تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دشمن مرے تے خوشی نہ کریے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م
آخری اشاعت: پیر 6 شعبان 1436هـ - 25 مئی 2015م KSA 12:26 - GMT 09:26
دشمن مرے تے خوشی نہ کریے

ایگزیکٹ اسکینڈل اور بول ٹی وی کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ہمارے لیے سبق حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ سب سے اہم اور سچی بات…… بلکہ اٹل حقیقت جو ہم سب پر ایک بارپھر کس خوبصورتی سے عیاں ہوئی کہ ہم جو مرضی آئے پلاننگ کریں، سازشیں بُنتے رہیں، بڑے بڑوں کو اپنے ساتھ ملا کر اپنی طاقت میں اضافہ کرتے رہیں اور ایک دوسرے کو گرانے کے لیے کتنی ہی فول پروف حکمت عملی بناتے رہیں مگر ہوتا وہ ہے جو میرے اللہ کی پلاننگ ہوتی ہے جو یقینا سب سے بہتر پلاننگ کرنے والی ذات ہے جس کے سامنے کسی کی پلاننگ،کسی کی سازش، کسی کی طاقت کی کوئی حیثیت نہیں۔

بول نے ابھی جنم بھی نہیں لیا تھا تو دعوے کیے جانے لگے یہ پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا ہاوس ہے، تاثر دیا جانے لگا کہ یہ دوسرے سب چینلز کو ہڑپ کر جائے گا، یہ بھی کہا جانے لگا کہ اس چینل کے پیچھے طاقت ور لوگ اور اداروں کا بھی ہاتھ ہے۔ اس کے برعکس مختلف میڈیا گروپس بول کے متعلق اپنی اپنی حکمت عملیاں ترتیب دیتے رہے، معلومات اکٹھی کرنے کو کوشش میں لگے رہے کہ پتا چلایا جا سکے پیسہ کہاں سے آ رہا ہے، اس کے پیچھے اصل ہاتھ کس کس کا ہے اور نشانے پر کون کون سے چینلز ہیں۔ اس سال اگست میں اس چینل کو باقاعدہ چلانے کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی تھی، بہت سے اہم اینکرز اور صحافیوں کو بھاری تنخواہوں کے عوض نوکریاں بھی دے دی گئیں۔ مختصراً بول اپنی پلاننگ کے مطابق آگے بڑھ رہا تھا کہ یکایک نیو یارک ٹائمز نے ایگزیکٹ اسکینڈل کو بہت نمایاں انداز میں شائع کر دیا جس سے پورے پاکستان میں باا۔لعموم اور میڈیا میں بالخصوص ایک تہلکہ مچ گیا۔

ایگزیکٹ کے جعلی ڈگریوں کے متعلق دنیا بھر میں پھیلے مبینہ کاروبار کا نیو یارک ٹائمز نے ایسا بھانڈا پھوڑا کہ چند ہی دنوں میں بول کی ’’مضبوط‘‘ عمارت زمین بوس ہوتی ہوئی نظر آئی۔ بول کی ملکیت رکھنے والی ایگزیکٹ کے ایسے ایسے کارنامے سامنے آنے لگے کہ کسی کے لیے بھی ان سنگین الزامات کے سامنے کھڑا ہونا مشکل ہو گیا۔ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مبینہ طور پر ایک ایسا جھوٹا اور دھوکہ دہی کا کاروبار سامنے آ گیا کہ اس سے تعلق رکھنے والے اکثر اپنا منہ چھپانے پر مجبور ہو گئے۔ مبینہ طور پر نہ صرف ہزاروں افراد کو ڈاکٹری، انجینئیرنگ، ہوا بازی، سوشل سائنسس گویا ہر شعبہ کی جعلی ڈگریاں دیں بلکہ امریکا میں ایک کتے کو بھی ایگزیکٹ نے ایم بی اے کی ڈگری تھما دی۔یہ سارا فراڈ اتنا حیران کن اور ناقابل یقین تھا کہ چندہی دن میں حالات ایسے بدلے کہ جیسے کوئی ایگزیکٹ اور بول کو جانتا ہی نہ ہو۔ میڈیا سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے نام جنہوں نے بول میں شمولیت اختیار کی تھی اور جن کو اس کی طاقت اور پہچان تصور کیا جاتا تھا، نے اس ادارے کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ دوسری طرف وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے امریکا اور برطانیہ کے علاوہ انٹر پول سے بھی ایگزیکٹ اسکینڈل کی مکمل چھان بین کے لیے رابطہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ وہ لوگ جو مبینہ طور پر جعلی ڈگریوں سے کمائے گئے پیسہ سے ایک طاقت ور میڈیا گروپ بنانا چاہتے تھے تا کہ ان کے اس اصل دھندہ کو تحفظ مل سکے اور کوئی ان کے کاروبار کو چیلنچ نہ کر سکے وہ چند ہی دنوں میں ڈھیر ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

موجودہ ٹی وی چینلز میں کچھ ایسے گروپس جو کل تک یہ سمجھتے تھی کہ بول کی مبینہ سازش نے انہیں کمزور کر دیا اور اپنے بچائو کے لیے اُن کی کوئی تدبیر، کوئی حکمت عملی کام نہیں کر رہی وہ سب اب یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ یقینا اللہ کی پلاننگ کے آگے کسی کی پلاننگ اور حکمت کا کوئی زور نہیں۔ یہ موقع ہے تمام ٹی وی چینلز اور میڈیا والوں کے لیے کہ وہ اپنی اپنی کوتاہیوں، کمزوریوں اور غلط کاریوں کو درست کرنے کے لیے فوری تدبیر کریں۔ایگزیکٹ اسکینڈل کے بعد مجھ سے بہت سے افراد نے پوچھا کہ میں نے یہ خبر کیوں نہ دی جس پر میرا یہ کہنا تھا کہ اگر پاکستان کا کوئی صحافی یا اخبار وہ کچھ لکھتا جو نیو یارک ٹائمز نے لکھا اُس پر کوئی اعتبار نہ کرتا اور فوری طور پریہ کہہ دیا جاتا کہ جیو یا جنگ والے تو اپنی مخالفت میں بول کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ اس سارے قصہ نے ایک اور اٹل حقیقت کو ہم پر پھر عیاں کیا کہ عزت اور ذلت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے اللہ عزت دینا چاہے اُسے کوئی بے عزت نہیں کر سکتا۔ اور جسے اللہ ذلت دینا چاہے اسے کوئی عزت نہیں دلوا سکتا۔

جو کچھ ایگزیکٹ اور بول کے ساتھ ہو رہا ہے اس پر دوسروں کو خوشیاں منانے یا اُن کو جو اس کڑی آزمائش کا شکار ہوے اُن کا مذاق اڑانے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے چاہیے کہ یااللہ ہمیں اس طرح رسوا نہ کرنا۔ سوشل میڈیا میں کئی افراداور کچھ چینلز والے بول کو خیر ٓباد کہنے والے صحافیوں کا مذاق اڑا رہے ہیں، انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا کرنے والوںسے میری گزارش ہے کہ جس نے اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا اُسے شرمندہ نہ کریں بلکہ اُسے عزت دیں۔ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں ہمیں ہمارے گناہوں، غلطیوں اورکوتاہیوں کے باوجود دوسروں کے سامنے شرمندگی سے بچادے۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ
دشمن مرے تے خوشی نہ کریے، سجناں وی مر جاناں

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند