تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی مسلمان اور امریکی سپریم کورٹ کا عظیم فیصلہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 20 شعبان 1436هـ - 8 جون 2015م KSA 12:44 - GMT 09:44
امریکی مسلمان اور امریکی سپریم کورٹ کا عظیم فیصلہ

اس چوبیس سالہ نوجوان امریکی مسلمان خاتون کے حق میں امریکی سپریم کورٹ نے جو شاندار اور تاریخی فیصلہ سنایا ہے، عالمِ اسلام‘ خصوصاً مغربی ممالک اور امریکا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کے دل خوشی اور اطمینان سے بھر گئے ہیں۔

اس ولولہ انگیز کہانی کا آغاز امریکی ریاست اوکلاہاما کے ایک بڑے شہر تُلسہ (TULSA) سے ہوتا ہے۔ ایک نوجوان امریکی مسلمان خاتون (سمانتھا ایلاف) نے شہر میں بچوں کے کپڑے فروخت کرنے والے سب سے بڑے اسٹور (آبرکرومبی اینڈ فِٹش) میں ملازمت کے لیے درخواست دی۔ چند روز بعد اُسے انٹرویو کے لیے کمپنی نے بلا لیا۔ جس روز مسلمان سمانتھا ایلاف انٹرویو کے لیے گئی، اس نے حسبِ معمول سر پر اسکارف اوڑھ رکھا تھا۔ وہ ’’آبرکرومبی اینڈ فٹش‘‘ کے متعلقہ لوگوں کے سامنے پیش ہوئی تو انھوں نے یہ کہہ کر اسے ملازمت دینے سے انکار کر دیا کہ اس نے اسکارف کیوں پہنا ہوا ہے! دُکھے اور شکستہ دل کے ساتھ سمانتھا ایلاف نے اپنے مسلمان والدین کو یہ قصہ سنایا تو وہ بھی حیران رہ گئے لیکن وہ ہمت نہ ہارے۔ انھیں قوی امید تھی کہ تعصب کی بنیاد پر کیے جانے والے اس امتیازی سلوک کا انصاف عدالت سے ضرور ملے گا۔ سمانتھا ایلاف نے مقامی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ مقامی عدالت سے یہ مقدمہ، رفتہ رفتہ آگے بڑھتا ہوا امریکی سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔

مقدمے کو چلتے ہوئے کتنے ہی ماہ گزر گئے۔ سمانتھا ایلاف مگر مایوس نہیں تھی۔ امریکی سپریم کورٹ کے 9 جج صاحبان (سوٹومیئر، کگن، گِنز برگ، بریئر، کینڈی، رابرٹس، سکالیا، آلیٹو اور تھامس) اس مقدمے کی سماعت کر رہے تھے۔ امریکا بھر کے تیس لاکھ مسلمانوں کی نظریں اس کیس پر مرتکز تھیں کہ اس کا کوئی بھی فیصلہ، مثبت یامنفی، امریکی مسلمانوں کے بچوں کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا تھا۔ سمانتھا ایلاف کا کہنا تھا: ’’مَیں امریکا میں مسلمان والدین کے ہاں پیدا ہوئی۔ امریکا میرا وطن اور میرا گھر ہے۔ مَیں تو ہمیشہ سے اس خیال پر یقینِ کامل رکھتی رہی ہوں کہ مَیں بھی دوسرے امریکیوں کی طرح ہوں۔ برابر کے حقوق کی مالک اور مساوی سلوک کی حقدار۔ آبرکرومبی اینڈ فٹش اسٹور نے مگر مذہب اور میرے حُلیے و لباس کی بنیاد پر ہی مجھے نوکری دینے سے انکار نہیں کیا بلکہ میری توہین بھی کی ہے۔

یہ امریکی آئین، جو ہر امریکی شہری کو برابر کے حقوق عطا کرتا ہے، کی خلاف ورزی ہے ۔مقدمہ سننے والے 9 ججوں میں تین خواتین بھی تھیں اور اکثریتی سفید فام تھے۔ یکم جون 2015ء کی سہ پہر اس مشہور مقدمے، جس کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا، کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ آٹھ ججوں نے متفقہ طور پر سمانتھا ایلاف کے حق میں فیصلہ سنا کر مسلمانانِ امریکا کو خورسند اور مطمئن کر دیا۔ ایک جج مسٹر تھامس، جو سیاہ فام بھی ہے، نے اختلافی نوٹ لکھا۔ فیصلہ سات صفحات پر مشتمل ہے۔ جسٹس سکالیا اور جسٹس آلیٹو نے نہ صرف مسلمان سمانتھا کے حق میں فیصلہ کیا ہے بلکہ اسٹور کے مالکان کو بیس ہزار ڈالر (جو پاکستان میں تقریباً بائیس لاکھ روپے بنتے ہیں) کا جرمانہ بھی سنایا ہے۔ یہ بیس ہزار ڈالر سمانتھا ایلاف کو دیے گئے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے امریکی تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں کا مستقبل محفوظ کر دیا ہے۔ امریکا بھر میں آیندہ کوئی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ کسی مسلمان کو محض اس کے مسلمان ہونے یا اس کی مذہبی روایات یا اس کے لباس کی بنیاد پر ملازمت دینے سے انکار نہیں کر سکے گا۔

رواں سال ہی، مارچ کے مہینے میں امریکی مسلمان بچوں کے حق میں ایک شاندار اور یادگار فیصلہ سامنے آیا تھا۔ چار مارچ 2015ء کو نیویارک، جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی امریکی ریاست ہے، میں اسکولوں میں زیرِ تعلیم مسلمان بچوں کو یہ حق عطا کیا گیا کہ وہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے لیے دو سرکاری چھٹیاں کر سکتے ہیں۔ یہ مستحسن فیصلہ نیویارک کے مئیر جناب بِل ڈی بلازیو (Bill De Blasio) نے کیا اور نیویارک میں بسنے والے جملہ مسلمانوں کے دل جیت لیے۔ اس سے قبل عیدین کے مواقع پر بھی مسلمان بچوں کو اسکول جانا پڑتا تھا مگر چار مارچ کے تاریخی فیصلے نے نیویارک کے مسلمان والدین کے سرپر پڑا ایک بوجھ ہٹا دیا ہے۔ ہمیشہ کے لیے۔ مئیر بِل ڈی بلازیو کے اس فیصلے پر نیویارک کے مسلمانوں نے ان کے دفتر جا کر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ امریکی مسلمانوں کی نمایندہ تنظیم ’’کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز‘‘ (CAIR) کے ترجمان ابراہیم ہُوپر نے اس سلسلے میں ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کو جو انٹرویو دیا، اس کے لفظ لفظ سے شکریے کے جذبات ٹپکتے ہیں۔ ’’اِکنا‘‘ یعنی ’’اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا‘‘ (ICNA) نے بھی اس سلسلے میں خاصی جدوجہد کی ہے۔

یہ دونوں فیصلے اس امر کے بھی غماز ہیں کہ امریکی مسلمانوں کی قدر و قیمت اور اہمیت، رفتہ رفتہ، تسلیم کی جا رہی ہے۔ اب یہ امریکی مسلمانوں پر منحصر ہے کہ وہ دینِ اسلام کا خوبصورت اور امن پسند چہرہ دکھانے کی کہاں تک اور کتنی کوششیں کرتے ہیں اور خود کو بھی ایک امن پسند اور باوفا شہری کیسے ثابت کرتے ہیں۔ انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔

نوٹ: ابھی یہ کالم لکھا ہی تھا کہ 6 جون 2015ء کو بھارت سے ایک خبر آ گئی۔ بتایا گیا ہے کہ کولکتہ میں ایک مسلمان کو محض ڈاڑھی رکھنے کی بِنا پر نوکری سے نکال دیا گیا۔ جنوبی کولکتہ میں مقیم محمد علی اسماعیل کو ڈاڑھی رکھنے پر آدھونک گروپ آف انڈسٹریز کی انتظامیہ نے جنرل منیجر کے عہدے سے یہ کہہ کر ہٹا دیا کہ تم ڈاڑھی رکھنے والے مسلمان دہشت گرد ہوتے ہو۔ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ اگر ایسا واقعہ امریکا یا کسی مغربی ملک میں پیش آیا ہوتا تو اب تک وہاں طوفان آ چکا ہوتا۔ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے مشرقی ممالک اور سیکولر بنیادوں پر بروئے کار آنے والے مغرب کے دیانتدار ممالک میں سماجی سطح پر سب سے بڑا فرق یہی ہے۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند