تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وادی حلیمہؓ میں ایک شام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 21 ذیعقدہ 1440هـ - 24 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 28 رجب 1436هـ - 17 مئی 2015م KSA 09:40 - GMT 06:40
وادی حلیمہؓ میں ایک شام

نشانات ارض مقدس کے بارے میں تحقیقی سفر کے دوران نماز جمعہ طائف میں ادا کرنے کے بعد ہم وادی حلیمہؓ روانہ ہوئے۔طائف سے الباحۃ شاہراہ پر58کلو میٹر کے فاصلے پر وادی حلیمہؓ ایک دل کش اور پر فضا پہاڑی وادی ہے۔ یہ وہ مقدس جگہ ہے کہ جہاں حضرت محمدﷺ کی رضائی والدہ محترمہ حضرت حلیمہ سعدیہؓ نے آپ کو بچپن میںکئی سال تک دودھ پلایا اور پرورش کی۔ شرفائے مکہ کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لیے دیہاتی علاقوں میں آباد عرب قبائل میں بھیج دیتے تھے۔ اس خدمت کے عوض ان قبائل کو معقول معاوضہ مل جاتا تھا۔ حضرت حلیمہ طائف کے گائوں الشو حطۃمیں رہتی تھیں۔اسی گائوں میں رسول پاک ﷺ کا با برکت بچپن گزرا۔ آپ نے ابتدائی چار سال یہاں گزارے۔ بی بی حلیمہ کی بیٹی شیماء بھی ننھے حضورﷺکے ساتھ اسی گائوں کے سبزہ زاروں میں پھرا کرتی تھی۔

وادی حلیمہؓ جانے کے لیے ہم طائف سے الباحۃ Al Bahah شاہراہ پر 53 کلو میٹر سفر کرتے ہوئے مرکز شقصان پہنچے وہاں سے دائیں ہاتھ ایک 40 فٹ چوڑی پختہ لنک روڈ پر مزید 13 کلو میٹر سفر کے بعد الشوحطۃ (Al shohata) پہنچے۔ یہی علاقہ وادی حلیمہؓ ہے۔ اس لنک روڈ پر بھیڑ ،بکریوں کے ریوڑ اور خودرو پودے اور جنگلی کیکر کے درخت کثرت سے ہیں۔اکثر جگہ اونٹ بھی پائے جاتے ہیں۔الشوحطۃ میں حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ کے گھرکی اہم زیارت گاہ کو ڈھونڈنا آسان نہیں۔مقامی بلدیہ کی جانب سے اسے محفوظ بنانے کے لیے کوئی کاوش نظر نہیں آتی تاہم مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت اس تاریخی جگہ کی نشاندہی کی اوریہاں رہائش پذیر ایک پاکستانی منظور احمد نے ہمیں رہنمائی دی۔حضرت حلیمہ سعدیہؓ کا گھر ایک پہاڑی ڈھلوان پر تھا۔ گھر کا باقاعدہ کوئی نشان نہیں تا ہم اس دور میں جہاں ان ؓ کا گھر تھا وہاں تین کمروں کی نشاندہی کر کے پتھروں کی ڈیڑھ فٹ تک کی عارضی دیوار بنا دی گئی ہے۔ہر کمرے کے دروازے کی جگہ پر داخلے کا راستہ بھی ہے۔دو کمرے تقریباً 8x10 فٹ سے بڑے نظر نہیں آتے۔جبکہ ایک کمرہ تقریباً 6x8 فٹ ہے۔

دو کمروں کے پتھریلی فرش پر پانچ پانچ مصلیٰ (جائے نمازیں) جبکہ چھوٹے کمرے میں دو مصلے بچھانے کی جگہ تھی۔ ان کے گھر سے کچھ فاصلے پر کشادہ جگہ با جماعت نماز کے لیے بھی مسجد کی جگہ بنائی گئی ہے اور یہاں کئی مصلے بچھے ہوئے ہیں۔ اس مسجد کی کوئی چار دیواری یا چھت نہیں ہے۔ منظور احمد نے ہمیںوہ جگہ بھی دکھائی جہاں آپﷺ جب اپنی رضائی بہن شیما اور دوسرے بچوں کے ساتھ اس پہاڑی وادی میں کھیل رہے تھے تو" شق صدر" یعنی سینہ چیرنے کا واقعہ پیش آیا۔یہ جگہ حلیمہ سعدیہؓ کے گھر کے قریب واقعہ پہاڑی چوٹی سے تقریباً سو فٹ سے زائد گہرائی پر واقع ہے۔مذکورہ" شق صدر" والی جگہ کی حد بندی بھی پتھروں سے کی گئی ہے۔

پہاڑ کی چوٹی پر وہ جگہ اب بھی ہے جہاں سے رضائی بہن شیما اور دوسرے بچوں نے آپ ﷺ کا سینہ چاک ہونے کا منظر دیکھا اور پھر پریشان ہو کربچوں نے یہ واقعہ حضرت حلیمہ سعدیہؓ کو بتایا۔ روایات کے مطابق جب حضور پاکﷺ اپنی رضائی بہن کے ساتھ گھر کے پچھواڑے میں کھیل رہے تھے کہ دو سفید پوش آدمی(جو کہ فرشتے تھے) آئے انہوں نے آپ کو زمین پر لٹا کرپیٹ چاک کیا اور کچھ نکال کر پھینک دیا اس عمل کے بعد انہوں نے پیٹ کو دوبارہ ٹھیک کر دیا۔ سید ابو اعلیٰ مودودی سیرت سرور عالمؐ میں لکھتے ہیں کہ انبیائے علیہ السلام کے ساتھ ایسے بے شمار عجیب واقعات پیش آتے ہیں جن کی کوئی توجہہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ معتبر روایات کی رو سے دو مرتبہ نبی کریمﷺ کے ساتھ ایسا ہوا۔

ایک مرتبہ بچپن میں،جبکہ آپﷺ عمر کے چوتھے سال میں تھے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے آپ کا دل چیرا اور اس سے وہ حصہ نکال دیا جو ہر انسان کے اندر ہوتا ہے، پھر اسے آب زم زم سے دھو کر بند کر دیا۔
(صحیح مسلم، حدیث 261/162)

دوسرے مرتبہ معراج کے موقع پر۔ اس موقع پر آپ کا سینہ مبارک چاک کر کے دل نکالا گیا، اسے آب زم زم سے دھو کراپنی جگہ رکھ دیا گیا اور اسے ایمان وحکمت سے بھر دیا گیا۔(صحیح بخاری حدیث349،صحیح مسلم حدیث164،تفسیر احسن البیان ،اردو) آپ کو جس جگہ لٹا کر سینہ چاک کیا گیا اس مقام کو پہاڑ کی چوٹی سے دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پتھروں کے درمیان اس جگہ پر زمین کی چمکدار خاکستری مٹی سے لپائی کی گئی ہے۔جب قریب جا کر اس جگہ کو دیکھا تو اس چمکدار خاکستری جگہ پر باریک پہاڑی پتھروں کی تہہ جمی ہوئی ہے اس جگہ دو مصلے بچھے ہیں۔

ہم نے نوافل ادا کئے اور بعد میںاس جگہ لیٹ کر سنت پوری کی۔ اس مقام پر پہنچنے کے بعد ایک گونا گوں سکون اور اطمینان کی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک انتہائی منفرد روحانی تجربہ ہے۔ حضرت حلیمہ سعدیہؓ کی اس وادی کے احاطے میں قبرستان بھی ہے جس میں بنی سعد قبیلے کی پرانی قبروں کے نشانات اب بھی موجود ہیں۔اس قبرستان کو چاردیواری کے بعد ایک گیٹ لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔اس وادی حلیمہ سعدیہ ؓ میں اب کسی کی باقاعدہ رہائش نہیں ہے تا ہم وادی سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ایک پہاڑی چوٹی پر مخصوص نسل کی بھیڑوں کا فارم بنا ہوا ہے۔ وادی حلیمہ سے ذرا آگے دائیں جانب الشوحطۃ قصبے میں پختہ مکانات اور شہری سہولتیں نظر آتی ہیں۔وادی حلیمہ کا یہ مخصوص حصہ کسی بھی محقق یا راہ گزر کو ماضی کے ساڑھے چودہ سو سال کی طرز زندگی کو سمجھنے میں بڑی معاونت کرتا ہے۔
----------------------

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند