تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارتی وزیر دفاع کی دہشت گردی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 9 شعبان 1436هـ - 28 مئی 2015م KSA 09:19 - GMT 06:19
بھارتی وزیر دفاع کی دہشت گردی

کیا بھارت اور پاکستان اچھے اور پرامن ہمسایوں کی طرح سے رہ سکیں گے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو برصغیر کے ہر باسی کے ذہن میں اٹھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سوال قیام پاکستان سے آج تک تشنہ ہے اور کا جواب نہیں مل سکا۔ امن کے حصول کے لئے بڑی کوششیں کی گئیں لیکن کوئی بھی سبیل بر نہیں آئی۔ آج بھی صورت حال جوں کی توں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت پاکستان کو اپنے پہلو میں برداشت کرنے سے بھی قاصر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ابتدا سے آج تک بھارت پاکستان کے خلاف ہر حربہ آزمایا تا کہ اس کے وجود کو خدانخواستہ اس صفحہ ہستی سے مٹادے۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ پاکستان آج تک سلامت ہے۔ اس کی چیرہ دستیاں اور ریشہ دوانیاں عروج پر رہیں اور آج بھی اسی طرح سے اپنا کام دکھا رہی ہیں۔اس بار تو بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان دشمنی کی حد کر دی۔سنو ہر پاریکر نے ممبئی حملے 26/11 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ایسے حملوں کو روکنے کے لیے پیش بندی کرنا ہو گی۔ اور دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے دہشت گردوں کی مدد لینا ہو گی۔

واہ رے وزیر دفاع بھارت! اگر آپ نے یہ بات اپنے ’’ہوش و حواس‘‘ میں رہتے ہوئے کی ہے تو اس سے بڑی دہشت گردی نہیں ہو سکتی کہ ایک ملک کا دفاع پڑوسی ملک میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے کو تسلیم کر رہا ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کر رہا ہے۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بھارت پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے کا مرتکب ہو رہا ہے۔ کیا دہشت گردی کوروکنے کے لیے دہشت گردوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کیا مہذب دنیا میں جہاں مختلف ممالک اقوام متحدہ کا سہارا لیتے ہیں اس کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط پر عمل کرتے ہیں وہ دہشت گردی کو دہشت گردوں کے ذریعے ختم کرتے ہیں۔ اگر بھارت نے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے صرف دہشت گردوں کا ہی سہارا لینا ہے تو اسے اتنی بڑی تعداد میں پولیس، بارڈر فوسز، خصوصی دستے اور اتنی بڑی فوج رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔

بھارت میں دہشت گردوں کی تعداد پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔جو ٹرینیں جلاتے ہیں،بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ مذہبی فسادات پھیلاتے ہیں۔ عورتوں خاص طور پر غیر ملکی ٹورسٹ عورتوں کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ تو انہیں ہی استعمال کریں اور اپنا کام چلائیں۔ قوانین، ضوابط، لوک سبھا اور دوسرے اداروں کی کیا ضرورت ہے۔دہشت گرد تو اپنے ضوابط خود تشکیل دیتے ہیں۔ بھارت کے اندر کی امن و امان کی صورت حال شاید اسی لئے ناساز گار ہے کہ وہاں دہشت گردی اور دہشت گردوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ اور اب بھارت نے ستم بالائے ستم کرتے ہوئے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ وہ یہ کام اب پاکستان میں بھی کر رہا ہے۔ جن خدشات کا اظہار پاکستان کی طرف سے کیا جا رہا تھا۔ جن دہشت گردوں اور واقعات کے ثبوت بھی پیش کئے گئے۔ جو بھارت نے پاکستان میں کروائے۔ وہ سب نہ صرف بھارت کی اس پالیسی کا حصہ ہیں بلکہ بھارت کی ریاستی مشینری کے زیر سایہ کروائے گئے ہیں۔

بھارتی وزیر دفاع یہاں بھی نہیں رکے بلکہ اس کے بعد کے ایک انٹرویو میں بھی انہوں نے اپنے اس بیان کی تصدیق کی کہ میری ذمہ داری بھارت کا دفاع ہے اور پاکستان پرالزام لگا دیا کہ پاکستان میں 39 ایسے کیمپ ہیں جن میں سے دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔لیکن وزیر موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی محبوب ایجنسی را افغانستان میں کتنے کیمپ قائم کئے ہوئے ہے۔ ان کے سفارت خانے اور کونسل خانے افغانستان میں کس قدر دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان کی سرزمین پر بھیجے رہے ہیں۔ جو کراچی سے لے کر پشاور تک دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ بین الاقوامی برادری نے بھارت کے وزیر دفاع کے اتنے واضح بیان کا نوٹس نہیں لیا۔

حالانکہ بین الاقوامی قوتوں نے دہشت گردی کے خلاف جس قسم کے اصول و ضوابط طے کئے ہیں ان کے تحت بھارت کا رویہ قابل گرفت ہے بلکہ بھارت کے خلاف اس قسم کے الزامات اور انہیں اتنے واضح انداز میں تسلیم کرنے پر کاروائی ہونی چاہیے۔ لیکن ابھی تک بین الاقوامی قوتوں کی طرف سے بھارت کے خلاف نہ تو ایسا ردعمل آیا ہے اور نہ ہی اس قسم کی کاروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔پاکستان کو چاہیے کہ اس معاملہ کو سفارتی سطح پر اٹھائے اور خاص طور پر اس معاملہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اتھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے خلاف پاکستان نے جتنے بھی ثبوت اکٹھے ہیں اور دہشت گردی کے جن واقعات میں بھارت ملوث ہے ان کی تفصیلات بھی اقوام متحدہ میں پیش کرے تاکہ بین الاقوامی برادری پر بھارت کا بھیانک چہرہ عیاں ہو سکے۔

اس کے علاوہ بھارتی حکومت اور بھارتی فورسز جس طرح سے کشمیر میں لوگوں کا حق خودارادیت دبائے ہوئے ہے اور وہاں نہتے لوگوں پر جو ظلم وستم روارکھے ہوئے ہیں۔جن کالے قوانین کے تحت ان کے حقوق سلب کئے ہوئے ہیں ،وہ بھی دہشت گردی سے کم نہیں ہیں۔سری نگر میں پچھلے چند مہینوں کے درمیان کشمیریوں نے جس طرح تواتر سے ہر ہڑتال اور جلوس میں ہر گھر پر پاکستانی جھنڈے لہرائے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت پاکستان کے حق میں ہے۔کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارت کے کالے قوانین،ظلم و ستم اور آمریتی اقدامات بشمول دہشت گردی انہیں پاکستان کی محبت سے الگ نہیں کر سکی۔ بھارت کا یہ بھیانک روپ بھی دنیا کے سامنے ہے۔

اگر ہم ماضی میں جائیں تو بھارت نے مشرقی پاکستان میں جس طرح دہشت گردی کو فروغ دیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ مکتی باہنی کے غنڈے ہر طرح سے پاکستان کے اس حصے میں ایسی کاروائیوں میں ملوث رہے جسے بدترین دہشت گردی کہا جا سکتا ہے۔ آج اس پاکستان میں بھارت کی اس قسم کی جاری کاروائیاں ماضی کے ان تانوں بانوں کا حصہ ہیں جو اس نے مشرقی پاکستان میں کی تھیں۔ بھارت کے مقاصد پاکستان کی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنا ہے۔ لیکن اب بھارت ان مقاصد میں انشاء اللہ کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اتنی تگ و دو کرنے کے بعد بھی کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی۔ اور اب کمیابی بلی کی طرح کھمبا نوچنے پر اتر آیا ہے۔

اور اب پوری دنیا کے سامنے یہ تسلیم کر رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے دہشت گردوں کو استعمال کر رہا ہے۔ حالانکہ بھارت میں ایسی کوئی دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہے جس میں خدا نخواستہ پاکستان ملوث ہوبلکہ ایسے واقعات جن میں پاکستان کو ملوث کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی بعد میں وہ تمام واقعات اس کی اپنی ایجنسیوں کی پیداوار نکلے جن کے ثبوت آج بھی صفحہ مثل پر موجود ہیں۔ جنہیں پوری دنیا جانتی ہے۔ بھارت کو آج کے دور میں اپنے ہمسایوں سے اپنا رویہ درست کرنا ہو گا۔ ان کی سلامتی، خودمختاری کو تسلیم کرنا ہو گا۔ اپنی جسامت کے زور پر ہر ایک دبانے کی پالیسی شاید اب مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ اب بھارت کو اپنی ماضی کی پالیسیوں کو خیر باد کہہ کر اچھے دوستانہ مستقبل کو دیکھنا چاہیے ورنہ بھارت میں موجود غربت اور بڑھتی ہوئی آبادی اسے لے ڈوبی گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند