تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اُسامہ بن لادن کا’’ گڑا مردہ‘‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 24 ذوالحجہ 1441هـ - 14 اگست 2020م
آخری اشاعت: بدھ 1 شعبان 1436هـ - 20 مئی 2015م KSA 10:16 - GMT 07:16
اُسامہ بن لادن کا’’ گڑا مردہ‘‘

محبت اور جنگ دو متضاد چیزیں ہی، محبت کا نستعلیق پہلو سچ کا اجاگر ہونا جبکہ جنگ سچ کا بہیمانہ قتل۔ گو دنیا کی تقریباََ 3000 سالہ انسانی تاریخ جھوٹ ، فریب، پرکاری، ظلم زیادتی سے آراستہ پیراستہ ہے مگر ’’ دہشت گردی کے خلاف موجودہ جاری وساری امریکی جنگ‘‘ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا جھوٹ بن چکی ۔ A Biggest Lie on Earth : War on Terror ۔سانحہ 9/11، جس کے طفیل امریکی شہر نیو یارک میں امریکی جاہ وجلال کی طاقتور نشانیاں ، ’’ورلڈ ٹریڈ سنٹر‘‘ کے نام سے موسوم آسمان کو چھوتے دو ٹاورز زمین بوس ہوئے، بظاہروجہ دو بوئنگ جہازوں کا ٹکرانا جانی گئی۔ 11ستمبر2001کے نتائج پوری مسلمان دنیا آج تک بھگت رہی ہے۔ کئی جہتوں اور مدوں میں قیمت چکا چکی ہے مگر تکلیف کا لامتناہی سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آرہا۔

پشاور میں نونہالوں کا خون ہو یا کراچی سانحہ صفورا، دھماکے ہوں یا خودکش حملے، ڈرون ہوں یاکراچی تاخیبر آپریشنز سب کچھ وار آن ٹیرر کے تناور درخت سے انواع اقسام کی پھوٹتی شاخیں ہیں ۔ ورلڈ ٹریڈسینٹر (WTC) کے زمین بوس ہونے کی گرد اور غبار کوامریکی صدر بش نے غنیمت جا نا، چھوٹتے ہی ملبہ اُسامہ بن لادن اور القاعدہ نامی ایک انتہائی غیر معروف تنظیم پر ڈال دیا۔ایک گھنٹے کے اندر اندر، ایک ہی سانس میں بتا گئے کہ سارا منصوبہ ’’تورابورا‘‘ میں اُسامہ بن لادن کی نگرانی میں تیار کیا گیا۔ 18 عرب نوجوانوں نے بوئنگ اڑانے کی مہارت حاصل کی اور ایک وقت میں 4 جہاز اغوا کر کے امریکی جاہ وحشمت خاک میں ملا دی۔

امریکہ کا بیان کردہ موقف من وعن قبول کرنا پڑا۔ ہولوکاسٹ کی طرز پر گھڑا ’’گھنائوناسچ‘‘ مقدس جانا گیا، ہر قسم کی تنقیدی نظر، سطحی تفتیش ، معائنہ مشاہدہ کی تفصیلات سے مستثنیٰ ومبرا رہا۔ سرکاری سطح پر امریکہ میں ایک کمیشن ضرور تشکیل پایا۔ پوری رپورٹ شک اور شائبے کے دائرے وسیع کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہ دے سکی، تضادات کا ایک مجموعہ رہی ۔ رپورٹ کے فنی پہلوئوں کی گہرائی میں جب بھی، جتنا بھی جھانکا کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ اصل راز تھاکیا؟ اس وقت موضوع یہ نہیں صرف اجمالاً ذکراس لئے کہ جھوٹ ابھی بھی پھل پھول رہا ہے۔ چند دن پہلے سکہ بند، امریکی صحافی سیمورہرش کی ایک دھماکہ خیزرپورٹ نے ایبٹ آباد آپریشن کے اوپر نئے سوالات کھڑے کر دئیے۔ اُسامہ بن لادن کے گڑے مردے کو اکھاڑنے کی نئی کوشش ہماری عسکری قیادت کی ہزیمت اور سبکی میں نئے اضافہ کا باعث بن چکی ہے۔

سیمور ہرش کے حالیہ مضمون سے میری غرض اتنی کہ پچھلے چار سال پہلے رچائے جانے والے اُسامہ ڈرامہ پریہ پانچویں کہانی ہے جو منظر عام پر آئی ہے چونکہ جھوٹ کے پائوںنہیں، ہر کہانی بن کھلے مرجھا جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جلد یا بدیر اصل کہانی مستحکم ہو کر سامنے ضرور آئے گی۔

سیمور ہرش ایک بڑا صحافی ضروراور ایسی کہانیوں کو اجاگر کرکے ایک نام بھی کما چکا ہے مگر پاکستان کے بارے میں بغض اور عنادبھی ڈھکا چھپا نہیں۔بدقسمتی سے اُسامہ بن لادن کی کہانی پہلے پیراگراف سے اختتام تک جھوٹ کے سوا کچھ بھی ثابت نہیں کرتی ۔
اس میں کوئی باک نہیں کہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا اُسامہ بن لادن کی زندگی اور موت کے پل پل اور سانس سانس کے واقف حال مگر اصل واقعہ وہ نہیں جو ہرش پیش کر رہا ہے۔ آج تک آنے والی پانچوں کہانیوں میں سینکڑوں چھیدہی ملیں گے۔ پاکستانی قیادت کواتنا کریڈٹ ضرور کہ کمیشن کی تشکیل میں دیر نہ ہوئی۔ مضحکہ خیز صرف اتنا کہ کمیشن بیانات اور شہادتیں قلمبند کرنے کے آگے صرف اس لئے نہ بڑھ سکا کہ شرمندگی کے علاوہ کچھ بھی تو نہ تھا۔ کہاں گئے اُسامہ کے اہل خانہ جات بمع بچہ جات، اُسامہ کا بندوق لے کرمیرین پر چڑھ دوڑنا؟ اور پھر جواب میں میرین کا دفاع میں اُسامہ کو قتل کرنا، سب کچھ مزاحیہ ہی تو ہے۔ سیمور ہرش نے ڈاکٹر عامر عزیز کا ذکرتوخیربہت ہی بھونڈے انداز میں کیا ، بلکہ ڈاکٹر عامر کے بارے میں بنیادی معلومات ہی غلط۔ اسی سے ان کی ناواقفیت اور جہالت ثابت ہو جاتی ہے۔

ذکر ڈاکٹر عامر عزیز کا آہی گیا تو ایک ٹوٹی پھوٹی کہانی کا میں بھی حصہ۔ 2002ء میں امریکی رعونت چار سو، 20 اکتوبر 2002ء کی ایک رات اچھی طرح یاد ہے جب ڈاکٹر عامر عزیز کا مجھے فون آیا ۔ آواز میں گھبراہٹ اور خوف نے مجھے بھی پریشان کر ڈالا۔ ڈاکٹر عامر عزیز کو امریکیوں نے طلب فرمایا تھا اور اس زمانے میں امریکی بلاوا گوانتانامو بے کا ون وے ٹکٹ ہی تھا۔ ڈاکٹر عامر عزیز میرے ذریعے عمران خان کی مداخلت کے متمنی تھے۔ کہانی لمبی، مختصراََ اگلے دن ڈاکٹرعامر کو امریکیوں نے اپنے تصرف میں لے لیا۔ڈاکٹر عامر عزیز کا امریکیوں کے قبضے میں جانا، پورے ملک کو صدمے ، بے عزتی اور تکلیف سے دوچار کر گیا ، پورے ملک میں شوروغوغا مچا رہا۔ چار ہفتے بعد ڈاکٹر عامر عزیز بخریت اچانک واپس گھر پہنچ گئے۔ اس رات ڈاکٹر عامر عزیز کے گھر جشن کا سماں ، نئی زندگی ملنے پر سارے عزیزواقارب کا ایک عظیم اجتماع تھا۔

ڈاکٹر صاحب میرے بھائیوں کی طرح، گھریلو تعلقات اس پر مستزاد،میں بھی مع اہل وعیال خوشی کے لمحات میں برابر کا شریک تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس شام کے دلہا سب نے ان کو مستقل اپنی نظروں میں دبوچ رکھا تھا ۔ میں نے ایک بات غیر معمولی نوٹ کی جو آج شیئر کر رہا ہوں کہ ڈاکٹر عامر عزیز کے چہرے پر طمانیت ، اطمینان اور نارمل زندگی کے آثاربھلے لگ رہے تھے۔ ملال نہ تھکاوٹ ، اچنبھے کی بات ہی لگی، بہرحال معاملہ آہستہ آہستہ قصہ پارینہ ، ایک گتھی تھی جو سلجھے بغیر میرے ذہن سے محو ہو گئی۔ چند سالوں بعد ایک اہم جرنیل کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں پہلی دفعہ یہ انکشاف ہوا کہ ’’اُسامہ بن لادن جہان فانی سے بوجہ طبعی موت رخصت ہوئے، ساتھ ہی پتہ چلا کہ ڈی این اے کی رسمی کارروائیوں کے بعد اُسامہ کا جسد خاکی امریکیوں کی تحویل میں دے دیا گیا‘‘۔ زیادہ حیرت اس لئے نہ ہوئی کہ صدر بش ، صدر مشرف، صدر حامد کرزئی اور مختلف سیاسی وعسکری اکابرین دبے لفظوں میں اُسامہ کی موت کا برملا اظہار کر رہے تھے۔

دنیا کے ہرفورم پرتسلسل سے دہرایا جا رہا تھا۔ صدر بش نے تو القاعدہ کے رسمی خاتمے کا اعلان بھی فرما دیا۔ جبکہ اُسامہ کےمعاملے میںبھی دلچسپی نہ ہونے کے برابر۔ایک وجہ تو ان کا دوسری دفعہ کا صدارتی الیکشن افغانستان عراق جنگ نے آسان بنا دیا چنانچہ صدر بش کی زندہ یا مردہ اُسامہ یا القاعدہ سے عدم دلچسپی بنتی تھی۔ 2008ء میں جب بارک اوباما امریکی صدر منتخب ہوئے تو اُسامہ کے جسد خاکی اور القاعدہ کے ڈھانچے میں نئی روح پھونکنے کی تگ ودو دوبارہ نمودار ہوتی دکھائی دی۔

صدر اوباما نے مارچ 2009ء کے شروع ہی کی تقریر میںجب یہ انکشاف کیا کہ القاعدہ امریکہ میں نئے حملے کی تیاری کر رہی ہے اور اُسامہ بن لادن پاکستان کے قبائلی علاقے میںچھپا ہواہے ۔عین اس موقع پر پاکستان میں ڈرون کارروائیاں بڑھانے کا اعلامیہ بھی جاری ہوا۔ دھماکے، خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ، مساجد، مزارات، امام بارگاہوں، سری لنکا ٹیم، مناواں ، GHQ ، کراچی بیس، غرضیکہ پاکستان کے اندر زمینی کارروائیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ جنگ کی اس تندی اور تیزی نے کئی امریکی محققین اور اسکالرزکواُسامہ بن لادن اور القاعدہ پر تحقیق اور نئے سرے سے تہہ تک پہنچنے کے لئے اُکسایا۔

پروفیسر ڈیوڈگرفن (David Ray Griffin) نے ردعمل میں دوبارہ سے اپنے حقائق کو اکھٹا کیا اور نئے سرے سے جوڑا، 2009 میں معرکۃ الآرا کتاب (Is Osma Bin Laden Dead or Alive ?) ایک جامع تحقیق اور ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہے ۔ ڈیوڈگرفن کی تحقیق نے مجھے بھی اپنے ٹوٹے پھوٹے حقائق وشواہد کو دوبارہ دیکھنے کی تحریک دی ۔

نئی تگ ودو نے مجبور کیا کہ ڈاکٹر عامر عزیز سے رابطہ قائم کرکے اگر فقط اتنا ہی معلوم ہوپائے کہ ’’ چند سال پہلے دوران تفتیش امریکی آپ سے کیا غرض رکھتے تھے‘‘ ۔ ڈاکٹر صاحب کی محبت کہ مصروفیت کے باوجود تفصیل سے ملاقات کا موقع دیامگر میرا سوال تشنہ طلب ہی رہا کہ کمال مروت سے جواب گول کرگئے ۔ معلوم نہ ہوسکا کہ ’’ کیا امریکی ان سے اُسامہ کی موت یا صحت کے بارے معلوم میں کرنا چاہتے تھے ؟‘‘ اور یہ جاننا چاہتے تھے کہ اُسامہ کی موت کے بارے میں قیاس آرائیاں ملک کے طول وعرض میں کتنی عام ہیں؟ڈاکٹر صاحب کی عدم دلچسپی نے میرے تجسس کو ساتویں آسمان پرتو ضرور پہنچادیا مگراپنی کڑیوں کو جوڑنے میں ان کی مددحاصل کرنے میں مکمل ناکامی رہی۔ البتہ ڈیوڈ گرفن کی بات کی توثیق اور اپنی تسلی کے لئے اُس وقت کے حاضرسروس سینئر آفسروں سے جب دوبارہ تصدیق چاہی تو بغیر لفظ چبائے انہوں نے وہی کچھ کا اعادہ کیا جو چند سال پہلے فرما چکے تھے۔ ڈیوڈ گرفن کی تحقیق کا محور اتنا ہی کہ امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے اورپاکستان میں انارکی اور افراتفری کے لئے نیا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ چنانچہ 2009ء میں صدر اوباما کا نئے سرے سے اُسامہ کا گڑا مردہ اکھاڑنا القاعدہ میں جان ڈالنا اور ڈرون حملوں سمیت پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی، مقصد افراتفری، انارکی، خانہ جنگی سے پاکستان کو کمزور رکھنا تھا۔

چنانچہ سیمور ہرش کی حالیہ کہانی ہو یا صدراوبامہ کی ایبٹ آباد ڈرامہ پر، پانچ گھنٹے بعدہی امریکی قوم کو بتائی گئی کہانی یاپھر اگلے دن جان برینن John Brennan مشیر برائے قومی سلامتی کی ترمیمی کہانی جس نے اوباما کی کہانی کوسر پیر دینے کی کوشش کییا Robert O’ Neill کی فرضی نام (Mark Owen) سے لکھی گئی کتاب No Easy Day یا اسکی تردید میں آئی اس کے ساتھی میرین کی کہانیاں سب جھوٹ کا پلندہ ہی ثابت ہوئیں۔ آج تک جھوٹ کے پائوں تلاش کرنے کی سعی لاحاصل ہی سمجھی جائے۔ اُس وقت کے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اپنی یادداشت “Duty”میں بہت کچھ پردہ چاک کیا ہے، بین السطور میں بہت کچھ مل جائے گا۔ نئی سے نئی کہانی سامنے ضرورآئی مگراصل سچ آج بھی پوشیدہ۔

سانحہ 9/11 کے جھوٹ سے شروع ہونے والی کہانی نے لیبیا کے ساحل سے تابخاک کاشغر امت مسلمہ کی چولیں ضرور ہلا رکھی ہیں مگر سچائی جلد یا بدیر ہر زبان زدعام وخاص پرآکر رہے گی۔ابھی تک تواُسامہ بن لادن کا گڑا مردہ اکھاڑنے کی ہرکوشش نیا جھوٹ کا پلندہ ہی ثابت ہوا ہے ۔ ایبٹ آباد ڈرامے میں اُسامہ بن لادن کا اگر کچھ ہاتھ آیا تو وہ اس کا جسد خاکی ہے جو امریکی اور پاکستان دفاعی اداروں میں پنگ پانگ ضرور بنا رہا، کچھ عرصہ مزید بنا رہے گا۔

---------------------
بشکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
 

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند