تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حرمین کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 4 رجب 1441هـ - 28 فروری 2020م
آخری اشاعت: پیر 13 شعبان 1436هـ - 1 جون 2015م KSA 18:08 - GMT 15:08
حرمین کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟

یمن میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پرقبضے، ان کے ہاتھوں نہتے شہریوں کا قتل عام ، عبادت گاہوں کی مسماری اور ان کے نفرت انگیز بیانات کے ردعمل میں سعودی عرب کی جانب سے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے یمن کا حوثی قبیلہ دنیا بھرمیں موضوع بحث بنا ہوا ہے لیکن عرب دنیا سے باہر لوگوں کے پاس حوثی قبیلے کے بارے میں مستند معلومات نہیں ہیں۔اگرچہ اس پر بہت لکھا اور کہا جا چکا ہے۔تاہم یہاں کچھ باتیں دہرانا ضروری ہیں تاکہ مسئلہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

حوثیوں کے بارے میں بالعموم یہ غلط خیال پایا جاتا ہے کہ وہ زیدی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں حالانکہ اب ان کے عقائد ونظریات تبدیل ہو چکے ہیں۔ زیدی شیعہ عقائد کے اعتبار سے اثنا عشری اور اسماعیلی شیعوں سے مختلف ہیں۔سنہ 1962ء میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری عرب سوشلسٹ نیشنلسٹ تحریک کے نتیجے میں مصر کے جمال عبدالناصر کے حامی فوجی افسروں نے شمالی یمن میں شیعہ زیدی امامت کے خلاف بغاوت کر دی جبکہ باغیوں کی امداد کے لیے صدر جمال عبدالناصر نے مصری فوج اور بڑی مقدار میں اسلحہ یمن بھیجا۔اس موقع پر سعودی عرب نے زیدی امام کا ساتھ دیا تھا۔1990ء میں ایک معاہدے کے تحت شمالی اور جنوبی یمن میں اتحاد ہوا اور علی عبداللہ الصالح متحدہ یمن کا پہلا صدر بن گیا۔22مئی 1990 سے 27 فروری 2012 تک یمن پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کرنے والے علی عبداللہ صالح کا تعلق متحدہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے نواح میں مقیم احمر قبیلے سے ہے ۔

1990ء کے عشرے میں عرب ممالک کی جانب سے یمن کی اقتصادی امداد میں کٹوتی اور عمومی سرد مہری کے رجحان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حوثی قبیلے کے ایک سردار حسین بدرالدین الحوثی نے ایران کے تعاون سے شباب المومنین نامی تنظیم کی داغ بیل ڈالی اور سب سے پہلے نوجوانوں کے اندر اپنا اثرو رسوخ بڑھایا۔جس کے نتیجے میں زیدی شیعوں کو امامی یا اثناءعشری بنانے کا آغاز ہوا۔ 14 سال کی محنت اور کچھ ممالک سے آنے والے بے پناہ وسائل کی بدولت بدرالدین نے اتنی عسکری قوت مہیا کی کہ اس نے 2004ء میں یمن پر قبضہ کرنے کے لیے ملک کے شمالی علاقوں میں بغاوت کر دی۔ یہ پہلی حوثی بغاوت کہلاتی ہے جو شمالی یمن کے سعودی سرحد سے متصل صوبے صعدہ میں ہوئی لیکن یمنی فوج نے حوثیوں کی یہ بغاوت ناکام بنادی اور فوجی کارروائی میں حسین بدرالدین اور اس کے بہت سے اہم رفقاء مارے گئے تھے۔

حسین بدرالدین کی ہلاکت کے بعد تحریک کی قیادت اس کے بھائی عبدالملک الحوثی کے پاس آگئی جس نے قیادت سنبھالتے ہی زیدی شیعوں سے تعلق مکمل طور پر ختم کر لیا،شباب المومنین کو تحلیل کردیا اور انصاراللہ کے نام سے نئی تنظیم قائم کی جسے عرف عام میں الحوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ عبدالملک الحوثی کی خوش قسمتی تھی کہ جب اس کے پاس قیادت آئی تو اس وقت امریکا اور مغربی ممالک یمن میں القاعدہ کے فروغ اور استحکام سے سخت پریشان تھے۔

امریکا اور نیٹو نے القاعدہ کے یمن میں روز بروز فروغ پانے والے اثر و رسوخ کے سامنے بند باندھنے کے لیے حوثی تحریک کا انتخاب کیا۔ یوں اسے بیک وقت ایران اور مغربی ممالک کا مالی اور عسکری تعاون حاصل ہو گیا۔ جبکہ امریکا کی سرپرستی کی وجہ سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی حکومتوں نے بھی اس کی سرگرمیوں سے چشم پوشی اختیار کر لی۔2008ء میں حکومت کے ساتھ طے پائے ایک معاہدے کے تحت بغاوت کے جرم میں قید تمام حوثی قائدین کورہا کر دیا گیا۔پاکستان اور افغانستان کی طرح سعودی عرب اور یمن کی سرحد بھی اٹھارہ سو کلومیٹر طویل ہے اور اس میں سے آمدورفت کو روکنا آسان نہیں ہے۔

تحفظ حرمین شریفین کے مسئلے کوسمجھنے کے لیے ہمیں سعودی عرب کے آس پاس رونما ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھنا ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ کچھ ممالک کے رہنماؤں کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ یمنی بغاوت کے بعد ایران کے روحانی پیشوا کے قریبی ساتھی علی رضا نے برملا کہا کہ تین عرب ملک عراق ، شام اور لبنان ہماری جیب میں آچکے ہیں ، یمن میں بھی ہمارا اقتدار قریب ہے جس کے بعد ہم سعودی عرب کی جانب بڑھیں گے۔

العربیہ نیوز چینل نے کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو نشر کی تھی جس میں یمن کے ایک فوجی اڈے پر ایرانی ایئر فورس کے اہلکار حوثیوں کو لڑاکا طیارے اڑانے کی تربیت دے رہے ہیں اور اب یہ راز بھی کھل چکا ہے کہ حوثی قبائل کو کئی سال تک مسلسل سمندری راستے سے ایرانی اسلحے کی ترسیل جاری رہی ہے۔ صرف یمن ہی نہیں عراق، بحرین اور شام میں بھی ایرانی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔سعودی عرب کو چاروں طرف سے گھیرا جا چکا ہے۔عراق میں صدام کی حکومت ختم کی گئی۔ شام اور بحرین میں حالات خراب کیے گئے۔اب یمن کے حالات بھی اسی نہج پرجارہے ہیں ،اس تناظر میں اگر ساری صورت حال کا جائزہ لیاجائے تو حالات بہت زیادہ گمبھیر دکھائی دیتے ہیں۔

صلیبی و یہودی اس کوششں میں تھے کہ بیت اللہ اور مسجد نبوی کی سرزمین سعودی عرب، جس کا دفاع ہر مسلمان اپنے عقیدے و ایمان کا حصہ سمجھتا ہے،کو عدم استحکام سے دوچار کردیا جائے۔اس پورے خطے میں یہ آگ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے لگائی ہے۔امریکا نے عراق میں شیعہ،سنی لڑائی کا جوفتنہ کھڑا کیا، وہ یہی ماحول پورے عرب میں بنانا چاہتا ہے ۔پہلے عراق اور شام میں یہ کھیل کھیلا گیا اور اب یمن میں فسادات کی آگ بھڑکا دی گئی ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف یمن کا اندرونی مسئلہ ہے اس لیے سعودی عرب اور دیگر ملکوں کو وہاں حملے نہیں کرنے چاہئیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حوثی باغی یمن کی آئینی و قانونی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، انھوں نے یمنی دارالحکومت پر قبضہ کر لیا اور پھر عدن کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کردیا کہ وہ صرف یہاں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کا اگلا ہدف سعودی عرب ہے تو کیا سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو ایساکرنے والے باغیوں کی بغاوت کو کچلنے اور اپنے ملک کے دفاع کا حق حاصل نہیں ہے؟

آج اگر صلیبی و یہودی خطے میں فسادات کی آگ بھڑکا کرسعودی عرب کو کمزور کرنے اور حرمین الشریفین کو نقصانات سے دوچارکرنے کی سازشیں کر رہے ہیں تو سب ملکوں کو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر متحد ہو کرسرزمین حرمین الشریفین کا تحفظ کرنا چاہیے اور کسی کواس حوالے سے صہیونی سازشوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان میں حرمین شریفین کے مسئلے پرشیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی الغرض ہرمسلک کے لوگ ایک پیج پرہیں جولوگ اس جنگ کوفرقہ واریت کی نذرکرناچاہتے ہیں ،ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جب افغانستان میں طالبان کی حکومت، جسے پاکستان سمیت دوبڑے مسلم ممالک نے تسلیم کیاتھا، کو امریکا نے ختم کردیا تو اس وقت تو کسی نے نہیں کہا تھا کہ سنی حکومت ختم کردی گئی۔اسی طرح عراق میں سنی صدرصدام حسین کی حکومت کاخاتمہ کیاگیا مگرکسی نے اس کوسنی حکومت کاخاتمہ نہیں کہا تھا بلکہ میں یہ یاد دہانی کرانا چاہوں گا کہ جب سنہ 1980ء کے عشرے میں ایران اورعراق کے درمیان جنگ لڑی جارہی تھی تو کسی نے اس کوشیعہ، سنی جنگ قرارنہیں دیا تھا۔آج جب حرمین الشریفین کامعاملہ آیا ہے تو کیوں کراس جنگ کوشیعہ سنی جنگ قراردیا جا رہاہے؟

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دو رشتے ہیں۔ایک رشتہ ایمان کا ہے وہاں حرمین الشریفین موجود ہیں۔دوسرا وہ ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور اس نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا ہے ،ایٹمی دھماکوں کے بعد جب امریکا سمیت پوری دنیا نے ہم سے منھ موڑلیا بلکہ پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگادی گئی تھیں تواس وقت سعودی عرب ہی ہمارے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔پاکستان کی پارلیمان میں منظور کردہ مشترکہ قرارداد نے بہت سے ابہام پیداکردیے ہیں۔اگر سعودی عرب کی حمایت و تعاون کا اعلان وقت پر کردیا جاتااور اکثر دینی و سیاسی جماعتیں اپنے ضمیر کی آواز پر اپنا کردار ادا کرتیں تو تحریک دفاع حرمین شریفین کی ضرورت پیش نہ آتی۔

ہم رائے عامہ کوہموارکررہے ہیں اورقوم کو یہ بتاناچاہتے ہیں کہ کوئی بھی قرارداد پاک سعودی تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتی ہے اورنہ ہی حرمین شریفین کے دفاع پرکوئی سمجھوتا کیا جا سکتا ہے۔تحفظ حرمین شریفین پر کسی مسلک کو کوئی اختلاف نہیں۔یہ کسی فرقے کا نہیں بلکہ امت مسلمہ کامتفقہ مسئلہ ہے۔

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی کارروائیوں کے بعد بالخصوص مکہ و مدینہ جیسے مقدس ترین مذہبی مقامات کودرپیش خطرات کے پیش نظر پاکستان کی چھے بڑی دینی جماعتوں کا اتحاد عمل میں لایا گیاہے جسے''تحریک دفاع حرمین شریفین''کا نام دیا گیاہے۔اس فورم کے ذریعے پورے ملک میں جلسے ،جلوس ، ریلیاں ، سیمینارز ، پریس کانفرنسز اور آگاہی مہم شروع کی گئی ہے جس کا مقصد عوام الناس کو حرمین کی تازہ صورتحال کے بارے میں آگاہ رکھنا اور حکمرانوں پر حرمین کے تحفظ کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

پاکستانی قوم نے حرمین شریفین کے تحفظ کی آواز پر ہمیشہ کی طرح لبیک کہا ہے۔عوام نے اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور،ایبٹ آباد ،مظفرآباد اور ملک کے دوسرے چھوٹے بڑے شہروں میں تحریک کے پروگراموں میں جوق درجوق شرکت کرکے انصار مدینہ کی سنت کو زندہ کیاہے ۔تحریک کا واضع موقف ہے کہ حرمین شریفین کے دفاع ،یمن میں امن کے قیام اور اقتدار یمن کی منتخب آئینی حکومت کے حوالے کیے جانے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی ۔

---------------------------
(مضمون نگار کے خیالات سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند