تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
زمانے کی بے ثباتی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 16 شعبان 1436هـ - 4 جون 2015م KSA 08:17 - GMT 05:17
زمانے کی بے ثباتی

اُس کے آس پاس لوگ تھے، مگر ایک خلا سا محسوس ہوا۔، ایف آئی اے کے لوگ تھے، تحقیقاتی اداروں کے، اور بھی کئی۔ پھر بھی جیسے کچھ کم تھا۔ اُس کے ہاتھوں میں جب ہتھکڑی لگائی گئی، اُس کی نظریں اُن لوگوں کو ڈھونڈھ رہی تھیں جو ہروقت نظروں کے سامنے رہنے کی تگ و دو میں مصروف رہتے تھے، مگر ان میں سے کوئی نظر نہیں آیا، اُس کی نظریں انہیں ڈھونڈتی ہی ر ہ گئیں۔ کہیں ٹھہری نہیں۔ وہ اب اکیلا تھا۔

ابھی کل کی بات ہے، شعیب شیخ کی کمپنی کی ایک تقریب تھی۔ ہر سال ایسی ایک تقریب ہوتی ہے، گزشتہ کئی برس سے۔ اب پتہ نہیں ہوگی یا نہیں۔ بڑا ہجوم ہوتاتھا، بہت بڑا۔ بلا مبالغہ ہزاروں لوگ شریک ہوتے تھے۔ ملازمین اور ان کے گھر والے تو ہوتے ہی تھے۔خواندہ اور ناخواندہ مہمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی۔ بڑے اہتمام سے مہمانوں کا استقبال کیا جاتا، ایک خوش اخلاق ، خوش پوش متاثر کن خاتون، داخلی دروازے پر آنے والوں کو ہاتھوں ہاتھ لیتی، رہنمائی کرتی، خیروعافیت پوچھتی ساتھ ساتھ چلتی۔ کچھ آگے یہ ذمہ داری ایک اور خاتون کے سپرد کرتی، اجازت لیتی اور کسی اور آنے والے کے استقبال کے لئے چلی جاتی، دل میں دوبارہ ملنے کی خواہش مچلتی چھوڑ کر۔ دوسری خاتون بھی اسی اہتمام سے ایک حد تک ساتھ جاتی اور وہاں تیسری منتظر دوشیزہ، معزز مہمان کو اس کی نشست تک لے جاتی۔ کچھ درجہ بندی کا خیال رکھا جاتا، پہلی صف میں اہم لوگوں کی نشستیں، پھر درجہ بدرجہ دوسری، تیسری اور تاحدِ نگاہ اسی ترتیب سے آراستہ صفیں۔

شعیب شیخ مہمانوں کے درمیان گھومتے پھرتے نظر آتے، شناسائوں سے ہاتھ ملاتے، واقف کاروں سے کچھ گپ شپ کرتے۔ کبھی اِس طرف، کبھی اُس طرف۔ ابھی اِدھر، ابھی اُدھر۔ ہجوم ہوتا کہ بڑھتا ہی چلا جاتا۔ اہم شخصیات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جاتا۔ ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی تھی جو نئے آنے والے چینل میں کام کرنے کے خواہش مند تھے۔ کچھ کو یقین تھا، کچھ امیدوار تھے۔ میڈیا کے بڑے بڑے نام۔ جنہیں یقین تھا، ان کا اعتماد ان کے رویہ سے چھن چھن کر نظر آتا تھا، کوئی چلمن نہ تھی کہ جس سے لگ کے کوئی بیٹھ جاتا، صاف چھپتا بھی نہیں۔ ایسا نہ تھا، سب کچھ سامنے تھا۔ سب عیاں تھا۔ امیدواروں کا اپنا ایک انداز، کچھ چاپلوسانہ سا، کچھ بے یقینی سی۔ بار بار نظر اُدھر جاتی، جِدھر سے دروازہ وا ہونا تھا۔ جدھرشعیب شیخ دکھائی دیے جا سکتے تھے، گویا نظر جیسے ان سے چپک سی گئی ہو۔ شاید ان کی نظر پڑ ہی جائے۔

ایک تقریب ہوتی، جدید ترین آلات سے مزیّن ، رنگ و نور کی برسات، موسیقی کی دھنوں کے ساتھ، انعامات اور ایوارڈ، کارکردگی کے انعام، بہتر کارکردگی کے ایوارڈ۔ پہلے بہت سے، ایک ساتھ۔ پھر تعداد گھٹتی جاتی، برتر انعامات کا اعلان ہوتا، بات سلور، گولڈ اور پلاٹینم تک پہنچتی۔ اس دوران بھی شعیب شیخ لوگوں کے درمیان آتے جاتے رہتے، ابھی اِس سے ملے ابھی اُس سے۔ پرویز رشید ذرا تاخیر سے آئے تھے، ان سے ملنا ضروری تھا، اور وہ بھی ایک ادائے انکسار کے ساتھ۔ پہلی صف میں وہ تشریف رکھتے تھے، اسلام آباد سے آئے تھے، ایگزیکٹ کے مہمان تھے۔ اور بھی کئی اہم لوگ بعد میں آئے، ان سے بھی حال چال پوچھا جائے۔ کچھ لوگ اس دوران اکثر شعیب کے ارد گرد ہی نظر آتے۔ سمجھدار اس طرح کہ خوشامد نہ لگے، کبھی اس کام کا پوچھ لیا، کبھی اس کام کا بتا دیا۔ آس پاس ہی منڈلاتے رہتے۔ یا تھوڑی دیر کے لئے اِدھر ُادھر ہوگئے، پھر وہیں منبعء ِفیض کے آس پاس۔

اس بار بھی منظر ایسا ہی تھا۔ تقریب اپنی روایت کے عین مطابق ہوئی۔ وہی ہزاروں کی تعداد میں شرکاء وہی دلپذیر، دلنواز، آنکھیں بچھاتی میزبان، وہی رنگ و نور کی برسات، وہی انعامات، اور آخر میں وہی تقاریر۔ ہر بار آخری تقریر شعیب ہی کی ہوتی۔ پچھلی مرتبہ ان کی تقریر پہلی بار سنی تھی ۔ کچھ مایوسی سی ہوئی۔ اتنی بڑی کمپنی کا کرتا دھرتا، لہجے میں تربیت کی کمی عیاں اور نمایاں، اظہار بھی غیر متاثر کن۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب نہیں ملا، کسی سے پوچھا بھی نہیں۔ اس بار تقریب کی فضا ذرا مختلف سی تھی۔ پچھلی بار کے بہت سے امیدوار اب باریاب ہو چکے تھے۔ بھاری بھاری تنخواہوں پر، اونچے اونچے عہدوں پر تقرر ہو چکا تھا۔

کئی بہت بڑے اور کم بڑے نام، خوب سے خوب تر کی تلاش میں ، ایک انگریزی محاورہ کے مطابق، نئی سرسبز شاداب چراگاہوں کی تلاش میں کامیاب ہو چکے تھے۔ بھنورے اب زیادہ قریب منڈلا ہے تھے، اور زیادہ دیر تک۔ رویوں میں کچھ تبدیلی آچکی تھی، ایک وجہ فراواں دولت تھی۔ کبھی خواب دیکھے ہوں گے، اب تعبیر مل رہی ہے۔ وفاداری کا اظہار اب زیادہ ضروری ہے۔ آس پاس منڈلاتے رہنے میں ایک سرور بھی ہے، اور قربت کا مزا بھی، اور مزید ممکنہ فائدہ بھی۔ گردن اگر کچھ زیادہ اکڑ گئی ہے تو ٹائی شاید ٹائٹ بندھ گئی ہو۔ یا ایسا ہی ہوتا ہو، ایک سریا سا گردن میں کہیں سے آہی جاتا ہے۔ مگر ُاس کے سامنے تو انکسار کا اہتمام بہت ضروری ہے۔

اس بار شعیب کی تقریر مختلف تھی۔ بہت اچھی طرح تیار کی گئی، یا کرائی گئی۔ انہوں نے کی بھی اچھی۔ بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ کوئی اچھا لکھنے والا مل جائے تو بات سلیقے سے کہی جا سکتی ہے۔ اب ان کے پاس کچھ اچھے لکھنے والے آگئے تھے۔ انہوں نے ہی بعد میں وہ تقریر بھی لکھی جو شعیب نے اپنے چینل پہ کی۔ اس عقلمندی کا کیا جواب کے وہی تقریر، لکھنے والے کے نام سے ان کے اپنے فیس بک پیج پر بھی نظر آگئی۔ تقریب کا آخری پروگرام موسیقی ہوتا ہے، مگر اس سے پہلے ضیافت۔ ہزاروں لوگوں کو انتہائی ترتیب اور سلیقہ سے کھانا کھلایا جاتا ہے۔ پہلے سب مہمان کھانے کی طرف گئے، بعد میں میزبان تشریف لائے، ستاروں میں گھرے ہوئے۔ ارد گرد وہ سب جو فیضیاب ہو چکے ہیں یا بس ہونے ہی والے ہیں، یا ابھی جن کی آس کی ڈور ٹوٹی نہیں ہے۔

ایک شان شعیب میں نمایاں۔ انہیں گھیرے ہوئے لوگوں میں شان اور انکسار کا ملا جلا اظہار، شان عام لوگوں کے لئے، انکسار آقائے ولی نعمت کے لئے۔ کوئی پلیٹ پکڑا رہا ہے، کوئی کسی میز پر بیٹھنے کی دعوت دے رہا ہے، اُس طرف چلیں، وہاں کچھ سکون ہے، اِدھر کم لوگ بیٹھے ہیں۔ کسی کی سنی، کسی کی نہیں سنی، ایک شانِ بے نیازی، ایک کامیاب ترین آدمی میں جس طرح ہوتی ہے۔ اس کی بھی سنی، اس کی بھی۔ بھنورے ارد گرد ہی ہیں، منڈلا رہے ہیں۔ جو دور تھے وہ کسی نہ کسی بہانے قریب آتے جاتے۔ کوئی لمحہ اس دن، یا اس سے پہلے والی تقریب میں شعیب کو تنہائی کا میسر نہیں آیا، آہی نہیں سکتا تھا۔ وہ کبھی اکیلے نہیں دیکھے گئے۔

تنہا تو وہ اُس دن ہوئے جب ایف آئی اے نے انہیں جعلی ڈگریوں کے معاملے میں گرفتا رکیا۔ اس دن، ان کے ارد گرد لوگ تو تھے، ایف آئی اے کے اہلکار، پولیس کے لوگ، کچھ سادہ کپڑوں میں ملبوس، مگر کچھ کم ساتھا ۔آنکھوں میں وہ چند ماہ پہلے والا منظر لوٹ لوٹ آتا۔ وہ خوش لباس، گردن میں نئی نئی دولت کے خَم کے ساتھ، شعیب کے ارد گرد مسلسل منڈلانے والے تابناک چہرے، کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی۔ ایک تو شاید ملک میں نہیں ہیں، وہ خبر کی اشاعت سے کچھ پہلے سمندر پار چلے گئے تھے۔ یہ چینل کا ڈول ان ہی کا ڈالا ہوا تھا۔ اب انہیں کچھ شبہ ہوا کہ کہیں گڑبڑ ہے، اتنے عرصہ تک کروڑوں حاصل کرنے کے بعد۔ وہ الگ ہو گئے۔

کل تک شعیب ان کے لئے ایک صاحبِ بصیرت شخص تھا۔ اپنی تقریر میں وہ ان کی مدح میں رطب اللسان تھے۔ تعریف کے کیا کیا پُل انہوں نے باندھے تھے۔ اسی دن کچھ اور لوگ بھی الگ ہوئے۔ کچھ نے جھوٹ موٹ، انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوایا، آگے کسی اور جگہ جانے کی راہ ہموار کی۔

اُس دن مگر شعیب کے آس پاس اندھیرا تھا۔ رات بہت ہو گئی تھی، تحقیقات جاری تھیں۔ اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہونا تھا۔ اس اندھیرے میں اُن کے آس پاس زرق برق لباس میں، نخوت سے سر کو ذرا سا خم کئے، مسکراہٹ میں دوسروں کے لئے ایک ہلکی سی غیر محسوس حقارت لئے، اس دن، اس تقریب میں آگے پیچھے پھرنے والوں میں سے کوئی بھی نہیں تھا۔ شعیب اکیلا تھا۔ خواہش سی ابھری، اس کے ارد گرد، اس کے ساتھ، اس وقت ان میں سے کچھ کو ضرور ہونا چاہئے تھا جو ایک عرصہ سے اس کے ساتھ ہیں۔
کیا ہوااگر انہوں نے وہ ادارہ چھوڑ دیا ہے،اگر آج اس پر بُرا وقت پڑا ہے تو کم از کم ان دوکو یا کسی ایک کو یہاں ہو نا چاہئے تھا جن کا نام اس ادارے کے قیام سے ہی اس کے ساتھ وابستہ ہو گیا تھا۔ کچھ پرانے ساتھ کا تقاضا، کچھ ہمدردی۔ کچھ تو پورا کیا ہوتا۔ دونوں میں سے کوئی نہیں تھا۔ تاریکی تھی، سائے جدا ہو چکے تھے۔ ایک ہوک سی اٹھی، زمانے کی بے ثباتی پے۔

معذرت: گزشتہ کالم۔ ’’ صوبہ بچائیں‘‘ میں لاہو ر میں مارشل لاء 1951ء میں لگوادیا تھا۔ غلطی ہوئی۔ بھائی محمود احمد لئیقی بڑی محبت سے کالم پڑھتے ہیں اور غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خود بھی اچھا لکھتے ہیں۔ انہوں نے تصحیح کی مارشل لاء 1953ء میں لگا تھا۔ ان کا شکر گزار ہوں۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند