تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان میں ’’را‘‘ کی مداخلت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 28 رجب 1436هـ - 17 مئی 2015م KSA 09:38 - GMT 06:38
پاکستان میں ’’را‘‘ کی مداخلت

پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی قوتیں، قانون نافذکرنے والے اور سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی ، تخریب کاری اور سبوتاژ کی کارروائیوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ملوث ہے۔ ہمارے ادارے کے پاس یقیناً اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہوں گے ۔انہی ثبوتوں کی بنیاد پر حکومت اور مسلح افواج کے انتہائی ذمہ دار لوگ ’’را‘‘کوملوث قراردے رہے ہیں۔ ان کی اس بات کو جھٹلانے کا کوئی جواز بھی موجود نہیں ہے کیونکہ بین الاقوامی اور علاقائی سیاست کے تناظرمیں چیزوں کودیکھا جائے توحالات ان کے اس موقف کی تائیدکرتے ہیں۔ پاکستان میں بدامنی اور عدم استحکام کا فائدہ بھارت سے زیادہ کسی اور کو نہیں پہنچتا۔ لیکن ہمیں بحیثیت قوم اس بات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے جو اگلے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس میں متعدد ارکان نے سانحہ 13مئی کی مذمتی قراردادپر خطاب کرتے ہوئے کہی۔وہ بات یہ ہے کہ جب تک ہمارے اپنے لوگ ’’را‘‘کی مدد نہ کریں تب تک’’را‘‘پاکستان میں کارروائیاں نہیں کرسکتی۔ سندھ اسمبلی کے ارکان نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ’’را‘‘کے مقامی ایجنٹس کوبے نقاب کرکے ان کے خلاف عبرتناک کارروائی کی جائے۔

دہشت گردی کے واقعات میں ــ’’را‘‘ اور ’’غیر ملکی ہاتھ‘‘ کی باتیں پاکستان میں بہت پہلے سے کی جارہی ہیں۔ سابق فوجی حکمراں جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا آغاز ہوا۔ اسی زمانے میں ہی یہ بات بہت زیادہ کی جانے لگی تھی کہ دہشت گردی میں ــ’’را‘‘ ملوث ہے۔ کراچی کے بوہری بازار صدر میں دہشت گردی کا بدترین واقعہ رونما ہوا تھا۔

بم دھماکے میں 200 سے زائد بے گناہ افراد شہید ہوگئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد ضیاء الحق نے ٹی وی پر آکر خود یہ کہا تھا کہ’’را‘‘ اس واقعے میں ملوث ہے۔ اس زمانے میں طالبان اور ان جیسی تنظیمیں نہیں تھیں، جو آج کل بڑے بڑے واقعات کی ذمہ داری قبول کر لیتی ہیں اور اس قبولیت کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں کے پس پردہ اصل قوتوں کی نہ صرف مزید پردہ پوشی ہوتی ہے بلکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ ضیاء الحق کے زمانے میں صرف غیر ملکی ہاتھ ہوتا تھا۔ ہر کارروائی غیر ملکی ہاتھ کے کھاتے میں ڈالنے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی ذمہ داری ختم ہوجاتی تھی۔ اس زمانے میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ــ’’را‘‘ اور غیر ملکی ہاتھ کی وجہ سے بے گناہ لوگوں کے قاتلوں اور دہشت گردوں کو نہیں پکڑا جائے گا۔ اس طرح ضیاء الحق کے دور میں دہشت گردی پروان چڑھتی رہی اور آج یہ دہشت گردی ایک عذاب بن چکی ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیاں غیر ملکی ہاتھ کے کھاتے میں ڈالنے سے پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں دن بدن مضبوط ہوتی گئیں۔ پاکستان کے سیاسی فیصلے دہشت گرد کرنے لگے اور دہشت گردوں سے بعض قوتوں کا مخصوص اور سیاسی مفاد وابستہ ہوگیا۔ اس مفاد کی وجہ سے یہ قوتیں دہشت گردی کے خاتمے میں رکاوٹ بنی رہیں۔ اب ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

اس وقت حالات یقینا بہت مختلف ہیں۔ اب ملک کو حقیقی خطرات درپیش ہیں۔ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خاتمے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں یا دہشت گردی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی سمت شعوری یا لاشعوری طور پر درست نہیں تھی۔ ان دونوں طالع آزما حکمرانوں کو یہ علم تھا کہ دہشت گردی کی وجہ سے سیاسی قوتیں کمزور ہورہی ہیں۔ یہ بات ان کے فائدے میں تھی لہٰذا انہوں نے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کے درست اہداف کا تعین نہیں کیا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے ختم نہ ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کچھ قوتوں کے سیاسی مفاد میں تھی۔

کراچی کو خاص طور پر جمہوری حکومتوں، جمہوری عمل اور پاکستان کے سیاسی ومعاشی استحکام کے لئے مستقل خطرہ بنادیا گیا۔ دہشت گردی سے سیاسی فائدہ اٹھانے والی مخصوص قوتوں نے کبھی اس بات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں اب غیر ملکی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگی ہیں اور وہ بین الاقوامی سیاست میں بڑے کھلاڑیوں کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔ پاکستان میں پہلی دفعہ عسکری قیادت نے پوری سنجیدگی کے ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کیونکہ موجودہ عسکری قیادت کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ اس وقت اگر ’’را‘‘ یا ’’غیر ملکی ہاتھ‘‘ کی بات کی جارہی ہے تو یہ ماضی کی باتوں سے بہت مختلف ہے۔ ملک دشمن قوتوں نے پاکستان کے داخلی محاذ کو اپنا مکمل طور پر جنگی محاذ بنادیا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ جب تک مقامی لوگوں کی مدد نہ ہو، کوئی غیر ملکی یا بیرونی ادارہ سبوتاژ، تخریب کاری یا دہشت گردی کی کارروائیاں نہیں کرسکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ مقامی ایجنٹس پر گرفت مضبوط کی جائے۔ دہشت گردی کی کارروائیاں جس قدر بڑے پیمانے اور منظم طریقے سے ہورہی ہیں ان کی منصوبہ بندی کے پس پردہ بڑے ادارے کام کر رہے ہیں یہ کسی عام دہشت گرد گروہ یا تنظیم کی کارروائی نہیں ہے۔

دہشت گردی کی کارروائیوں کے وقت کا جس طرح انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کارروائیوں کے اہداف کیا ہوتے ہیں اور ان اہداف سے کس کو فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ کراچی کے علاقے صفورا چوک پر اسماعیلی برادری کی بس پر حملہ اسی دن کیا گیا، جب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اسلام آباد میں پاک چین راہداری پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کی تھی۔ اس سے ایک دو روز قبل زمبابوے کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور طویل عرصے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ہورہی تھی۔ حملہ ایک ایسی کمیونٹی پر کیا گیا، جس کا پاکستان کی تعمیر وترقی میں بہت اہم کردار ہے اور جس کمیونٹی نے پاکستان میں مستقبل کے لئے بڑی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ یہ حملہ پاکستان کے استحکام، یکجہتی اور روشن مستقبل پر حملہ تھا۔ اسی طرح دہشت گردی کی ہر کارروائی کے وقت اور حالات سے پاکستان دشمن قوتوں کے عزائم کو سمجھا جاسکتا ہے۔

پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ’’را‘‘ سمیت ملک دشمن قوتوں کے خلاف جو کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے، اسے ماضی کی روایتی باتوں سے تعبیر نہ کیاجائے۔ عوام کو بھی پہلی مرتبہ یقین ہوا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں والی یہ باتیں نہیں ہیں۔ پاکستان تبدیل ہوچکا ہے۔ پاکستان کے اداروں کا ’’ڈاکٹرائن‘‘ تبدیل ہوچکا ہے۔ اب ایک حقیقی پاکستان وجود میں آرہا ہے، جو اپنی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور قومی تقاضوں سے ہم آہنگ ہورہا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی قوم متحد ہوچکی ہے۔ غیر ملکی ہاتھ اب زیادہ دیر یہاں اپنی کارروائیاں نہیں کرسکے گا۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند