تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی بمقابلہ بھارت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 25 رجب 1436هـ - 14 مئی 2015م KSA 13:04 - GMT 10:04
پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی بمقابلہ بھارت

جنوبی ایشیاء میں علاقائی صورت حالات کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔ اس کی کئی ذیلی وجوہات کے علاوہ دو اہم اسباب پورے مدوجذر کے ساتھ کھل کر سامنے آئے ہیں۔ ایک چینی صدر کا دیرآید درست آید کے مصداق بھرپور دورہ پاکستان‘ جس کی بازگشت دنیا بھر میں پاکستان کی خارجہ کامیابی کے طورپر تاحال سنائی دے رہی ہے اور دوسرا سبب اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری برائے پولیٹیکل افیئرز پاؤننگ ہوان کا وہ کھلا سچ جو انہوں نے حال ہی میں مسئلہ کشمیر کے ضمن میں پوری دنیا کے سامنے جرأت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کے اس بیان کو سالوں بعد اقوام متحدہ کی جانب سے جرأت رندانہ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

تاہم پاؤننگ ہوان نے کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو زندہ و جاوید اور قابل عمل قرار دیتے ہوئے اس مسئلہ پر ہر دو ممالک کے درمیان ثالثی کی جو پیشکش کی ہے‘ وہ بادی النظر میں ان کی اپنی ذاتی اختراع لگتی ہے۔ ان کی یہ رائے اس لحاظ سے معنی خیز ہے کہ 66 سال قبل 1948ء تا 1957ء جو متعدد قراردادیں اقوام متحدہ نے منظور کیں ان میں ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو استصواب رائے کا حق دینے کی ہدایت کی گئی تھی‘ ثالثی بارے ان قراردادوں میں کوئی بات نہیں کہی گئی۔ پاؤننگ ہوان کو معلوم ہونا چاہئے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر من وعن عمل کرنے سے ہی حل ہو سکتا ہے‘ ثالثی سے نہیں۔ اور پھر ثالثی تو مسئلہ کشمیر پر ایک اور الگ حل کی جانب دیکھنے یا جانے کا راستہ ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ 66 سال سے اقوام متحدہ کی جانب اس لئے دیکھ رہے ہیں کہ کبھی تو ایسا ہوگا یہ عالمی ادارہ بھارت کو اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے کے لئے حتمی اقدامات اور اہداف بروئے کار لائے گا۔ اگر اقوام متحدہ بھارت کو اپنی قراردادوں پر عمل درآمدکرانے کی سکت نہیں رکھتا تو یہ امر اس بات کی غمازی ہے کہ اس عالمی ادارے کے 197 اراکین بھارت کے سامنے بے بس ہیں۔ سوال صرف ایک ہے کہ اگر اقوام متحدہ جیسا مضبوط عالمی ادارہ بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے عملی دباؤ یعنی اقتصادی پابندیاں بھی عائد نہیں کرا سکتا تو پھر اس ضمن میں خالی خولی بیانات کی کیا عملی صورت ہو گی؟یہ طے شدہ بات ہے کہ مودی سرکار کے معرض وجود میں آنے کے بعد بھارت ہمسایہ ملک پاکستان بارے بہت سے لبرل سفارتی طرز عمل اور لہجوں سے محروم ہو گیا ہے۔

اس حقیقت کا راہول گاندھی سمیت تقریباً ساری کانگریسی لیڈر شپ کو شدید احساس ہے۔ مودی حکمرانوں کا لہجہ پاکستان مخالف تو ہے ہی‘ اس میں ترشی اور بدتہذیبی کا عنصر بھی درآنا ایک المیے سے کم نہیں۔ اور تو اور بھارتی فوج جو بظاہر ایک ڈسپلنڈ ادارہ ہے‘ اس کے ایک مقتدر جرنیل نے اگلے روز کہا کہ پاکستان اور چین دونوں بھارت کے لئے خطرہ ہیں‘ چین سے کسی وقت بھی ہماری جنگ چھڑ سکتی ہے۔ جبکہ چینی مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کبھی آئندہ چین بھارت جنگ ہوئی تو بھارت 20 دنوں سے زیادہ جنگ کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔ چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ کرنے سے پہلے بھارت کا بھی پرجوش دورہ کیا تھا۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ بھارت نے اپنے طرزعمل اور ناگوارلہجے کے باوصف چینی صدر کے دورہ کے تمام مضمرات اور نیک شگون ملیا میٹ کر دیئے ہیں۔ پھر اس ضمن میں ایک کھلی حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ چینی صدر کے کامیاب دورہ پاکستان سے جو فوائد پاکستانیوں کو حاصل ہوئے ہیں بھارت اس جلن میں پاکستان دشمنی کی ایک ایسی راہ پر چل نکلا ہے جو خود اسے سفارتی سطح پرختم کر دے گی۔

اس حوالے سے بھارتی تلخ ردعمل دراصل خارجہ سطح پر پاکستان کی کامیابیوں کی کھلی دلیل بھی ہے۔نلتر حادثہ پر بھی بھارتی منفی پراپیگنڈہ کو اس ضمن میں فراموش کرنا عبث ہے۔ پاکستان سمیت مغربی ممالک اور پوری دنیا ایک طرف اور بھارت کی پاکستان دشمنی پر مبنی منفی حکمت عملی اپنی ہی ڈگر پر قائم و دائم رہی۔ پھر چین کی طرف سے اقتصادی راہداری کے ہمہ جہت اور انسانیت نواز منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے بھارت کی منفی حکمت عملی اب پوشیدہ نہیں رہی۔ اس ضمن میں ’’را‘‘ کی سرگرمیاں میڈیا پر کھل کر آشکارا ہو چکی ہیں۔ وہ 30 کروڑ ڈالر جو بھارت کو اپنی غریب جنتا کے سکھ چین اور آرام و آسائش پر خرچ کرنے چاہئیں تھے‘ چین کے اقتصادی راہداری کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے مختص کر دیئے گئے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان کی معلومات یہ ہیں کہ بھارتی بدنام زمانہ ایجنسی ’’را‘‘ اپنی پاکستان دشمن سرگرمیاں افغانستان میں ہی مرتب کرتی اور وہیں سے روبہ عمل کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کو گزشتہ دنوں بھارت کے دورہ پر بلانا اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔جنوبی ایشیاء میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کا تقابل کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے کہ پاکستان بہت سی کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اب بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل ہو گیا ہے‘ جبکہ مودی سرکار گومگو کی کیفیت میں اپنی ڈوبتی ہوئی خارجہ پالیسی کی ناؤ کو کسی کنارے لگانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی چند وجوہات میں امریکہ پر ضرورت سے زیادہ تکیہ کرنا اور حد سے بڑھ کر پاکستان دشمنی کے گل کھلانا شامل ہے۔ اس تناظر میں بھارت کو یہ کھلا سچ اپنے مدنظر رکھنا چاہئے تھا کہ امریکہ جس طرح پاکستان کے لئے قابل اعتماد نہیں اسی طرح بھارت کے لئے بھی قابل بھروسہ نہیں ہو سکتا۔ رہ گیا عوامی جمہوریہ چین تو اس کا طرز عمل اور پالیسیاں سمجھنے میں بھی بھارت تاحال غلطی کر رہا ہے۔

اب بھارتی حکمرانوں کے لئے ایک اور مشکل آن پڑی ہے کہ چین پاکستان کی دفاعی اور اقتصادی فرنٹ لائن کا روپ بھی بتدریج اختیار کرتا چلا جائے گا۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے مضمرات اور شواہد سے یہ حقیقت عیاں و بیاں ہو گئی ہے کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ہیں اور وہ دن دور نہیں جب چین سارک تنظیم میں بھی شمولیت اختیار کر کے بھارت کے علاقائی چوہدری ہونے کا طلسم توڑ دے گا۔ اگر ایسا ہوا تو پھر بھارت کے لئے اپنی خارجہ پالیسیوں کے خدوخال ازسر نو مرتب کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو گا۔ پھر دنیا بھارت کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر پاکستان کی خارجہ کامیابیوں کا دم بھرنے لگے گی۔

----------------------
 

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند