تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خطے میں داعش کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 29 رجب 1436هـ - 18 مئی 2015م KSA 13:55 - GMT 10:55
خطے میں داعش کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ

پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں گزشتہ دنوں اسماعیلی کمیونٹی کے افراد کی بس پر کئے گئے دہشت گردانہ حملے جس میں 44 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے، میں شدت پسند تنظیم داعش (ISIS) کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنم لینے والی اس تنظیم نے پاکستان میں اس طرز کا کوئی بڑا حملہ کیا ہے۔ رواں سال جنوری میں اس شدت پسند تنظیم نے پاکستان اور افغانستان کے علاقوں کو اپنا صوبہ خراساں قرار دیتے ہوئے اس میں اپنی ایک شاخ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری پاکستانی عسکری گروہ جند اللہ نے بھی قبول کی ہے جس کے داعش سے قریبی تعلقات پائے جاتے ہیں۔

سیکورٹی ایجنسیوں نے اس سانحہ میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کا عندیہ بھی دیا ہے لیکن تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ واضح رہے کہ 2013ء میں اسماعیلی کمیونٹی کے جماعت خانوں کو کراچی میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور انہیں اجتماع کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لشکر جھنگوی کے ابوہریرہ گروپ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر کمیونٹیزپر حملوں میں ملوث ہیں۔ کچھ عرصے سے یہ گروہ داعش کی شاخ کی حیثیت سے کام کررہا ہے اور اس گروپ کے کچھ افراد کچھ ماہ قبل ٹریننگ حاصل کرنے عراق گئے تھے۔ داعش کو پاکستان کی کئی کالعد م تنظیموں کی حمایت حاصل ہے جن میں تحریک طالبان، جند اللہ، لشکر جھنگوی مبینہ طور پر پیش پیش ہیں ۔ اس سے قبل تحریک طالبان کے ترجمان سمیت اورکزئی، کرم، خیبر اور ہنگو ایجنسیوں کے طالبان کمانڈروں نے بھی داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرکے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

داعش کی سرگرمیوں کیلئے پاکستان اسلئے موزوں ہے کہ اسے یہاں مالی امداد اور بھرتی کے آسان مواقع دستیاب ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے نتیجے میں طالبان اور دہشت گرد پاکستان سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں، اس موقع پر پاکستان میں داعش کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ لمحہ فکریہ ہے تاہم وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار داعش کی پاکستان میں موجودگی سے انکار کرچکے ہیں۔ دنیا بھر کے علمائے کرام نے بھی داعش کے نظریات کو گمراہ کن اور باطل قرار دیا ہے جن کی نظر میں خواتین کو تعلیم کا کوئی حق حاصل نہیں اور جمہوریت حرام ہے جو سراسر غلط ہے لہٰذا یہ مسلم دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم امہ کو بتائیں کہ داعش اسلام دشمن طاقتوں کے مفادات کیلئے وجود میں آئی ہے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہیں اور یہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مصلحتوں اور سیاسی مفادات سے بالاترہوکر اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔

کچھ عرصے قبل تک داعش کے نام سے شاید ہی کوئی واقف ہوگا مگر اس تنظیم نے جس مختصر عرصے میں عراق و شام میں فتوحات حاصل کیں اوروہاں سرکاری افواج کو جس طرح گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، وہ حیران کن بات تھی جس کے بعد داعش کا شمار دنیا کی سرفہرست جہادی تنظیموں میں کیا جانے لگا اور آج یہ تنظیم، القاعدہ سے بھی زیادہ طاقتور تصور کی جارہی ہے۔ داعش کا قیام اْس وقت عمل میں آیا جب القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی وفات کے بعد عراق میں القاعدہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی جنہیں ابودعا بھی کہا جاتا ہے، نے 2011ء میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد اس تنظیم کی بنیاد رکھی اور کسی کی نظروں میں آئے بغیر خاموشی سے ہزاروں القاعدہ اور غیر ملکی جن کا تعلق پاکستان، ازبکستان، ترکمانستان، چیچنیا، یمن اور مصر سے بتایا جاتا ہے، کو تنظیم میں شامل کرکے اْنہیں عراق اور شام کے محاذ پر بھیجا۔

داعش میں شامل ہونیوالے یہ جنگجو انتہائی تربیت یافتہ اور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہیں جو کسی بھی ملک کی مسلح افواج سے مقابلے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر فتوحات کے بعد داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے مفتوحہ علاقوں کو ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنی خلافت کا اعلان کیا اور دنیا بھر کے جہادیوں سے اپیل کی کہ وہ عراق اور شام پہنچ کر خلافت کی تعمیر میں ان کی مدد کریں۔ ابوبکر البغدادی کی جانب سے اسلامی ریاست اور خلافت کے اعلان کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک پر مشتمل ایک نقشہ بھی جاری کیا گیا جسے ’’اسلامی ریاست‘‘ قرار دیا گیا۔ایک اندازے کے مطابق مغربی ممالک بالخصوص برطانیہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 سے زیادہ نوجوان داعش میں شمولیت اختیار کرکے عراق اور شام میں جہاد میں سرگرم عمل ہیں اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ داعش میں نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شمولیت کی اہم وجہ سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پرموجود مذہبی اور جہادی مواد ہے جسے پڑھ کر امریکہ، کینیڈا، یورپ اور دیگر ممالک کے نوجوان اس کی جانب راغب ہورہے ہیں۔

نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی رغبت کی بڑی وجہ امریکہ اور یورپی ممالک کا مسلمانوں کیساتھ بڑھتا ہوا مذہبی تعصب بھی ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ 200 سے زائد بھارتی مسلمان داعش میں شمولیت اختیار کرکے عراق اور شام جاچکے ہیں جبکہ تیونس، الجزائر اور مراکش سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں نوجوان لڑکیاں عراق اور شام میں جہاد میں سرگرم نوجوانوں کے بچوں کی ماں بننے کیلئے داعش میں شمولیت اختیار کررہی ہیں۔ مغربی حکومتیں موجودہ صورتحال سے انتہائی پریشان ہیں جس سے نمٹنے کیلئے وہ نئے قانون لاگو کررہی ہیں جسکی رو سے اگر اْن کا کوئی شہری داعش کیساتھ سرگرم عمل پایا گیا تو اسکی شہریت اور پاسپورٹ منسوخ کردیا جائیگا۔ تحریک طالبان کی داعش میں شمولیت اور داعش کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں یقینا لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ مغربی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی نوجوانوں کو جہاد کی غرض سے بیرون ملک جانے سے روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے اور ملک میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ مستقبل قریب میں پاکستان بھی داعش کی سرگرمیوں کا گڑھ بن جائے۔

گزشتہ دنوں کراچی میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی المنائی کے سندھ چیپٹر جس کا میں بھی رکن ہوں، نے ’’امن، سیکورٹی اور گورننس‘‘ پر ایک نہایت اہم کانفرنس منعقد کی جس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سربراہ میجر جنرل نوئیل، پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمن، نثار کھوڑو، نوید قمر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) وسیم غازی، سابق وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر، سابق آئی جی سندھ شعیب سڈل کے علاوہ مختلف ممالک کے سفارتکار، بزنس کمیونٹی کے لیڈرز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے کراچی میں دہشت گردی کی وجوہات اور اس پر قابو پانے کیلئے اہم تجاویز پیش کیں۔ کانفرنس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کا خطاب نہایت اہمیت کا حامل تھا جس میں کئے گئے ان کے تجزیئے سے میں 100 فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ کور کمانڈر نے اپنے پالیسی بیان میں کہا کہ ملک بالخصوص کراچی میں امن کیلئے ہمیں متوازی حکومتوں اور طاقت کے مراکز کا خاتمہ کرنا ہوگا، پولیس اور انتظامیہ کو آزاد ہونے کی ضرورت ہے، کراچی شہر میں منشیات فروشوں سے لیکر القاعدہ تک کے ڈیرے ہیں، وائٹ کالر دہشت گردوں اور ان کی مالی معاونت کرنیوالے گروہوں کا ہر صورت میں خاتمہ کرنا ہوگا، سیاست کو تشدد سے پاک اور میڈیا کو خوف سے آزاد ہونا چاہئے، سیاسی و انتظامیہ نااہلی سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے ۔

کراچی میں سیاسی سرگرمیوں اور دہشت گردی میں فرق ختم ہوگیا ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے اندر سے عسکری ونگ اور جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کریں۔ کور کمانڈر کا کہنا تھا کہ ہم دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں، اغواء کاروں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف لڑرہے ہیں۔ شہر کراچی جو ملک کو 65فیصد ریونیو کماکر دیتا ہے، میں لینڈ مافیا اور ٹینکر مافیا بھی سرگرم ہیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے ہم انشاء اللہ جلد ہی ان تمام پیچیدہ معاملات کو حل کرلیں گے کیونکہ ہمارے پاس آپریشن کی ناکامی کا آپشن نہیں۔ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کے خطاب کے بعد ہم نے انہیں یقین دلایا کہ انشاء اللہ ہم سب مل کر اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے کیونکہ یقینا ہمارے پاس ملکی بقاء کیلئے اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں۔

---------------------

بشکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
 

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند