تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
طالبان کا قطر میں دفتر اور مذاکرات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 18 رجب 1436هـ - 7 مئی 2015م KSA 11:06 - GMT 08:06
طالبان کا قطر میں دفتر اور مذاکرات

 

ایک بار پھر طالبان اور حکومت افغانستان کے درمیان مذاکرات کے امکانات نظر آنے شروع ہوئے ہیں۔ طالبان کے نمائندگان اور حکومت افغانستان کے نمائندگان کے درمیان قطر میں ایک ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اگرچہ ابھی مذاکرات کے بارے میں حتمی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا لیکن طالبان نے ان مذاکرات سے پہلے کچھ شرائط حکومت افغانستان کے سامنے رکھی ہیں تاکہ مذاکرات کا راستہ ہموار ہو سکے۔ سب سے پہلے تو مذاکرات سے قبل ان ملاقاتوں کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کہ کم از کم جو جمود ایک طویل عرصے سے جاری ہے اس میں کچھ لچک اور ہلچل دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی جو حکومت سنبھالنے سے لے کر آج تک مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ مذاکرات کا راستہ کھولا جائے لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اب اس میں کوئی راستہ نظر آنے کی امید ہے۔ طالبان نے ان مذاکرات سے قبل جو شرائط پیش کی ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ دولت اسلامیہ افغانستان (طالبان کی طرف سے افغان حکومت) کا کوئی دفتر نہیں ہے۔ دفتر کی عدم موجودگی میں ان کا کوئی پتا نہیں ہے جہاں سے امن مذاکرات کے بارے میں گفتگو کی جائے۔

جہاں سے وہ سرکاری طور پر اپنے بیانات جاری کر سکیں۔ اس دفتر سے وہ اپنے خلاف جاری پروپیگنڈا کابھی جواب دے سکتے ہیں لیکن ایسا نہ ہونے سے ان کے لیے امن مذاکرات کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ اس لیے ان کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں دولت اسلامیہ افغانستان کا دفتر کھولنے کی اجازت دی جائے۔ اس سے قبل بھی قطر میں دفتر کھولا گیا تھا لیکن بعد میں اسے بند کر دیا گیا، طالبان کی طرف سے دوسرا مطالبہ بھی وہی پرانا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی ان کو ہرگز قابل قبول نہیں۔ جب تک غیر ملکی افواج افغانستان سے چلی نہیں جاتیں مذاکرات بے سود ہیں۔ ان کی پچھلے دس سال کی جدوجہد ہی اس پرمبنی ہے کہ غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل جائیں چونکہ اب بھی غیر ملکی افواج موجود ہیں اس لیے مذاکرات ناممکن ہیں۔ اگرچہ ان کے پہلے مطالبے سے بین الاقوامی قوتوں اور حکومت افغانستان نے اتفاق کر لیا ہے لیکن بین الاقوامی مبصرین طالبان کے ان مطالبات کو بڑا گہرا قرار دے رہے ہیں۔ اوّل یہ کہ ان کا دفتر قائم ہونے سے انہیں ایک بنیاد مل جائے گی جہاں سے وہ اپنی سیاسی کارروائیوں کاآغاز کر سکیں گے۔ دوسرے ان کی دولت اسلامیہ افغانستان کو کسی حد تک ایک شناخت مل جائے گی۔ اس طرح ان کی جدوجہد (بغاوت اور شر انگیزی بقول بین الاقوامی مبصرین) بندوق کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر بھی شروع ہو جائے گی اور جیسے ہی انہیں قطر میں دفتر اور سیاسی معاملات چلانے کی اجازت ملی وہ اپنے دوسرے مطالبے پر ڈٹ جائیں گے۔

چونکہ موجودہ حالات میں نہ تو حکومت افغانستان اور نہ ہی بین الاقوامی قوتیں اس بات کی متحمل ہو سکتی ہیں کہ غیر ملکی فوجیں واپس چلی جائیں اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں طالبان ایک بار پھر اس کی آڑ میں مذاکرات کو ختم کر دیں گے۔ ماضی میں بھی یہی صورت حال سامنے آ چکی ہیں اور مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اس مرتبہ افغان صدر امن مذاکرات میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں جس سے ان مذاکرات میں پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے لیکن 2013ء میں جب قطر میں طالبان کا دفتر کھولا گیا اور مذاکرات شروع ہوئے تو حامد کرزئی سابق صدر افغانستان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ مذاکرات پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا سبب طالبان کا سخت مؤقف بھی ہے جو کہ کسی طرح بھی اپنے مطالبات میں لچک پیدا کرنے سے ماضی میں بھی قاصر رہے ہیں اور اب بھی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

اگرچہ طالبان ایک طرف تو امن کی بات کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف ان کی پُر تشدد کارروائیاں بھی اسی طرح سے جاری ہیں۔ اگرچہ وہ زبانی طور پر تو اس کا واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ ’’وہ کسی دوسرے کو پُر تشدد کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنائیں گے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کسی کو افغان سرزمین استعمال کرنے دیں گے۔ وہ اپنی قوم کی خوشی کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں جس میں تمام شعبہ جات میں تمام ممالک سے تعاون، پڑوسیوں سے اچھے تعلقات شامل ہیں۔ وہ ان تمام قوتوں کو خوش آمدید کہیں گے جو کہ افغانستان میں امن عمل کے لیے دلچسپی رکھتے ہیں‘‘۔ لیکن دوسری طرف موسم میں حدت آتے ہی طالبان کی طرف سے پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کاآغاز کر دیا گیا ہے۔ 24 اپریل کو قندوز میں حملہ کیا گیا جس سے سکیورٹی فورسز کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئیں کہ ایک طرف تو امن عمل جاری ہے اور دوسری طرف حملے بھی جاری ہیں۔ ایک اور حملے میں بدخشاں صوبے کی ایک چیک پوسٹ پر پولیس والوں پر حملہ ہوا جس میں 13 پولیس اہلکار اور تین اور اہلکار جاں بحق ہوئے۔

ابھی تک اس حملے میں 7پولیس اہلکاروں کے بارے میں معلوم نہیں ہوا کہ ان کی صورت حال کیا ہے۔ اگرچہ طالبان کی طرف سے حملے جاری ہیں لیکن ایک مثبت پہلو جو دونوں طرف سے سامنے آیا ہے کہ دونوں فریقین بات چیت میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان تمام حالات اور واقعات کے باوجود بات چیت اور مذاکرات میں رخنہ اندازی کا پہلو سامنے نہیں آیا۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی جو بذات خود ان مذاکرات کے لیے کوشاں ہیں اور ان کی ترجیح افغانستان کا امن ہے۔ وہ اب طالبان کو ’’دہشت گرد‘‘ ، ’’باغی‘‘ یا کچھ اور کہنے کی بجائے انہیں اپنا ’’سیاسی حریف‘‘ کہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغان صدر نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ملک اور افغان قوم کے لیے امن قائم کرنے کے لیے طالبان کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی نقطہ نظر کو بھی اہمیت دینے کو تیار ہیں۔ ان کے خیال میں ایسا کرنے سے شاید طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے اور افغانستان میں امن قائم ہو سکے۔

پاکستان نے ہمیشہ کی طرح ان مذاکرات میں مثبت کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بلکہ پاکستان نے ان مذاکرات میں ’’سہولت کار‘‘ کا کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ ہر قسم کی قربانیاں دی ہیں۔ افغان جنگوں میں جتنا نقصان افغانستان کو پہنچا ہے اتنا ہی نقصان پاکستان کو ہوا ہے۔ اگر افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات براہ راست پاکستان پر بھی پڑیں گے لیکن قطر مذاکرات ایک مشکل مرحلہ ہے جس کا ایک نمونہ بین الاقوامی قوتیں اور علاقائی ممالک 2013ء میں ایک بار دیکھ چکے ہیں۔ اس میں کس حد تک کامیابی ہو سکتی ہے اور کس قدر مشکلات آ سکتی ہیں ان کا ادراک سب کو ہے۔ اس لیے اس سے پہلے کہ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو اس سے قبل ان تمام پہلوؤں کو تفصیل میں دیکھ لیا جائے کیونکہ طالبان اب تک غیر ملکی فوجوں کے مکمل انخلاء کے مطالبے پر قائم ہیں۔ اس کے علاوہ وہ افغانستان کے آئین جس کے تحت موجودہ حکومت قائم ہے اس کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔

اگر ان بنیادی مطالبات کو اہمیت نہ دی گئی جن کو تسلیم کرنا شاید حکومت افغانستان کے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو گا تو مذاکرات میں پیش رفت کس طرح ممکن ہو گی لیکن ان تمام حالات کے باوجود افغانستان میں امن واپس لانے کے لیے مذاکرات کے علاوہ کوئی اور حل بھی تو نہیں ہے۔ اس لیے مذاکرات ہونے چاہئیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند