تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مکہ المکرمہ ....تعمیر و توسیع اور تاریخی آثار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 14 رجب 1436هـ - 3 مئی 2015م KSA 09:10 - GMT 06:10
مکہ المکرمہ ....تعمیر و توسیع اور تاریخی آثار

ایک تحقیقی کاوش کے سلسلے میں ان دنوں مکة المکرمہ میں ہوں۔ پاکستانیوں کی ملت اسلامیہ اور خاص طور پر ارض مقدس سے جو والہانہ محبت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس امر کا اندازہ جمعہ کے دن اسلام آباد کی فیصل مسجد میں امام کعبہ کی امامت میں پڑھائی جانے والی نماز جمعہ میں لاکھوں افراد کی شرکت سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستانی قوم میں دین سے کمٹمنٹ کے اس جذبے کو اگر تعمیری رنگ میں ڈھال لیا جائے تو حیران کن نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہ مذہبی جذبہ ایک ایسی قوت ہے جس کے سامنے دنیا کے تمام ہتھیار خواہ وہ جوہری طاقت ہی کیوں نہ رکھتے ہوں ماند پڑجاتے ہیں۔اسی بناءپر تو مغربی طاقتیں مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم کرنا چاہتی ہیں۔ میں 1984ء میں پہلی بار حجاز مقدس آیا، اسکے بعد ایک نیوز رپورٹر کے طورپر بارہا پاکستان کے حکمرانوں کےساتھ سرکاری طور پر اور نجی حیثیت میں بھی ارض مقدس اور حرمین الشریفین کی زیارت کا موقعہ ملا۔

اس بار آنے کا مقصد عمرہ کی ادائیگی کے بعد اس سرزمین کے حوالے سے ایسے مقامات کی نشاندہی کر کے انہیں اس انداز میں قلمبند کرنا ہے کہ آج کے دور کا زائر جب یہاں آئے تو اسے مشکل کا سامنا نہ ہو۔ مکة المکرمہ اور حرم کی توسیع کے عمل میں اس علاقے کا جغرافیہ بہت حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ چند سال پہلے تک یہاں آنیوالے زائرین کیلئے پہلے والے مکہ المکرمہ اور حرم کے لینڈ سکیپ کو پہچاننا مشکل ہے ۔اب تک لکھے جانے والے سفر ناموں اور کتابوں میں ان مقدس مقامات کا ذکرتو پہلے ہی موجود ہے لیکن آج کا زائر جب انہیں ڈھونڈنے نکلتا ہے تواسے خاصی مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اس حوالے سے الحمداللہ کئی بار کی کاوش سے مجھے خاصی حد تک کامیابی نصیب ہوئی ہے۔

جس کی تفصیل انشاءاللہ اس حوالے سے لکھی جانے والی کتاب میں قارئین کے سامنے ہو گی۔ اس بار تحقیقی کا وش میں میری رہنمائی اور مدد کرنے پر، میں پاکستان قونصلیٹ جدہ کے قونصلر پریس و ثقافت سہیل علی خان اور مکہ المکرمہ کے دانشور اور صحافی محمد عامل عثمانی کا شکر گزار ہوں۔حالیہ قیام کے دوران میں نے ایک بار پھر حرم پاک اور مکہ المکرمہ کے اکثر تاریخی مقامات کے محل وقوع اور تازہ ترین صورتحال دیکھنے کا موقعہ ملا، جبل رحمت، غار حرا، غار ثور کی موجودہ صورتحال سے بھی بہرہ مند ہوا۔ مکہ کی یونیورسٹی ام القریٰ اور کئی میوزیم میں جانے کا موقعہ بھی ملا۔ جنت المعلٰی اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے علاوہ کئی دوسرے اہم مقبروں تک رسائی بھی ممکن ہوئی۔ میدان سرف میں ام المومنین حضرت میمونہؓ کے مقبرے اور طائف میں مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے مزار مبارکہ اور ان سے منسوب مسجد ، جہاں آپ درس قرآن دیا کرتے تھے (جو ان کے مقبرے سے 2 کلو میٹر کے فاصلے پر مسجد عداسکے قریب ہے اور آج کل بند اور غیر آباد ہے) کی زیارت کی۔ طائف ہی میں مسجد عداسؓ اور ان مقامات تک رسائی بھی حاصل ہوئی جہاں رسول اللہﷺ نے طائف کے لوگوں کی جانب سے ایذا رسانی کے دوران قیام فرمایا تھا۔مکة المکرمہ فضیلتوں کا مرکز، عظمتوں کا شہر اور فیوض و برکات کا سر چشمہ ہے۔

اس بے آب و گیاہ وادی اور بنجر مقام کو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ یعنی اللہ کے گھرکا شرف دیا اور یہ وادی تمام پیغمبران کرام علیہ السلام کی زیارت گاہ بن گئی۔ اسی شہر میں حضرت صدیق اکبرؓ کا گھر تھا، حضرت عمر ؓ بھی یہیں رہتے تھے، حضرت عثمانؓ اور حضرت خدیجہؓ یہیں تجارت کرتے اور حضرت علیؓ کی شجاعت اور علم و فضل کا شہرہ بھی اسی شہر میں ہوا۔ یہاں حضرت امام حسن ؓو حسینؓ کھیلتے رہے۔ اسی شہر میںصحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اسلام کی سربلندی کیلئے اپنا مال اور جانیں نچھاور کر رہے تھے۔ یہ شہر اپنے دامن میں ان گنت داستانیں، تقدس اورنور کے حالے لیے ہوئے ہے۔

سیرت کی کتابوں اور مکة المکرمہ پر لکھی جانے والی تحقیقی کتابوں میں درج ہے کہ مکة المکرمہ کی سرزمین خالق کائنات نے زمین کے دوسرے حصوں کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے پیدا فرمائی اور اس کی بنیادیں ساتویں زمین تک گہری ہیں۔ ابتداءمیں یہ حصہ پانی کے اوپر سفید جھاگ کی مانند تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے یہاں زمین بچھا دی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ دنیا کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے بیت اللہ کو پانی کے چار ستونوں پر کھڑا کیا گیا جن کی بنیادیں ساتویں زمین تک گہری تھیں پھر زمین اسکے نیچے پھیلا دی گئی۔ بیت اللہ پر بیت المعمور کا سایہ ہے۔ ایک تحقیق ہے کہ مکہ مکرمہ روئے زمین کے وسط میں واقع ہے ۔ یہ زمین کی ناف ہے اس لیے اسے ”ام القریٰ“ یعنی (شہروں کی ماں) کہا جاتا ہے۔ (جاری)

----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند