تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وہ کون تھا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 16 شعبان 1436هـ - 4 جون 2015م KSA 08:39 - GMT 05:39
وہ کون تھا؟

نیو یارک ٹائمز میں ایگزیکٹ اسکینڈل کی اشاعت کے بعد یہ سوال یہاں اکثر پوچھا جانے لگا کہ پاکستانی میڈیا کیوں سویا رہا اور اتنے بڑے مبینہ فراڈ کے متعلق ہمارے میڈیا اور رپورٹرز نے کوئی خبر کیوں نہ دی۔میں ذاتی طور پر مطمئن تھا کہ ایک امریکی اخبار نے یہ خبر دی ورنہ پاکستان کا کوئی بھی اخبار یا چینل اس اسکینڈل پر کتنی بھی اچھی خبر دیتا اس کا کوئی اثر نہ ہوتا اور بڑی آسانی کے ساتھ یہ کہہ دیا جاتا کہ یہ سب بول کے خلاف کاروباری رقابت میں کیا جا رہا ہے۔ جب آپ کسی سے کہیں کہ بول چینل کو چلانے والوں کے متعلق بہت سے تنازعات میڈیا کے کئی افراد کے علم میں تھے تو جواب ملتا ہے کہ یہ باتیں تو اس لیے کی جا رہی ہیں کہ اب یہ اسکینڈل ایک امریکی اخبار نے شائع کر دیا ہے۔ قارئین کی دلچسبی کے لیے میں یہاں 2013ء کے اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبرکے کچھ اقتباسات پیش کر رہا ہوں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو کچھ نیو یارک ٹائمز نے ایگزیکٹ کے متعلق شائع کیا وہ میڈیا میں کئی افراد کے لیے کوئی بریکنگ نیوز نہ تھی۔ خبر کی اشاعت کے بعد حکومتی اداروں، سرکاری محکموں ، میڈیا کے با شعور افراد اور عام لوگوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ کون ہیں؟

پیمرا، نیب اور وزارت داخلہ کے پاس بھی اس کے متعلق شکایات تھیں مگر کوئی تھا جس نے ان معاملات کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی اور وہ کچھ نہ ہونے دیا جو نیو یارک ٹائمز کی خبر کے بعد پوری قوم نے دیکھا۔ خبر کے چند اقتباسات کے مطابق:’’کئی صحافی اور مبصرین سرمایہ کاروں کی نوعیت پر تبصرہ کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیںکہ آیا پاکستان میں حکومتی ڈھانچہ، سویلین اور نان سویلین اس پورے معاملے میں دلچسبی رکھتا ہے……… الزامات یہ ہیں کمپنی جس طرح کے لین دین میں ملوث ہے، اس میں منی لانڈرنگ اور منی ٹرانسفر بھی شامل ہیں۔ یہ بھی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ اگر کمپنی اور اس کے ڈائریکٹرز کے ریٹرنز نا کافی ہیں تو یہ اپنے ملازمین کو پرتعیش سہولیات کیسے فراہم کرے گی۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ آئی ٹی اور سافٹ ویئر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں دنیا کی صف اوّل کی کمپنی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ ریونیو کماتی ہے ………

یہ سوالات بھی پوچھے جا رہے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کمپنی مالکان دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں وفاقی انٹیلی جنس ادارے سے تعلق رکھنے والے سینئر عہدیداروں کی آشیرباد حاصل ہے؟ یہ عہدیدار کراچی میں بھی تعینات رہ چکا ہے……… دنیا کی بڑی بڑی آئی ٹی کمپنیاں جس میں کچھ معروف پاکستانی بھی شامل ہیں، دنیا کے مشہور اسٹاک ایکسچینجوں، نیو یارک اور ڈاو جانز وغیرہ میں رجسٹرڈ ہیں اور یہ پبلک لمیٹڈ کمپنیاں ہیں تاہم مذکورہ نئی کمپنی کسی اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔ کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر کئی ایوارڈ کے حصول کا دعویٰ کیا ہے لیکن ایوارڈ دینے والے کسی ادارے کی جانب سے اس کمپنی کو ایوارڈ دینے کی نشاندھی نہیں کی گئی………. پاکستان کی سرکردہ آئی ٹی کمپنیوں میں سے ایک ٹی آر جی کے سینئر مینیجر سے جب نئے پروجیکٹ کے مالکان کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’آئی ٹی کے شعبہ میں اگر اکثر نہیں تو بیشتر کھلاڑی دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لوگ جعلی ڈگریوں، فحش ویب سائٹس اور ٹرم پیپرز یا پھر ایسے کاروبار سے وابستہ ہیں جو دنیا کے دیگر حصوں میں غیر قانونی تصور کیے جاتے ہیں۔

ان سافٹ ویئر ہاوسز کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے لوکل مارکیٹ میں نئے مالکان کو کسی بھی مسابقت میں نہیں دیکھا اور عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی کسی آئی ٹی پروجیکٹ کی بولی میں حصہ نہیں لیا………. ٹی وی چینلوں کی ریٹنگ کا جائزہ لینے والی تھرڈ پارٹی ریٹنگ ایجنسی میڈیالاجک کی سینئر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’مارکیٹ میں آمدنی اور منافع کے حوالے سے جب سوال پوچھا گیا تو نئی کمپنی کے ترجمان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔‘ ایک بڑی سافٹ ویئر کمپنی کے مالک کا یہ کہنا ہے کہ ’ہمیں نہیں معلوم یہ لوگ کیا کرتے ہیں، ان کے پاس پیشہ ورانہ صلاحیت کتنی ہے اور آیا یہ عمومی نوعیت کے کام کے حوالے سےمنتقلی کے قابل ہے یا نہیں…….. ‘‘ گویا اخبارات میںتقریباً دو سال قبل شائع ہونے والی اس خبر میں جعلی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ اور دوسرے کئی معاملات پر سوال اٹھائے گئے۔ اسی خبر میں یہ بھی تفصیل سے لکھا گیا کہ کیسے غیر قانونی طریقے سے ایک ایسی کمپنی کو چینل کا لائسنس دیا گیا، جس کے 99 فیصد شیئرز غیر ملکیوں کے پاس ہیں۔

اسی خبر میں ایک عدالتی پٹیشن کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی لکھا گیا کہ 99 فیصد شیئرز رکھنے والے غیر ملکیوں کا کوئی اتاپتا نہیں۔اس پٹیشن میں سنگین بے ضابطگیوں کی بھی نشاندھی کی گئی تھی ۔اسی خبر میں یہ بھی لکھا گیا کہ پیمرا قوانین کے مطابق کوئی بھی ٹی وی لائسنس ہولڈر کمپنی اتھارٹی کی اجازت کے بغیر اپنے شیئرز منتقل نہیں کر سکتی لیکن راولپنڈی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک اہم کاروباری شخص کی جانب سے نئی آئی ٹی کمپنی کو دیئے گئے شیئرز میں پیمرا سے اجازت نہیں لی گئی۔ خبر میں پٹیشن کے حوالے سے یہ بھی لکھا گیا کہ اسی کی اصل کمپنی نے پیمرا میں لائسنس پر نام کی تبدیلی کی درخواست دی اور بیک وقت خریداروں کے ڈائریکٹرز نے اصل مالک سے تمام شیئرز اور ٹی وی لائسنس خرید لیا۔ پیمرا نے متعلقہ پہلووٗں کی تحقیقات کے بغیر چند ہی دنوں میں ان دونوں معاملات کی اجازت دیدی۔اس خبرکے باوجود متعلقہ حکومتی اداروں کی طرف سے تحقیقات نہ کی گئیں جس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔

یہ کالم پڑھ کر بہت سے لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ وفاقی انٹیلی جنس ادارے سے تعلق رکھنے والے وہ کون سے سینئر عہدیدار تھے جن کی آشیرباد ایگزیکٹ کو حاصل تھی۔ اس سوال کا جواب کون دے گا؟ کیا ایف آئی اے اور حکومت ہمیں بتا سکتے ہیں کہ وہ کون تھا؟؟

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند