تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
معاشی ترقی یا استحکام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 19 ذیعقدہ 1440هـ - 22 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 2 شعبان 1436هـ - 21 مئی 2015م KSA 12:18 - GMT 09:18
معاشی ترقی یا استحکام

یہ امر مسلمہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہونے، بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات کے حجم میں اضافہ ہوتے چلے جانے۔ نجی شعبے کے انتہائی منفعت بخش اداروں کے حصص غیر ملکیوں کو فروخت کرنے۔ یورو بانڈز اورسکو ک بانڈز کا اجراءکر کے تین ارب ڈالر حاصل کرنے اورکچھ دوسرے بیرونی عوامل کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے اور افراط زر گزشتہ دس برسوں میں سب سے کم ہو گیا ہے۔ یہ امر یقیناً خوش آئند ہے کہ معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے ۔کسی بھی بڑے داخلی یا بیرونی جھٹکے سے معیشت کو محفوظ رکھنے، پاکستان کے مادی و انسانی وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے اور خود انحصاری کے زریں اصول اپنا کر 8-10 فیصد سالانہ کی معاشی شرح نمو حاصل کرنے کا وزیر اعظم نواز شریف صاحب کو ایک سنہری موقع ملا ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں چین کی طرف سے پاکستان میں46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی اس ضمن میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

گزشتہ 15 برسوں سے آئی ایم ایف پاکستان کے لئے یہ نسخہ تجویز کرتا رہا ہے کہ پہلے معاشی استحکام حاصل کیا جائے اور پھر معیشت کی شرح نمو تیز کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔ ہم نے 2005ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’’معاشی ترقی اور استحکام ۔سراب یا حقیقت ‘‘میں معیشت کی کارکردگی کا تجزیہ کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ 2000ء سے اپنا یا ہوا یہ نسخہ کارگر ثابت نہیں ہوا ۔ 2008ء اور 2013ء میں بھی پہلے معاشی استحکام اور پھر معاشی ترقی کا آئی ایم ایف کا نسخہ ناکام رہا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ کے انتخابی منشور پر عمل کر کے تیز رفتار معاشی ترقی یقیناً حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ آئی ایم ایف کی شرائط اور وڈیرہ شاہی کلچر پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت کی جو صورتحال رہی وہ حکومتی اعداد و شمار کی روشنی میں یہ ہے۔

1) موجودہ مالی سال میں معیشت کی شرح نمو اور ٹیکسوں کی وصولی کے اہداف حاصل نہیں ہوئے۔ حالانکہ اس مدت میں منی بجٹ بھی آیا۔

2) برآمدات نہ صرف گزشتہ برس سےکم رہیں بلکہ ہدف سے تقریباً دو ارب ڈالر کم رہ سکتی ہیں۔

3) صوبے ٹیکسوں کی مد میں وصولی بڑھانے میں پرجوش نہیں ہیں۔ پنجاب نے اپنی مجموعی ریونیو (آمدنی) کا 11 فیصد اور سندھ نے 17 فیصد موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکسوں کی مد میں وصول کئے جبکہ خیبر پختونخوا نے صرف تقریباً 4 فیصد اور بلوچستان نے صرف 1.3 فیصد وصول کئے۔ تخمینہ ہے کہ چاروں صوبے ترقیاتی اخراجات میں کٹوتیاں کر کے جون 2015ء تک 289 ارب روپے کے فاضل بجٹ دکھلائیں گے تاکہ بجٹ خسارہ قابو سے ہی باہر نہ ہو جائے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وسائل کے ضمن میں خیبر پختونخوا اور سندھ وفاق سے شاکی نظر آتے ہیں مگر ساتھ ہی فاضل بجٹ بھی دکھلاتے ہیں۔

4) موجودہ اور گزشتہ مالی سال میں جنوبی ایشیا کے 8 ممالک میں سے 7 ملکوں کے مقابلے میں پاکستان کی شرح نمو سوائے افغانستان کے سب سے کم رہی۔ عالمی بینک کے مطابق 2016ء میں بھی یہی صورتحال رہے گی۔

5) آئی ایم ایف کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہم ترین معاشی اشاریوں کےلحاظ سے پاکستانی معیشت کی کارکردگی دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں کم تر ہے۔

6) مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب سے پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی اور تعلیمی اخراجات دنیا کے بیشتر ممالک سے کم ہیں۔ پاکستان اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔

اس امر میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے منشور اور آئین پاکستان کی شقوں کے مطابق اگلا بجٹ بنایا جائے تو چند برسں میں مندرجہ بالا خرابیوں پرقابو پا کر 8-10فیصد سالانہ کی ایسی شرح نمو حاصل کی جا سکے گی جس کے ثمرات میں 20کروڑ عوام کو ان کا جائز حصہ ملے۔ چند تجاویز یہ ہیں۔

(i) وفاق اور صوبوں کے بجٹ میں 5 لاکھ روپے سالانہ سے زائد ہر قسم کی آمدنی پر بلا کسی استثنٰی موثر طور سے ٹیکس عائد کیا جائے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہئے پانی ۔بجلی، و گیس پر ٹیکس ہونا ہی نہیں چاہئے ۔پٹرولیم لیوی ختم کر دی جائے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا پورا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے۔

(ii) انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ملک کے اندر موجودہ ایسے اثاثوں کا تعین کیا جائے جو ٹیکس حکام سے خفیہ رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ ان اثاثوں کی تفصیلات بمعہ قومی شناختی کارڈ نمبر ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اگر اس آمدنی پر مروجہ قوانین کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے تو اگلے مالی سال میں دو ہزار ارب روپے کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے۔

(iii) ترسیلات کے ضمن میں ’’کوئی سوال نہ پوچھا جائے‘‘ کی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈی نینس کی 1176ء کو منسوخ کیا جائے۔ ترسیلات میں تیزی سے اضافہ ہوتے چلے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ٹیکس چوری اور لوٹی ہوئی دولت کو ہنڈی کے ذریعے باہر بھیج کر ترسیلات کی شکل میں واپس منگوا کر قانونی تحفظ حاصل کر لیا جاتا ہے۔

(iv) مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب سے مرکز اور صوبے تعلیم کی مد میں 7فیصد ،صحت کی مد میں2فیصد اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں 5.5 فیصد مختص کریں۔

(v) صوبے ترقیاتی اخراجات اور سماجی شعبے کے اخراجات میں کٹوتی کر کے فاضل بجٹ نہ بنائیں۔

(v) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مختص کی جانے والی رقوم کے 80 فیصد کو مائیکرو فنانس سے منسلک کیا جائے۔ اس سے مستحق افراد کو رزق کمانے کے لئے کئی گنا زیادہ رقوم ملیں گی۔

(vi) مسلم لیگ (ن) کے منشور کے مطابق بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات کے50فیصد کو سرمایہ کاری کی طرف منتقل کرنے کی کوششیں کی جائے۔

(vii) وفاق اور صوبوں کے بجٹ آئین پاکستان کی شقوں 3،25 (الف) ،37، (د)،38 ( د، ی اور ف) سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہیں۔ ربوٰ تو حرام ہے ہی سود کو بھی حرام قرار دیا جائے۔

(viii) نج کاری کے ضمن میں مسلم لیگ (ن) کے منشور سے انحرا ف نہ کیا جائے، نج کاری کی رقوم سے بجٹ خسارے کو کم نہ کیا جائے۔

ix) پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں بلوچستان کی اہمیت مسلمہ ہے ۔راہداری کی تعمیر سے روزگار کے زبردست مواقع میسر آئیں گے اور اس راہداری کے تحت منصوبوں سے 2018ء تک بجلی کا بحران کم ہو گا مگر اس سے حقیقی معنوں میں مستفید اگلی نسل ہو گی۔ فی الوقت ضرورت اس امر کی ہےکہ بلوچستان کی ترقی اور مقامی لوگوں کااحساس محرومی دورکرنے کے لئے وفاقی بجٹ میں بھی خصوصی رقوم مختص کی جائیں۔

(x)اگر بھاشا ڈیم اور کچھ درمیانے چھوٹے درجے کے ڈیم بنائے جائیں تو سستی بجلی پیدا کرنے کے ساتھ پانی کا ذخیرہ کرنا بھی ممکن ہو گا جس سے سیلاب کے نقصانات کم ہوں گے اور آب پاشی کے لئے پانی کا ذخیرہ کرنا ممکن ہو گا۔ یہی نہیں ،زیر کاشت رقبہ بڑھا کر ،زراعت کے جدید طریقے اپنا کر اور لائیو اسٹاک و مچھلی کے شعبوں کو ترقی دے کر زرعی شعبے کی جی ڈی پی چھ ہزار ارب روپے سے بڑھا کر پچاس ہزار ارب روپے کرنا ممکن ہو گا جس سے دیہی علاقوں کے 12 کروڑ افراد کی زندگیوں میں انقلاب آ جائے گا اب یہ ازحد ضروری ہے کہ وفاق اور صوبوں کے بجٹ میں خصوصی رقوم مختص کی جائیں تاکہ ان مقاصد کی طرف تیزی سے پیش رفت ہو سکے۔

اگر مندرجہ بالا تجاویز پر عمل کیا جائے جو مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور سے بڑی حد تک مطابقت رکھتی ہیں تو وطن عزیز میں یقیناً خوشحالی آئے گی اس کے ساتھ اچھی حکمرانی کے تصور کو بھی عملی شکل دینا ہو گی۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
 

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند