تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ذمہ دار کون؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 ذیعقدہ 1440هـ - 17 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 15 شعبان 1436هـ - 3 جون 2015م KSA 09:16 - GMT 06:16
ذمہ دار کون؟

اٹک کے اس پار جشن فتح جاری ہے۔ گنتی کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچی۔ سو ابھی یہ معلوم نہیں کہ نئے پاکستان کی انقلابی پارٹی نے حتمی طور پر کتنی سیٹیں حاصل کیں۔ تاہم ہر گزرتے لمحے کے ساتھ حاصل کردہ نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ہی جیسے اب تک 19 لاشیں گر چکی ہیں۔ 12 الیکشن کے دن اور 7 جشن فتح کے دوران۔ حتمی نتائج تک کیا ہوگا؟ ابھی کوئی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔

پی ٹی آئی، وفاق اور تین صوبوں میں تو خیر اپوزیشن میں ہے۔ اقتدار کے اپنے ہی مزے ہیں۔ لیکن جو آزادی اپوزیشن کی حیثیت سے حاصل ہوتی ہے وہ اقتدار کی کھٹن اور جان گسل مصروفیات میں کہاں؟ اپوزیشن میں عوام کی خدمت کا جھمیلا، نہ بجلی کی فراہمی کی ذمہ داری۔ مہنگائی پر جواب دہی، نہ امن و امان کے قیام کی ذمہ داری۔ صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنے کا کوئی دباؤ، نہ سکولوں، کالجوں میں داخلوں کے لئے در بدر بھٹکتے پھرتے والدین کا سامنا کرنے کی زحمت۔ بیروزگاری کے ہاتھوں ہلکان ڈگریاں لیکر جوتیاں گھساتے نوجوانوں کو ملازمت کی فراہمی کا مشکل کام۔ آسان ترین کام، تنقید، نکتہ چینی اور پوائنٹ سکورنگ۔ 2013ء کے بعد تو کام اور بھی آسان ہو گیا۔ الیکشن ہار گئے تو آسان فارمولا، ٹربیونل، عدالتیں، پارلیمنٹ اور رولز آف گیم، سب پس پشت ڈال دو۔

دارالحکومت میں دھرنا دو، پارلیمنٹ ہاؤس کا گھیراؤ کرو، پی ٹی وی پر حملہ کرو۔ حساس ترین علاقوں کو یرغمال بنا کر رکھو، جی بھر کر توڑ پھوڑ کرو، کس لئے؟ کس دلیل کی بنیاد پر؟ احتجاج ہمارا آئینی حق ہے۔ انصاف چاہئے، انصاف نہ ملا تو جلا دینگے، کاٹ ڈالیں گے۔ چوراہوں پر ٹکٹکیاں لگا کر پھانسیاں دینگے۔ کیونکہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی، منظم دھاندلی۔ مینڈیٹ چوری ہو گیا۔ انصاف کیسے ملے گا؟ دو تہائی اکثریت کا حامل وزیراعظم مستعفی ہو جائے۔ پارلیمنٹ توڑ دی جائے اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔ اگر منتخب حکومت اور وزیراعظم کھیلنے کے لئے چاند مانگنے والے کی طفلانہ خواہش نے مانے تو پھر کسی کو ایمپائر بنا کر درمیان میں گھسیٹ لو۔ فیصلہ ووٹ کی بجائے ایمپائر کی انگلی کی مدد سے لو۔ عام انتخابات کے متعلق پی ٹی آئی سمیت کئی جماعتوں کا موقف تھا کہ اس میں شدید دھاندلی ہوئی۔

یہ بھی الزام لگا کہ 35 پنکچر لگا کر سونامی کو محدود کر دیا گیا۔ اقتدار کی جانب بڑھتے، اس منہ زور طوفان کا رخ موڑا۔ ویسے، پی ٹی آئی کو عام انتخابات میں 32 نشستیں حاصل ہوئیں۔ پنکچر شدہ مبینہ 35 نشستوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو کل تعداد کتنی بنتی ہے؟ 67 چلیں! چند نشستیں اور شامل کر لیں تو 80, 70 یا پھر سو۔ اتنی سیٹوں پر اقتدار مل سکتا ہے؟ نہیں۔ بہرحال پی ٹی آئی نے دھاندلی کا مقدمہ بہت جاں فشانی سے لڑا۔ وسائل کی پرواہ کی، نہ وقت کی سرمایہ کاری میں کوئی کمی کی۔ پیسہ پانی کی طرح بہایا۔ ملک گیر جلسے کئے۔ لاکھوں کی ریلیاں نکالیں۔ ملکی معیشت کی پرواہ کی، نہ غیر ملکی مہمان سربراہان مملکت کی آمد کو درخور اعتنا جانا۔ بے لوث کارکنوں نے جانیں بھی قربان کیں۔ پارٹی کے منتخب صدر جاوید ہاشمی نے آواز اٹھائی تو ان کو بغیر نوٹس، بغیر شوکاز کے نکال دیا۔

ایسے کہ کوئی دفتر کے چپڑاسی کو بھی برخاست نہ کرتا ہوگا۔ میڈیا میں کوئی آواز اٹھی تو نئے پاکستان کے تربیت یافتہ کارکنوں نے موقع پر ہی انصاف مہیا کر دیا۔ انصاف کی راہ میں کسی کا سر، ٹانگ، ناک، منہ جو کچھ بھی آیا نشانہ بنا۔ میڈیا پرسن موقع پر سزا سنانے کے لئے نہ ملا تو جلسہ گاہ میں کوریج کرتی ڈی ایس این جی پر غصہ اتارا گیا۔ سٹیلائیٹ وین قابو میں نہ آئی تو میوزیکل دھرنے سے واپسی پر راہ میں آنے والے میڈیا آفس میں پتھراؤ کر کے سبق سکھا دیا گیا۔ ہر طرح کا حربہ۔ ہر قیمت ادا کر کے پی ٹی آئی نے مقدمہ جیت لیا۔ جوڈیشل کمیشن بن گیا۔ دھاندلی ہوئی یا نہیں؟ اس کا فیصلہ اب چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی سربراہی میں قائم کمیشن ہی کرے گا۔ 29 مئی کو پی ٹی آئی کا خیرپختونخوا میں پہلا امتحان تھا۔ صوبے میں حکومت کی دو سالہ کارکردگی اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد، دونوں کا امتحان۔

اس سے پہلے کہ کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات اور حکومت وقت کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے یاد کراتا چلوں کہ 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات کے بعد اب تک منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں نوے فیصد پی ٹی آئی ہار گئی۔ بلدیاتی الیکشن سے صرف ایک روز قبل آخری ضمنی الیکشن ملتان میں ہارا۔ صوبائی اسمبلی کی یہ نشست جناب شاہ محمود قریشی کے آبائی حلقہ کی ہے۔ شاہ محمد قریشی کو یہ نشست ہارنے کے بعد انعام کے طور پر پی ٹی آئی میں اختیارات کا گھنٹہ گھر بنا دیا گیا ہے۔ وہ بیک وقت نیشنل آرگنائزر بھی ہیں اور جنوبی پنجاب کے مالک و مختار بھی۔ خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔ 30 مئی کے روز ہونے والے انتخابات فری فار آل تھے۔ صرف پشاور شہر سے الیکشن کمیشن کو 300 سے زائد شکایات ملیں۔ کہیں عملہ نہ پہنچا۔ کسی پولنگ سٹیشن پر بیلٹ باکس موجود نہ تھے۔ کہیں مہریں اور سیاہی دستیاب نہ ہو سکی۔

خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق نہ ملا۔ الیکشن کمیشن کی نااہلی تو مسلمہ ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کا انعقاد صوبائی حکومت کے تعاون سے ہی کرنا ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس اس کا اپنا کوئی عملہ نہیں ہوتا۔ انتخابی عملہ، اساتذہ، پولیس اور انتظامیہ سب کچھ فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ انتخابی سازوسامان کی ترسیل پولنگ سٹیشنوں کی فراہمی اور سیکورٹی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پرویز خٹک حکومت مثالی انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہی۔ الیکشن کے روز 12 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اتنی ہلاکتیں عام انتخابات میں بھی نہیں ہوئیں۔ صوبہ کے طول و عرض میں جھگڑے ہوتے رہے۔ اصل تماشہ گنتی کے بعد شروع ہوا۔ ایک صوبائی وزیر بیلٹ باکس لے کر بھاگتا ہوا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ ایف آئی آر درج ہوئی لیکن گرفتاری نہ ہوئی۔ اسلحہ کی بھرپور نمائش ہوئی۔ رات گئے ایک نوجوان کی ہلاکت پر مشتعل ہجوم نے اے این پی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار کو ’’فوری انصاف‘‘ فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی جان تو بچ گئی۔ لیکن اب وہ پابند سلاسل ہیں۔ ان سطور کے اختتام تک بلی تھیلے سے باہر آ چکی تھی۔ مقتول نوجوان کے والد نے آن کیمرہ بیان دیا کہ اس نے میاں افتخار کو بطور قاتل نامزد نہیں کیا۔ فافن نامی غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ چشم کشا ہے۔

اس کا دعویٰ ے کہ 26 فیصد کیسز میں دھاندلی ہوئی ہے۔ بعض پولنگ سٹیشن 18 مرتبہ بند کرنے پڑے۔ پی ٹی آئی یہ الیکشن جیت گئی۔ کئی اضلاع میں وہ اپنے ناظم بھی منتخب کرا لے گی۔ نئے پاکستان کی اس انقلابی جماعت نے بھی الیکشن ویسے ہی جیتا۔ جس طرح ’’سٹیٹس کو‘‘ والی جماعتیں جیتا کرتی تھیں۔ تحریک انصاف کو بلدیاتی الیکشن میں 26 فیصد ووٹ ملے جبکہ اس کے مخالفین کو 74 فیصد ووٹ ملے۔ صرف دو سال کے عرصہ میں مردہ اے این پی اور پیپلزپارٹی بھی جاگ اٹھی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی نے تو اپنے آپ کو بھرپور طریقہ سے منوایا ہے۔ الیکشن کے چوتھے روز صوبے کے عوام جعلی مہریں، بیلٹ پیپر، کیمروں کو دکھاتے ہوئے سڑکوں پر ہیں۔ کے پی کے میں بلا اجازت جلسے، جلوس پر پابندی لگا دی ہے۔ دھاندلی کے خلاف 126 دن دھرنا دینے والی جماعت نے اپنے صوبے میں احتجاج پر پابندی لگا دی ہے۔ دھاندلی زدہ انصاف کے حصول کے لئے کیا اب کس کی ’’انگلی‘‘ پکڑیں؟

----------------------

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند