تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آگ کشمیر میں۔ دھواں کراچی سے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 16 رجب 1436هـ - 5 مئی 2015م KSA 07:32 - GMT 04:32
آگ کشمیر میں۔ دھواں کراچی سے

شاید پاکستان، انڈیا اور ایران سمیت دنیا میں بہت کم لوگوں کو علم ہو کہ امام خمینی ؒ کے دادا کشمیری تھے۔ ایران کے انقلابی رہنماء امام خمینی ؒ کے دادا کشمیر سے علم حاصل کرنے نجف اشرف گئے تھے۔ اس زمانےمیں ہندوستان اور پاکستان ایک ہوتا تھا۔ ایران کے علاقے خمین کے رئیس کو ایک عالم دین کی ضرورت تھی سو وہ نجف اشرف سے ایک کشمیری نوجوان عالم دین کو خمین لے گیا۔ لوگ اس عالم دین کے خاندان کو ’’ہندی خاندان‘‘ کہنے لگے۔ آج بھی امام خمینی ؒ کے بھائی کی قبر پر نور الدین ہندی لکھا ہوا ہے۔ جب امام خمینی ؒ انقلاب ایران کی قیادت کر رہے تھے تو پوری ایرانی قوم ان کے پیچھے تھی، کسی نے انہیں ہندی نہیں کہا بلکہ انہیں پورے ایران نے ایرانی قوم کے قائد کے طور پر پیش کیا۔ امام خمینی ؒ نے بھی خود کو ایرانی کہلوانا پسند کیا نہ کہ مہاجر۔

امام خمینی ؒ کے اس کردار سے دوباتیں آشکار ہوتی ہیں، ایک انسان جہاں جدوجہد کر رہا ہوتا ہے وہ وہیں کا ہوتا ہے، دوسری بات یہ کہ کشمیریوں میں جذبہ حریت عرصے سے چلا آ رہا ہے، اسی جذبۂ حریت نے ایک کشمیری کے پوتے کو چین سے نہ بیٹھنے دیا اور اس نے ایران میں انقلاب برپا کر دیا۔

پونے دو صدیوں سے کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ 1846ء میں کشمیر کے سکھ حکمران مہاراجہ گلاب سنگھ نے معاہدہ امرتسر کے ذریعے کشمیر کو محض 75 لاکھ روپے میں انگریزوں کو فروخت کر دیا تھا اس خرید و فروخت پر علامہ اقبالؒ نے خوبصورت شعر کہا:

کہ قومے فروختند
وچے ارزاں فروختند
ترجمہ (قوم بیچ دی اور وہ بھی کتنی سستی بیچ دی)

1947ء کے بعد انگریز چلا گیا مگر کشمیر آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ ریڈ کلف اور مائونٹ بیٹن کی سازش نے کشمیر پر بھارت کا ناجائز قبضہ کروا دیا حالانکہ کشمیر مسلم آبادی کی اکثریت تھی۔ آپ اس آبادی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ 1927ء کی مردم شماری میں کشمیر کی 77 فیصد آبادی مسلمان تھی، 1941ء میں کشمیر میں 75 فیصد مسلمان تھے اور 1947ء میں مسلمانوں کی تعداد 80 فیصد تھی۔ ایک مسلم اکثریتی علاقے کی بنیاد پر کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا چاہئے تھا مگر تہہ در تہہ سازشوں نے کشمیرکے اکثریتی علاقے پر بھارت کا قبضہ کروا دیا، کشمیر کا تھوڑا سا علاقہ آزاد ہو سکا۔ بھارت کو کشمیر سے ملانے والا واحد زمینی راستہ ضلع گور داسپور کی تحصیل پٹھان کوٹ سے جاتا ہے۔ پٹھان کوٹ سے شروع ہونے والی سڑک کٹھوعہ، مادھوپور، وجے پور سے ہو کر جموں پہنچتی ہے پھر جموں سے اودھم پور، اننت ناگ سے ہوتی ہوئی سری نگر جا پہنچتی ہے۔ سری نگر جس کے آس پاس وولر جھیل، ڈل جھیل اور ناگن جھیل ہیں، بہت خوبصورت ہے۔ اس خوبصورت شہر میں مغل بادشاہ بابر، اکبر اور جہانگیر اکثر آیا کرتے تھے۔ جہانگیر نے کہا تھا کہ

گر فردوس بہ روئے زمیں است
ہمی است و ہمی است و ہمی است

ترجمہ (اگر دنیا میں کہیں جنت ہے تو وہ یہیں ہے، یہیں ہے، یہیں ہے)

شہنشاہ جہانگیر نے یہ الفاظ سری نگر کے مغل گارڈنز میں کہے تھے نشاط باغ، شالیمار گارڈنز اور چشم شاہی کے ناموں سے منسوب مغل گارڈنز، مغلیہ آرکیٹکچر کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ صورت گروں نے جنت تراشنے کی کوشش کی ہے۔ یہ باغات شہنشاہ بابر اور اکبر اعظم نے بنوائے تھے۔ سری نگر کی خوبصورتی میں ایک لال چوک بھی ہے۔ گھنٹہ گھر میں قائم اس چوک کا نام روسی انقلاب کے بعد لال چوک رکھا گیا تھا۔ سری نگر بہت خوبصورت شہر ہے۔ اس کی خوبصورتی سیاحوں کو کس قدر مسحور کئے رکھتی ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجئے کہ سری نگر میں 355 شاندار ہوٹل ہیں، صرف 190 ہوٹل تو لال چوک میں ہیں۔ سری نگر کے باسی یا سیاح ہفتے کے اختتامی دنوں میں جن بارہ مقامات کا رخ کرتے ہیں ان میں جموں، گل مرگ، پہل گام، ڈل ہائوسی، چمبا، کاترا، کانگرا، سونا مرگ، الچی، نوبرا ویلی، بارہ مولا اور بوس مرگ شامل ہیں۔ بوس مرگ، ہنی مون ہل اسٹیشن کے طور پر مشہور ہے۔

افسوس ان تمام خوبصورت علاقوں کو بھارتی افواج نے تباہ و برباد کر رکھا ہے۔ قدرت کے حسین نظاروں کی حامل ویلی آج ہر طرف سے لہو لہو ہے۔ یہاں بھارتیوں نے ظلم کا راج قائم کر رکھا ہے۔ ڈوگرا راج سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے خوبصورت انسان آج برہمن کی غلامی میں ہیں ظلم سہتے سہتے صدیاں بیت گئی ہیں مگر حوصلے پست نہیں ہوئے۔ یہ بلند حوصلگی ہے کہ پچھلے دنوں پورے مقبوضہ کشمیر میں جگہ جگہ سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا۔ کشمیری، پاکستانی جھنڈے سے نہ صرف پیار کرتے ہیں بلکہ دشمن کے سامنے اسے بلند بھی کرتے ہیں۔

کشمیری اپنے حقوق کے لئے ایک عرصے سے جدوجہد کر رہے ہیں، ظلم و ستم سے آزادی پانے کے لئے انہوں نے 1935ء میں ’’کشمیر چھوڑ دو‘‘ تحریک بھی شروع کی تھی۔ 1932ء میں کشمیری مسلمانوں نے شیخ عبداللہ اور چوہدری غلام عباس کی قیادت میں ’’آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس‘‘ قائم کی۔ 1946ء کے انتخابات میں کشمیر اسمبلی کی 21 میں سے 15 نشستیں مسلم کانفرنس جیت گئی۔ 1947ء میں لارڈ مائونٹ بیٹن نے اچاریہ کرپلانی، ڈاکٹر سہنا اور چمن لعل کے ساتھ کشمیر کا دورہ کیا۔ اسی دورے میں بھارتی قبضے کے لئے مہاراجہ سے خفیہ گٹھ جوڑ کیا گیا۔ 1947ہی میں سرحدوں کے تعین کے لئے ریڈ کلف ہندوستان آئے۔ موصوف، کانگریسی رہنمائوں اور مائونٹ بیٹن کے اصرار اور ہیرے جواہرات کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔ وہ اس قدر بددیانتی پر اتر آئے کہ موصوف نے ضلع گورداس پور، اس کی تحصیلیں پٹھان کوٹ، بٹالہ، نکودر اور زہرہ بھارت کے حوالے کر دیں حالانکہ وہاں سے مسلمان نمائندہ عبدالغفور قمر جیتا ہوا تھا۔ انگریز سرکار نے عبدالغفور قمر کو جھکانے کے لئے اس کے تین بھائیوں کو رنگون کی جیل میں ڈال دیا، رہائی کے لئے ایک ہی شرط تھی کہ ووٹ انڈیا کی طرف دو، عبدالغفور قمر نے نہ چاہتے ہوئے بھی ماں کے اصرار پر اپنا ووٹ بھارت کے پلڑے میں ڈال دیا۔

یوں بھارت کو پٹھان کوٹ کے راستے کشمیر کو ملانے والا واحد راستہ مل گیا۔ 1947ء میں کشمیر اسمبلی نے ’’الحاق پاکستان‘‘ کی قرارداد منظور کی مگر مہاراجہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات جوں کے توں رکھنے کا معاہدہ کیا۔

بھارت نے کشمیر پر چڑھائی کر دی اور جواز یہ پیش کیا کہ مہاراجہ نے کشمیر کا الحاق بھارت سے کر دیا ہے۔ لندن ٹائمز کے مطابق اکتوبر 1947ء میں بھارتی فوج نے کشمیر کے اندر 2لاکھ 35ہزار مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ بھارتی حکمرانوں نے مکاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں یہ واویلا کیا کہ پاکستان جارحیت کر رہا ہے۔ بھارت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 135 کے تحت سلامتی کونسل میں لے گیا۔ بھارتی مندوب نے بہت کچھ کہا، جواباً پاکستانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے مضبوط دلائل کے ساتھ بھارتی موقف کو زیر کیا۔ پانچ فروری 1949ء کو قرارداد جنگ بندی منظور ہوئی۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا عہد کیاگیا۔ یہ وعدہ کسی اور نے نہیں پنڈت جواہر لعل نہرو نےکیا تھا، بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکے حالانکہ وہ 1964ء تک وزیراعظم رہے۔ اقوام متحدہ سے کئی قراردادیں منظور ہو چکی ہیں مگر بھارت کی طرف سے مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل نفی دیکھ کر کشمیری نوجوان آزادی کے نعرے بلند کرتے ہیں، مشکلات کا سفر کرتے ہیں، آپ کشمیریوں کی صعوبتوں کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ چند سال پہلے جب حریت رہنماء پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے تو ایک شام مجھے پروفیسر عبدالغنی بھٹ کہنے لگے۔۔۔ ’’جن مشکلات میں ہم رہ کر زندگی گزار رہے ہیں، آپ وہاں ایک دن بھی نہیں گزار سکتے۔۔۔‘‘ میں نے لفظوں کی کڑواہٹ سے وہاں کی زندگی کا اندازہ کر لیا پچھلے چھ سات سالوں میں پاکستان کی نام نہاد جموری حکومتوں نے کشمیریوں کی اخلاقی حمایت سے ہاتھ کھینچ رکھا تھا۔

کچھ بھارت سے محبت کی ویسے ہی پینگیں بڑھاتے ہیں اور کچھ کا وہاں کاروبار ہے ’’اب جب پاکستانی فوج نے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں را کا قائم کردہ دہشت گردی کا نیٹ ورک تباہ کر دیا ہے، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں افغان بارڈر کے ساتھ ساتھ اجیت کمار دوول کا پھیلایا ہوا نیٹ ورک برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ کراچی میں بھی را کے نمائندوں کی دم پے پائوں رکھا ہے تو ایسے میں مظلوم کشمیری بڑے خوش ہیں، انہوں نے خوشی میں پاکستانی پرچم بلند کر رکھا ہے۔ آج کل کشمیری مودی سرکار کی نئی چال کے خلاف برسرپیکار ہیں، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی مدد کرتا ہے۔ اسی لئے پاکستانی وزارت خارجہ کی ’’راولا کوٹی‘‘ ترجمان تسنیم اسلم نے بڑے بھرپور جواب دیئے ہیں تسنیم اسلم کے بقول۔۔۔ ’’مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت بنانے کی بھارتی کوششیں قبول نہیں، مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے، کوئی شماریاتی تبدیلی کشمیریوں کی رائے نہیں بدل سکتی، اس کا حل استصواب رائے ہی ہے۔۔۔‘‘اب جاتے جاتے پاکستان سے دور بیٹھی ہوئی پاکستان سے محبت کرنے والی شاعرہ یاسمین حبیب کے اشعار آپ کی نذر ہیں کہ:

ہمیں کل کی خبر ہوتی تو رستے سے پلٹ جاتے
بہت سے ایسے تھے جن سے نہ ہم ملتے تو اچھا تھا
بہت بوجھل، بہت بے رحم پچھتاوا ہے پہلو میں
اگر بروقت کوئی فیصلہ کرتے تو اچھا تھا

---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند