جب کبھی میں بڑے آدمیوں کے بچوں یا انکے مداحوں کو انکے باپ یا ہیرو کے دفاع کیلئے لڑتے دیکھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ انکی اپنے باپ یا ماں سے محبت اپنی جگہ لیکن وہ ایسے فیصلوں کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں جن فیصلوں میں وہ کبھی شریک ہی نہ تھے؟ وہ کیسے ہمیں بتا سکتے ہیں کہ انکے باپ نے ہمیشہ اچھے فیصلے کیے۔ ہو سکتا ہے کہ انکے باپ کی نیت ٹھیک ہو، لیکن اہم اور مشہور انسان اور اعلی عہدے پر فائز لوگ جو اہم فیصلے کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ سب درست ہوں۔

ہر بچے کا پہلا ہیرو اسکا باپ ہوتا ہے۔ ہیرو کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتا۔ یہ خیال لے کر ہم جوان ہوتے ہیں۔ جب ہمارے ہیرو کا امیج بریک ہونے لگتا ہے تو پھر ہم توپیں اور بندوقیں اٹھا کر انکے ناقدین پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ جب وہ بڑے لوگ فیصؒے کر رہے تھے تو آپ میلوں دور تک بھی موجود نہ تھے۔ کیا اس لئے ساری عمر ہم ڈھول گلے میں ڈال کر بجاتے رہیں کہ کسی نے ہمیں کبھی چائے پلائی تھی، اٹھ کر سلام کیا تھا یا کسی نے تعریف کر دی تھی یا چند ذاتی احسانات؟ ہم لوئر مڈل کلاس کے اپنے مسائل ہیں۔ اپنے گاؤں میں سپاہی سے واقفیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کی خود ساختہ دوستیاں جب حکمرانوں اور بابوں سے ہوجاتی ہیں تو پھر ہم سے زیادہ اہم انسان اور کوئی پیدا نہیں ہوا۔ میں خود اس فیز سے گزرا ہوں، اس لیے مجھے علم ہے کہ بڑے لوگ کیسے اداکاری سے کام لیتے ہیں۔ ویسے شروعات ہم لکھاری کرتے ہیں۔ سیاسی اور فوجی افسران کے حق میں کالم لکھتے ہیں۔ پھر انکے فون کا انتظار کرتے ہیں۔ فون آتا ہے تو ہم بچھ جاتے ہیں اور پھر بجھے ہی رہتے ہیں۔ ہر بڑا آدمی آرام سے اپنے بیوی بچوں سمیت کرپشن کرے، اپنے ٹھیکدار بھائیوں کے ذریعے مال کمائے ہم پھر بھی اس کی ایمانداری کا ڈھول پیٹتے رہیں گے کیونکہ ہم اسے اچھا سمجھتے ہیں۔ اسکے خلاف کوئی غلط بات نہیں سن سکتے۔

شاید یہ انسانی نفسیات ہے۔ انسانی کمزوری ہے اور اس کمزوری کا فائدہ بڑے لوگ ہمارے جیسے لوئر مڈل کلاس کے لوگوں کو کچھ اہمیت دے کر اٹھاتے ہیں۔ دونوں کا دھندا چلتا رہتا ہے۔ میں بڑوں سے تعلقات بنا لیتا ہوں اور اپنے سے کم تر لوگوں پر رعب ڈالتا رہتا ہوں۔ اس سے بڑے آدمی کو فائدہ ہوتا ہے کہ میں ساری عمر اسکا دفاع کرتا ہوں۔

اس لیے جب ہالبروک کے بیٹے نے اپنے باپ کی سفارت کاری کے انداز پر تنقید کی تو مجھے بھی حیرانی ہوئی ۔ کیسا بیٹا ہے جو باپ کے مرنے کے بعد بھی تنقید کر رہا ہے۔ وہ باپ سے کوئی بدلہ نہیں چکا رہا۔ وہ اپنے باپ پر فلم بنا رہا ہے لیکن جب اس نے محسوس کیا کہ اسکے باپ کے رویے شاید زیادہ ڈپلومیٹ نہیں تھے جوکہ ہونے چاہئیں تھے تو اس نے انکا اظہار کرنے میں بھی دیر نہیں لگائی۔ شاید امریکیوں کے لیے اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی اس پر انگلیاں اٹھائے گا یا اسے طعنے دے گا کہ باپ کے مرنے کے بعد بھی اس پر تنقید کر رہا ہے۔ اسے شرم نہیں آتی۔ کیسا بیٹا ہے۔ شاید وہ معاشرے سمجھتے ہیں کہ سب انسان ہوتے ہیں۔ پرفیکٹ کوئی نہیں ہوتا۔ اعلی عہدوں پر فائز سیاسی اور فوجی افسران کتابیں لکھتے ہیں۔ آٹو بائیوگرافی لکھتے ہیں تاکہ وہ بتا سکیں کہ انہوں نے اپنے ملک اور قوم کے لیے کیا غلط یا درست فیصؒے کیے۔

ہمارے ہاں الٹا ہے۔ جنرل شاہد عزیز نے کتاب لکھی۔ اکثر کالم نگار اور صحافی لٹھ لے کر پیچھے پر گئے کہ کیوں لکھی۔ اگر کسی کو انکے لکھے یا انکی باتوں پر اعتراض ہے تو وہ انکا جواب انکی زندگیوں میں ہی دے سکتے ہیں۔ امریکہ میں بحث کا کلچر ہے۔ ایک دوسرے پر تنقید کا کلچر ہے اور اسے ذاتی مسئلہ بھی نہیں بنا لیا جاتا کہ میرے ہیرو کے خلاف کس نے کیوں ایک لفظ لکھ ھدیا اور پھر پورا خاندان لٹھ لے کر پیچھے پڑ جائے کہ ہمارے ہیرو کی شان میں گستاخی کیوں کی؟ وہ تو دنیا کے سمجھدار ترین انسان ہیں جنہوں نے کبھی کوئی غلط فیصلہ یا غلط حرکت کی ہی نہیں۔

رچرڈ ہالبروک کے بیٹے کا شکر ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے ہمیں یاد دلایا کہ ہم سب انسان ہیں۔ عام سے انسان جو اچھے فیصلے کرتے ہیں تو غلط فیصؒے بھی کرتے ہیں اور غلط چیزوں پر ایک بیٹے میں جرائت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے مشہور باپ کا مرنے کے بعد دفاع کرنے کی بجائے یہ کہے اسکے باپ میں بھی کچھ خامیاں تھیں۔ خیر پاکستان میں جو بھی اعلی عہدوں پر فائز رہے ہیں، سب فرشتے تھے۔ ان سے تو غلط فیصلے ہو ہی نہیں سکتے۔ لہذا تنقید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر کریں گے تو پورا خاندان آپ کے پیچھے لٹھ کر پڑ جائے گاِ تاہم تھینک یو مسٹر جونیئر ہالبروک!
----------------------
بشکریہ روزنامہ "دنیا"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند